علاج الغم والحزن (یعنی) پریشانی کا علاج

مرتبہ: محی السنۃ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ بانی مجلس دعوۃ الحق و مدرسہ اشرف المدارس ہر دوئی

            دنیا ایک پریشانی وغم کا نام ہے۔ دنیا میں رہ کرکسی نہ کسی طرح کی فکر اورپریشانی ضرورلاحق ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کی کوشش کرنا کہ کسی قسم کی تکلیف یا غم کی بات لاحق نہ ہو یہ بیکار ہے؛ البتہ یہ ضرورہو سکتا ہے کہ پریشانی وغم کی بات سے جو اثر ہوتا ہے اس سے انسان محفوظ ہو جاوے یعنی پریشانی کی بات ظاہرہو، مگراس کوپریشانی نہ ہو یہ بات صرف دو باتوں کے پیش نظررکھنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔

            اول: یہ کہ اللہ تعالیٰ حاکم ہیں ہر قسم کا تصرف بندہ پرفرما سکتے ہیں، جو کچھ ہوتا ہے اس کے حکم سے ہوتا ہے، بغیر اس کے حکم کے ذرہ بھی نہیں ہل سکتا۔

            دوم: یہ کہ اللہ تعالیٰ حکیم بھی ہیں ان کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ،اس میں ضرورمصلحتیں ہوتی ہیں، جن کے جاننے کا انسان نہ مکلف ہے اورنہ ان کا جاننا ضروری ہے۔

            ان دو چیزوں کو ذہن میں باربارسوچنا چاہیے کہ ہر وقت یا خیال کرنے پرفوراً یہ دونوں باتیں سامنے آجا ئیں۔

            اب جب کوئی نا گوارواقعہ پیش آئے تو فوراً سوچیے کہ یہ بحکم خداوندی ہوا، جیسا کہ پہلی بات میں کہا گیا۔ پھر یہ سوچئے کہ اس میں ضرورکوئی مصلحت ہے گو ہم کو علم نہ ہو۔ اس طرح ان شاء اللہ تعالیٰ جسم کو تکلیف کے باوجود دلی پریشانی نہ ہوگی اس کی مثال اس طرح پر ہے کہ عاقل شخص کا آپریشن ہوتا ہے، ہاتھ کٹنے پرتکلیف ضرور ہوتی ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ اس میں میری مصلحت ہے اس لیے وہ ڈاکٹر سے خوش رہتا ہے، اس کو فیس بھی دیتا ہے اور یہی آپریشن نافہم بچہ کا ہو وہ کیوں کہ مصلحت سے واقف نہیں ہوتا اور یہ جانتا نہیں کہ اس میں میری مصلحت ہے اس لیے وہ گالی تک دے دیتا ہے۔

             اس سے معلوم ہوا کہ مصلحت کا خیال سکون بخش ہوتا ہے۔ ان کو بھی اختیار کرے خصوصاً دعا خوب کرے کیوں کہ یہ بڑی مؤثر چیز ہے۔ نیز امورذیل کے اضافہ سے بفضلہ تعالیٰ بہت جلد سکون ہو جاتا ہے۔

            (۱)        نفل نماز کی کثرت کرنا۔

            (۲)        ذکر اللہ کی کثرت چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے کرنا، کسی تعداد کی قید نہیں اور نہ کسی خاص ذکر کی پابندی ہے۔ مثلاً: سُبْحَانَ اللّٰہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰہُ یا درود شریف جو جی چاہے پڑھنا۔

            (۳)        اجرآخرت کا تصوروخیال رکھنا۔ اگرکسی بچے کا انتقال ہو گیا ہو یہ سوچنا کہ یہ قیامت میں شفاعت کرے گا۔

            (۴)        زندوں میں سے جس سے انس ہواس کا تصور وخیال انتقال کرنے والے کی یاد کے وقت رکھنا۔

            (۵)        یَا حَیُّ یَا قَیُّوْم کا ورد کثرت سے رکھنا۔ کم ازکم شب وروزمیں پانچ سومرتبہ اورایک نشست میں سو مرتبہ۔

            (۶)        حیات المسلمین کے باب صبروشکر کا مطالعہ کرنا۔ اس طرح تبلیغ دین کے باب صبروتفویض کو دیکھنا۔

            (۷)        اہل اللہ اورکاملین کی ورنہ صالحین کی صحبت میں بیٹھنا، اس خیال سے کہ ان کے قلبی برکات کا عکس میرے قلب پر پڑے۔ اگر صحبت کا موقع نہ ملے تو ان کے مواعظ و ملفوظات دیکھنا۔

احقر ابرار الحق عفی عنہ

منجانب: شعبہ نشر و اشاعت مجلس دعوۃ الحق ہر دوئی یوپی