علمائے آخرت کی بارہ علامات

پہلی قسط:

امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی ؒ(ولادت:۴۵۰ھ -وفات:۵۰۵ھ)

مترجم: حضرت مولانا زکریا صاحب کاندھلوی ثم المدنیؒ  (شیخ الحدیث مدرسہ عربی مظاہر علوم، سہارن پور )

حسب ایما: مفتی مجد و القدوس رومی صاحب

            امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو عالم دنیا دار ہو، وہ احوال کے اعتبار سے جاہل سے زیادہ کمینہ ہے اور عذاب کے اعتبار سے زیادہ سختی میں مبتلا ہو گا اور کامیاب اور اللہ تعالیٰ کے یہاں مقرب علمائے آخرت ہیں، جن کی چند علامتیں ہیں:

پہلی علامت:

            اپنےعلم سے دنیانہ کماتا ہو۔عالم کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ دنیا کی حقارت کا، اس کے کمینہ پن کا، اس کے مکدر ہونے گا، اس کے جلد ختم ہوجانے کا، اس کواحساس ہو۔ آخرت کی عظمت، اس کا ہمیشہ رہنا، اس کی نعمتوں کی عمدگی کااحساس ہو۔

             اوریہ بات اچھی طرح جانتا ہو کہ دنیا اورآخرت دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دوسوکنوں کی طرح ہیں، جونسی ایک کو راضی کرے گا، دوسری خفا ہو جائے گی۔ یہ دونوں ترازو کے دوپلڑوں کی طرح سے ہیں، جونسا ایک پلڑا جھکے گا، دوسراہلکا ہو جائے گا۔ دونوں میں مشرق، مغرب کا فرق ہے، جو نسے ایک سے توقریب ہوگا، دوسرے سے دورہو جائے گا۔

            جو شخص دنیا کی حقارت کا، اس کے گدلے پن کا اوراس بات کا احساس نہیں کرتا کہ دنیا کی لذتیں دونوں جہان کی تکلیفوں کے ساتھ منظم ہیں، وہ فاسد العقل ہے۔

            مشاہدہ اورتجربہ ان باتوں کا شاہد ہے کہ دنیا کی لذتوں میں دنیا کی بھی تکلیف ہے اور آخرت کی تکلیف تو ہے ہی۔ پس جس شخص کوعقل ہی نہیں، وہ عالم کیسے ہو سکتا ہے؛ بل کہ جو شخص آخرت کی بڑائی اوراس کے ہمیشہ رہنے کو بھی نہیں جانتا ہے، وہ تو کافر ہے۔ ایسا شخص کیسےعالم ہوسکتا ہے، جس کوایمان بھی نصیب نہ ہو؟

            اور جو شخص دنیا اورآخرت کا ایک دوسرے کی ضد ہونے کو نہیں جانتا اوردونوں کے درمیان جمع کرنے کی طمع میں ہے، وہ ایسی چیز میں طمع کررہا ہے، جو طمع کرنے کی چیز نہیں ہے۔

             وہ شخص تمام انبیا علیہم السلام کی شریعت سے ناواقف ہے۔

            اور جو شخص ان سب چیزوں کو جاننے کے باوجود دنیا کو ترجیح دیتا ہے، وہ شیطان کا قیدی ہے، جس کوشہوتوں نے ہلاک کررکھا ہے اور بد بختی اس پرغالب ہے، جس کی یہ حالت ہو، وہ علما میں کیسے شمار ہو گا؟

            حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالی کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جوعالم دنیا کی خواہش کومیری محبت پرترجیح دیتا ہے، اس کے ساتھ ادنی سے ادنی معاملہ، میں یہ کرتا ہوں کہ اپنی مناجات کی لذت سے اس کو محروم کر دیتا ہوں (کہ میری یاد میں، میری دعا میں، اس کو لذت نہیں آتی)۔

            اے داؤد! ایسے عالم کا حال نہ پوچھ، جس کو دنیا کا نشہ سوارہو کہ میری محبت سے تجھ کو دور کر دے۔ ایسے لوگ ڈاکو ہیں۔ اے داؤد! جب تو کسی کومیراطالب دیکھے، تواس کا خادم بن جا۔ اے داؤد! جوشخص بھاگ کرمیری طرف آتا ہے، میں اس کو جہبذ (حاذق، سمجھدار) لکھ دیتا ہوں اورجس کو جہبذلکھ دیتا ہوں، اس کو عذاب نہیں کرتا۔

            یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ علم و حکمت سے جب دنیا طلب کی جائے، توان کی رونق جاتی رہتی ہے۔

            سعید بن المسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ

            ’’ جب کسی عالم کو دیکھو کہ امرا کے یہاں پڑا رہتا ہے، تو اس کو چور سمجھو۔‘‘

            اور حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس عالم کو دنیا سے محبت رکھنے والا دیکھو، اپنے دین کے بارے میں اس کو متَّہم سمجھو، اس لیے کہ جس شخص کو جس سے محبت ہوتی ہے، اس میں گھسا کرتا ہے۔

            ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ جس کوگناہ میں لذت آتی ہو، وہ اللہ کا عارف ہوسکتا ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اس میں ذراتردو نہیں کہ جو شخص دنیا کوآخرت پرترجیح دے، وہ عارف نہیں ہو سکتا اور گناہ کرنے کا درجہ تو اس سے بہت زیادہ ہے۔

            اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ صرف مال کی محبت نہ ہونے سے آخرت کا عالِم نہیں ہوتا، جاہ کا درجہ اوراس کا نقصان مال سے بھی بڑھا ہوا ہے یعنی جتنی وعیدیں اوپردنیا کے ترجیح دینے کی اوراس کی طلب کی، گذری ہیں، ان میں صرف مال کمانا ہی داخل نہیں؛ بل کہ جاوکی طلب مال کی طلب کی بہ نسبت زیادہ داخل ہے، اس لیے کہ جاہ طلبی کا نقصان اوراس کی مضرت مال طلبی سے بھی زیادہ سخت ہے۔

دوسری علامت:

            دوسری علامت یہ ہے کہ اس کے قول و فعل میں تعارض نہ ہو۔ دوسروں کوخیر کا حکم کرے اور خود اس پرعمل نہ کرے۔

حق تعالی شانہ کا ارشاد ہے:

            { أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ}

             کیا غضب ہے کہ دوسروں کو نیک کام کرنے کو کہتے ہو اوراپنی خبر نہیں لیتے، حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہوکتاب کی۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

            {کَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ}

            اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ ایسی بات کہو، جو کرو نہیں۔

            حاتم اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اس عالم سے زیادہ حسرت والا کوئی نہ ہو گا، جس کی وجہ سے دوسروں نے علم سیکھا اوراس پرعمل کیا۔ وہ تو کامیاب ہو گئے اوروہ خود عمل نہ کرنے کی وجہ سے ناکام رہا۔

            ابن سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں: کتنے شخص ایسے ہیں، جو دوسروں کواللہ تعالیٰ کی یاد دلاتے ہیں، خود اللہ تعالی کو بھولتے ہیں۔ دوسروں کواللہ تعالیٰ سے ڈراتے ہیں، خود اللہ تعالیٰ پرجرأت کرتے ہیں۔ دوسروں کواللہ تعالیٰ کا مقرب بناتے ہیں، خوداللہ تعالیٰ سے دور ہیں۔ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں، خود اللہ تعالیٰ سے بھاگتے ہیں۔

            حضرت عبد الرحمن بن غنم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ مضمون بیان کیا کہ ہم لوگ قبا کی مسجد میں بیٹھے ہوئے علم حاصل کر رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ جتنا چاہے علم حاصل کر لو، اللہ تعالیٰ کے یہاں سے اجربغیرعمل کے، نہیں ملتا۔

تیسری علامت:

            تیسری علامت یہ ہے کہ ایسے علوم میں مشغول ہو، جو آخرت میں کام آنے والے ہوں، نیک کاموں میں رغبت پیدا کرنے والے ہوں۔ ایسے علوم سے احتراز کرے، جن کا آخرت میں کوئی نفع نہیں ہے یا نفع کم ہے۔

            ہم لوگ اپنی نادانی سے ان کو بھی علم کہتے ہیں، جن سے صرف دنیا کمانا مقصود ہو؛ حالانکہ وہ جہل مرکّب ہے کہ ایسا شخص اپنے کوپڑھا، لکھا سمجھنے لگتا ہے، پھراس کو دین کے علوم سیکھنے کا اہتمام بھی نہیں رہتا۔

            جو شخص کچھ بھی پڑھا ہوانہ ہو، وہ کم سے کم اپنے آپ کوجاہل تو سمجھتا ہے، دین کی باتیں معلوم کرنے کی کوشش تو کرتا ہے؛ مگر جواپنی جہالت کے باوجود اپنے کوعالم سمجھنے لگے، وہ بڑے نقصان میں ہے۔

            حاتم اصم رحمہ اللہ جو مشہور بزرگ اور حضرت شفیق بلخی رحمہ اللہ کے خاص شاگرد ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ حضرت شیخ نے دریافت کیا کہ حاتم کتنے دن سے تم میرے ساتھ ہو؟ انھوں نےعرض کیا: تینتیس (۳۳) برس سے۔ فرمانے لگے کہ اتنے دنوں میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟ حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا: آٹھ مسئلے سیکھے ہیں۔ حضرت شقیق رحمہ اللہ نے فرمایا: ان اللّٰہ و انا الیہ راجعون، اتنی طویل مدت میں صرف آٹھ مسئلے سیکھے۔ میری توعمر ہی تمہارے ساتھ ضائع ہو گئی۔ حاتم رحمہ اللہ نےعرض کیا: حضور! صرف آٹھ ہی سیکھے ہیں۔ جھوٹ توبول نہیں سکتا۔ حضرت شقیق رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اچھا بتاؤ! وہ آٹھ مسئلے کیا ہیں؟

حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا:

(الف) نیکیوں سے محبت:

            میں نے دیکھا کہ ساری مخلوق کوکسی نہ کسی سے محبت ہے (بیوی سے، اولاد سے، مال سے، احباب سے وغیرہ وغیرہ)؛ لیکن میں نے دیکھا کہ جب وہ قبر میں جاتا ہے، تو اس کا محبوب اُس سے جدا ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے نیکیوں سے محبت کر لی؛ تا کہ جب میں قبر میں جاؤں، تومیرا محبوب بھی ساتھ ہی جائے اورمرنے کے بعد بھی مجھ سے جدا نہ ہو۔ حضرت شقیق رحمہ اللہ نے فرمایا: بہت اچھا کیا۔

(ب) نفس کو حرام خواہشات سے روکنا:

            میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد قرآن پاک میں دیکھا:

            {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی فَإِنَّ الْجَنَّةَ ہِیَ الْمَأْوَی}(النزعت:۴۰-۴۱)

             اور جو شخص (دنیا میں) اپنے رب کے سامنے (آخرت میں) کھڑا ہونے سے ڈرا ہو گا اورنفس کو (حرام) خواہش سے روکا ہو گا، تو جنت اس کا ٹھکانا ہو گا۔

            میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد حق ہے۔ میں نے اپنے نفس کوخواہشات سے روکا؛ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر جم گیا۔

(ج) صدقہ کو آخرت میں جمع کرنا:

            میں نے دنیا کو دیکھا کہ ہرشخص کے نزدیک جو چیز بہت قیمتی ہوتی ہے، بہت محبوب ہوتی ہے، وہ اس کو اٹھا کربڑی میں احتیاط سے رکھتا ہے، اُس کی حفاظت کرتا ہے۔

پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد دیکھا:

            {مَا عِندَکُمْ یَنفَدُ وَمَا عِندَ اللّٰہِ بَاقٍ}(النحل:۹۶)

            جو کچھ تمہارے پاس دنیا میں ہے، وہ ختم ہو جائے گا خواہ وہ جا تا رہے یا تم مرجاؤ، ہر حال میں وہ ختم ہو گا) اورجواللہ تعالی کے پاس ہے، وہ ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے۔

             اس آیت شریفہ کی وجہ سے جو چیز بھی میرے پاس ایسی کبھی ہوئی، جس کی مجھے وقعت زیادہ ہوئی، وہ پسند زیادہ آئی، وہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پاس بھیج دی؛ تا کہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔

(د) تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالی کے نزدیک شریف بننا:

            میں نے ساری دنیا کو دیکھا: کوئی شخص مال کی طرف (اپنی عزت اور بڑائی میں) لوٹتا ہے، کوئی حسَب کی شرافت کی طرف، کوئی اور فخر کی چیزوں کی طرف یعنی ان چیزوں کے ذریعہ سے اپنے اندر بڑائی پیدا کرتا ہے اور اپنی بڑائی ظاہر کرتا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد دیکھا:

            {إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ}(الحجرات: ۱۳)

            اللہ تعالی کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے، جو سب سے زیادہ پرہیزگارہو۔

اس بنا پرمیں نے تقویٰ اختیار کرلیا؛ تاکہ اللہ جل شانہ کے نزدیک شریف بن جاؤں۔

(ھ) کسی پر حسد نہ کرنا:

            میں نے لوگوں کودیکھا کہ ایک دوسرے پرطعن کرتے ہیں، عیب جوئی کرتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں اور یہ سب کا سب حسد کی وجہ سے ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے پر حسد آتا ہے۔

            میں نے اللہ تعالیٰ شانہ کا ارشاد دیکھا:

            {نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُم مَّعِیشَتَہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضًا سُخْرِیًّا} (الزخرف: ۳۲)

            دنیوی زندگی میں ان کی روزی ہم نے ہی تقسیم کررکھی ہے اور (اس تقسیم میں) ہم نے ایک کودوسرے پر فوقیت دے رکھی ہے تاکہ (اس کی وجہ سے) ایک دوسرے سے کام لیتار ہے (سب کے سب برابر، ایک ہی نمونہ کے بن جائیں، توپھرکوئی کسی کا کام کیوں کرے، کیوں نوکری کرے اور اس سے دنیا کا نظام خراب ہو ہی جائے گا)۔

            میں نے اس آیت شریفہ کی وجہ سے حسد کرنا چھوڑدیا۔ ساری مخلوق سے بے تعلق ہو گیا اور میں نے جان لیا کہ روزی کا بانٹنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے۔ وہ جس کے حصہ میں جتنا چاہے، لگائے۔ اس لیے لوگوں کی عداوت چھوڑدی اوریہ سمجھ لیا کہ کسی کے پاس مال کے زیادہ یا کم ہونے میں ان کے فعل کو زیادہ دخل نہیں ہے۔ یہ تو مالک الملک کی طرف سے ہے، اس لیے اب کسی پرغصہ ہی نہیں آتا۔

(و) شیطان کو اپنا دشمن رکھنا:

            میں نے دنیا میں دیکھا کہ تقریبا ہرشخص کی کسی نہ کسی سے لڑائی ہے، کسی نہ کسی سے دشمنی ہے۔ میں نے غورکیا، تو دیکھا کہ حق تعالی شانہ نے فرمایا:

            {إِنَّ الشَّیْطَنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوہُ عَدُوٌّا }(فاطر: ۶)

            شیطان بے شبہ تمہارا دشمن ہے، پس اس کے ساتھ دشمنی ہی رکھو اس کو دوست نہ بنائی۔

پس میں نے اپنی دشمنی کے لیے اسی کو چن لیا اوراس سے دوررہنے کی انتہائی کوشش کرتا ہوں۔

            اس لیے کہ جب حق تعالیٰ شانہ نے اس کے دشمن ہونے کو فرما دیا، تو میں نے اُس کے علاوہ سے اپنی دشمنی ہٹالی۔

(ز) روزی لے لیے صرف اللہ تعالی پر بھروسہ رکھنا:

            میں نے دیکھا کہ ساری مخلوق روٹی کی طلب میں لگ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ذلیل کرتی ہے اور ناجائز چیزیں اختیار کرتی ہے۔ پھر میں نے دیکھا، تواللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:

            {وَمَا مِن دَابَّةٍ فِی الْأَرْضِ إِلَّا عَلَی اللَّہِ رِزْقُہَا}(ہود: ۶)

             اور کوئی جاندارزمین پرچلنے والا ایسا نہیں ہے، جس کی روزی اللہ تعالٰی کے ذمہ نہ ہو۔

            میں نے دیکھا کہ میں بھی انہیں زمین پرچلنے والوں میں سے ایک ہوں، جن کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ پس میں نے اپنے اوقات ان چیزوں میں مشغول کر لیے، جو مجھ پراللہ تعالیٰ کی طرف سےلازم ہیں اورجوچیزاللہ تعالی کے ذمہ تھی، اُس سے اپنے اوقات کو فارغ کر لیا۔

(ح) خالق پر تو کل اور بھروسہ رکھنا:

            میں نے دیکھا کہ ساری مخلوق کا اعتماد اوربھروسہ کسی خاص ایسی چیز پرہے، جو خود مخلوق ہے۔ کوئی اپنی جائداد پربھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنی تجارت پراعتماد کرتا ہے، کوئی اپنی دستکاری پرنگاہ جمائے ہوئے ہے، کوئی اپنے بدن کی صحت اورقوت پر (کہ جب چاہے، جس طرح چاہے، کمالوں گا) اورساری مخلوق ایسی چیزوں پراعتماد کیے ہوئے ہے، جو ان کی طرح خود مخلوق ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

            {وَمَن یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُه}(الطلاق: ۳)

             جو شخص اللہ تعالی پرتوکل (اوراعتمادکرتا ہے، پس اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے۔

            اس لیے میں نے بس اللہ تعالیٰ پرتوکل اوربھروسہ کر لیا۔

            حضرت شقیق رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حاتم! تمہیں حق تعالی شانہ توفیق عطا فرمائے۔ میں نے توراۃ، انجیل، زبوراور قرآن عظیم کے علوم کو دیکھا، میں نے سارے خیر کے کام ان ہی آٹھ مسائل کے اندر پائے۔ پس جوان آٹھوں پر عمل کر لے، اس نے اللہ تعالیٰ شانہ کی چاروں کتابوں کے مضامین پرعمل کر لیا۔

            اس قسم کے علوم کو علمائے آخرت ہی پاسکتے ہیں اوردنیادارعالم تو مال اورجاہ کے ہی حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

چوتھی علامت:

            چوتھی علامت آخرت کے علما کی یہ ہے کہ کھانے پینے کی اورلباس کی عمدگیوں اوربہترائیوں کی طرف متوجہ نہ ہو؛بل کہ ان چیزوں میں درمیانی رفتار اختیار کرے اور بزرگوں کے طرز کواختیارکرے۔ ان چیزوں میں جتنا کمی کی طرف اس کامیلان بڑھے گا، اللہ تعالیٰ شانہ سے اتناہی اس کا قرب بڑھتا جائے گا اورعلمائے آخرت میں اتنا ہی اس کا درجہ بلند ہوتا جائے گا۔

            انہیں شیخ حاتم رحمہ اللہ کا ایک عجیب قصہ، جس کو شیخ ابوعبداللہ خواص رحمہ اللہ، جو شیخ حاتم رحمہ اللہ کے شاگردوں میں ہیں، نقل کرتے ہیں۔

            وہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت شیخ حاتم رحمہ اللہ کے ساتھ موضع رَیْ میں، جو ایک جگہ کا نام ہے، گیا۔ تین سو بیس (۳۲۰) آدمی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم حج کے ارادہ سے جا رہے تھے۔ سب متوکلین کی جماعت تھی۔ ان لوگوں کے پاس توشہ، سامان وغیرہ کچھ نہ تھا۔

            رَیْ میں ایک معمولی خشک مزاج تاجر پرہمارا گزرہوا۔ اس نے سارے قافلہ کی دعوت کر دی اور ہماری ایک رات کی مہمانی کی۔ دوسرے دن صبح کو وہ میزبان حضرت حاتم رحمہ اللہ سے کہنے لگا کہ یہاں ایک عالم بیمار ہیں۔ مجھے ان کی عیادت کواِس وقت جانا ہے۔ اگر آپ کی رغبت ہو، تو آپ بھی چلیں۔ حضرت حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بیمار کی عیادت تو ثواب ہے اورعالم کی توزیارت بھی عبادت ہے۔ میں ضرورتمہارے ساتھ چلوں گا۔

            یہ بیمار عالم اس موضع کے قاضی، شیخ محمد بن مقاتل رحمہ اللہ تھے۔ جب ان کے مکان پر پہنچے، تو حضرت حاتم رحمہ اللہ سوچ میں پڑ گئے کہ اللہ اکبر! ایک عالم کا مکان اورایسا اونچا محل۔ غرض ہم نے حاضری کی اجازت منگائی اور جب اندرداخل ہوئے، تو وہ اندر سے بھی نہایت خوشنما، نہایت وسیع، پاکیزہ، جگہ جگہ پردے لٹک رہے۔ حضرت حاتم رحمہ اللہ ان سب چیزوں کودیکھ رہے تھے اورسوچ میں پڑے ہوئے تھے۔

            اتنے میں ہم قاضی صاحب کے قریب پہنچے، تو وہ ایک نہایت نرم بسترے پر آرام کر رہے تھے۔ ایک غلام ان کے سرہانے پنکھا جھل رہے تھے۔ وہ تاجر تو سلام کرکے ان کے پاس بیٹھ گئے اورمزاج پرسی کی۔ حاتم رحمہ اللہ کھڑے رہے۔ قاضی صاحب نے ان کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔

            قاضی صاحب نے پوچھا آپ کو کچھ کہنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ قاضی صاحب نے فرمایا: کہو! انہوں نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں (غلاموں نے قاضی صاحب کو سہارا دے کراٹھایا کہ خود اٹھنا مشکل تھا)، وہ بیٹھ گئے۔

            حضرت حاتم رحمہ اللہ نے پوچھا کہ آپ نے علم کس سے حاصل کیا؟ انہوں نے فرمایا: معتبر علما سے۔ انہوں نے پوچھا کہ ان علما نے کس سے سیکھا تھا؟ قاضی صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے۔ حضرت حاتم رحمہ اللہ نے پوچھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کس سے سیکھا تھا؟ قاضی صاحب: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حضرت حاتم رحمہ اللہ: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کس سے سیکھا تھا؟ قاضی صاحب: حضرت جبرئیل علیہ السلام سے۔ حضرت حاتم رحمہ اللہ: حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کس سے سیکھا تھا؟ قاضی صاحب: اللہ تعالیٰ شانہ ہے۔

            حضرت حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جوعلم حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حق تعالی شانہ سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کوعطا فرمایا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے معتبر علما کو اوران کے ذریعہ سے آپ تک پہنچا۔ اس میں کہیں یہ بھی وارد ہے کہ جس شخص کا جس قدرمکان اونچا اور بڑا ہو گا، اس کا اتنا ہی درجہ اللہ جل شانہ کے یہاں بھی زیادہ ہو گا؟

            قاضی صاحب نے فرمایا کہ نہیں، یہ اس علم میں نہیں آیا۔

            حضرت حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر یہ نہیں آیا، تو پھر اس علم میں کیا آیا ہے؟

            قاضی صاحب نے فرمایا کہ اس میں یہ آیا ہے کہ جو شخص دنیا سے بے رغبت ہو، آخرت میں رغبت رکھتا ہو، فقرا کو محبوب رکھتا ہو، اپنی آخرت کے لیے اللہ کے یہاں ذخیرہ بھیجتارہتا ہو، وہ شخص حق تعالی شانہ کے یہاں صاحبِ مرتبہ ہے۔

            حضرت حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پھر آپ نے کس کا اتباع اور پیروی کی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی، متقی علما کی یا فرعون اور نمرود کی؟ اے بُرے عالمو! تم جیسوں کو جاہل دنیا دار جو دنیا کے اوپراوندھے گرنے والے ہیں، دیکھ کریہ کہتے ہیں کہ جب عالموں کا یہ حال ہے، تو ہم توان سے زیادہ برے ہوں گے ہی۔

            یہ کہہ کرحضرت حاتم رحمہ اللہ تو واپس چلے گئے اورقاضی صاحب کے مرض میں اس گفتگو اورنصیحت کی وجہ سے اور بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔

            لوگوں میں اس کا چرچا ہوا، تو کسی نے حضرت حاتم رحمہ اللہ سے کہا کہ طنافسی جو قزوین میں رہتے ہیں (قزوین رَیْ سے ستائیس (۲۷) فرسخ یعنی اکیاسی (۸۱) میل ہے) وہ ان سے بھی زیادہ رئیسانہ شان سے رہتے ہیں۔

            حضرت حاتم رحمہ اللہ (ان کو نصیحت کرنے کے ارادہ سے چل دیئے) جب ان کے پاس پہنچے، تو کہا کہ ایک عجمی آدمی ہے (جوعرب کا رہنے والا نہیں ہے) آپ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ اس کو دین کی بالکل ابتدا سے یعنی نماز کی کنجی، وضو سے تعلیم دیں۔

            طنافسی رحمہ اللہ نے کہا: بڑے شوق سے۔ یہ کہہ کرطنافسی رحمہ اللہ نے وضو کا پانی منگایا اورطنافسی رحمہ اللہ نے وضو کر کے بتایا کہ اس طرح وضو کی جاتی ہے۔

            حضرت حاتم رحمہ اللہ نے ان کی وضو کے بعد کہا کہ میں آپ کے سامنے وضو کرلوں؛ تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے؟

            طنافسی رحمہ اللہ وضو کی جگہ سے اُٹھ گئے اور حضرت حاتم رحمہ اللہ نے بیٹھ کروضو کر نا شروع کیا اوردونوں ہاتھوں کوچارچارمرتبہ دھویا۔

            طنافسی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ اسراف ہے۔ تین تین مرتبہ دھونا چاہیے۔

حضرت حاتم رحمہ اللہ نے کہا: سبحان اللہ العظیم! میرے ایک چلو پانی میں تواسراف ہوگیا اوریہ سب کچھ جوسازوسامان میں تمہارے پاس دیکھ رہا ہوں، اس میں اسراف نہ ہوا؟

            جب طنافسی رحمہ اللہ کو خیال ہوا کہ ان کا مقصد سیکھنا نہیں تھا؛بل کہ یہ غرض تھی۔ اس کے بعد جب بغداد پہنچے اورحضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو ان کے احوال کاعلم ہوا، تو وہ ان سے ملنے کے لیے تشریف لائے اوران سے دریافت فرمایا کہ دنیا سے سلامتی کی کیا تدبیر ہے؟

            حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دنیا سے اس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتے، جب تک تم میں چار چیزیں نہ ہوں:

            (۱)… لوگوں کی جہالت سے درگذر کرتے رہو۔

            (۲)… خود ان کے ساتھ کوئی حرکت جہالت کی نہ کرو۔

            (۳)… تمہارے پاس جو چیز ہو، ان پر خرچ کر دو۔

            (۴)… ان کے پاس جو چیز ہو، اس کی امید نہ رکھو۔

            اُس کے بعد جب حضرت حاتم رحمہ اللہ مدینہ منورہ پہنچے، تو وہاں کے لوگ خبر سن کر ان کے پاس ملنے کے لیے جمع ہو گئے۔

            انہوں نے دریافت فرمایا کہ یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا شہر ہے۔

کہنے لگے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محل کو نسا تھا، میں بھی وہاں جا کر دو گانہ ادا کروں؟ لوگوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تو محل نہیں تھا۔ بہت مختصرمکان تھا، جو بہت نیچا تھا۔

            کہنے لگے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے محل کہاں کہاں ہیں، مجھے وہی دکھا دو؟ لوگوں نے کہا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بھی محل نہیں تھے۔ ان کے بھی چھوٹے چھوٹے مکانات زمین سے لگے ہوئے تھے۔

حاتم رحمہ اللہ نے کہا: پھر یہ تو شہر فرعون کا شہر ہے۔

            لوگوں نے ان کو پکڑ لیا کہ یہ شخص مدینہ منورہ کی توہین کرتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کو فرعون کا شہر بتاتا ہے اور پکڑ کر امیر مدینہ کے پاس لے گئے کہ یہ عجمی شخص مدینہ طیبہ کو فرعون کا شہر بتاتا ہے۔

            امیر نے ان سے مطالبہ کیا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: آپ جلدی نہ کریں۔ پوری بات سن لیں۔ میں ایک عجمی آدمی ہوں۔ میں جب اس شہر میں داخل ہوا، تو میں نے پوچھا کہ کس کا شہر ہے؟

            پھر پورا قصہ اپنے سوال و جواب کا سنا کرکہا کہ اللہ تعالی نے تو قرآن شریف میں یہ فرمایا ہے:

            {لَّقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَةٌ لِمَن کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیرًا.}(الاحزاب: ۲۱)

            ’’تم لوگوں کے واسطے یعنی ایسے شخص کے لیے جواللہ سے اور آخرت کے دن سے ڈرتا ہو اورکثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو (یعنی کامل مؤمن ہو۔ غرض ایسے شخص کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے (یعنی ہر بات میں یہ دیکھنا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کیا معمول تھا اوراس کا اتباع کرنا چاہیے)۔‘‘

            پس اب تم ہی بتاؤ کہ تم نے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کررکھا ہے یا فرعون کا؟

            اس پر لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا۔

            یہاں ایک بات یہ قابلِ لحاظ ہے کہ مباح چیزوں کے ساتھ لذت حاصل کرنا یا ان کی وسعت حرام یا ناجائز نہیں ہے؟ لیکن یہ ضروری ہے کہ ان کی کثرت سے ان چیزوں کے ساتھ اُنس پیدا ہوتا ہے، ان چیزوں کی محبت دل میں ہو جاتی ہے اور پھر اس کا چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے اوران کے فراہم کرنے کے لیے اسباب تلاش کرنا پڑتے ہیں۔

            پیداواراورآمدنی کے بڑھانے کی فکر ہوتی ہے اور جو شخص روپیہ بڑھانے کی فکر میں لگ جاتا ہے، اُس کو دین کے بارے میں مداہنت بھی کرنی پڑتی ہے۔ اس میں بسا اوقات گناہوں کے مرتکب ہونے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔

            اگر دنیا میں گھسنے کے بعد اس سے محفوظ رہنا آسان ہوتا، تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم اتنے اہتمام  سے دنیا سے بے رغبتی پر تنبیہ نہ فرماتے اور اتنی شدت سے اُس سے خود نہ بچتے کہ نقشین گرتا بھی بدن مبارک پر سے اتار دیا۔

            یحی بن یزید نو فلی رحمہ اللہ نے حضرت امام مالک رحمہ اللہ کو ایک خط لکھا، جس میں حمد و صلوٰۃ کے بعد لکھا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ باریک کپڑا پہنتے ہیں اورپتلی روٹی استعمال کرتے ہیں اورنرم بستر پر آرام کرتے ہیں۔ دربان بھی آپ نے مقررکر رکھا ہے؛ حالانکہ آپ اونچے علما میں ہیں۔ دور دور سے لوگ سفر کر کے آپ کے پاس علم سیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ آپ امام ہیں۔ مقتدا ہیں۔ لوگ آپ کا اتباع کرتے ہیں۔ آپ کو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ محض مخلصانہ یہ خط لکھ رہا ہوں۔ اللہ کے سوا کسی دوسرے کواس خط کی خبر نہیں۔ فقط والسلام

            حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے اس کا جواب تحریر فرمایا کہ تمہارا خط پہنچا، جومیرے لیے نصیحت نامہ، شفقت نامہ اورتنبیہ تھی۔

            حق تعالیٰ شانہ تقویٰ کے ساتھ تمہیں منتفع فرمائے اوراس نصیحت کی جزائے خیرعطا فرمائے اور مجھے حق تعالیٰ شانہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ خوبیوں پرعمل اوربرائیوں سے بچنا اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ہو سکتا ہے۔

            جو امور تم نے ذکر کیے، یہ صحیح ہیں۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے (لیکن یہ سب چیزیں جائز ہیں) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

            {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللَّہِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ }(الأعراف: ۳۲)

            ’’آپ یہ کہہ دیجیے کہ (یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی زینت (کپڑوں وغیرہ) کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے پیدا کیا اورکھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس نے

حرام کیا ہے؟‘‘

            اس کے بعد تحریرفرمایا کہ یہ میں خوب جانتا ہوں کہ ان امورکا اختیار نہ کرنا اختیار کرنے سے اولیٰ اوربہتر ہے۔ آئندہ بھی اپنے گرامی ناموں سے مجھے مشرف کرتے رہیں۔ میں بھی خط لکھتار ہوں گا۔ فقط والسلام

            کتنی لطیف بات امام مالک رحمہ اللہ نے اختیار فرمائی کہ جواز کا فتویٰ بھی تحریرفرما دیا اوراس کا اقرار بھی فرمالیا کہ واقعی زیادہ بہتران امورکا ترک ہی تھا۔

(جاری…………)