مولانا حکیم فخر الاسلام اللہ آبادی
ہمیشہ کی طرح آج بھی مذہب حق یعنی عقائد اسلامیہ کو خارجی حملوں سے بچانا ضروری ہے اور اس کے لیے درج ذیل آٹھ عنوانات حسبِ موقع ومحل زیرِ بحث لائے جاسکتے ہیں:
ا – خدا تعالیٰ کا ثبوت، ۲- خدا تعالیٰ کی وحدانیت،۳- خدا تعالی کا واجب الاطاعت ہونا، ۴- نبوت کی ضرورت، ۵۔ نبی کی علامات اور صفات، ۶- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، ۷- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا، ۸- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد آپ ہی کی اتباع میں نجات کا منحصر ہونا۔
اِن امورِ ہشت گانہ کو الامام محمد قاسم نانوتویؒ نے میلہ خدا شناسی شاہ جہاں پور [ دونوں سالوں؛ ۷ مئی ۱۸۷۶،۹ ۱؍ مارچ ۱۸۷۷ء]کی تقریروں میں پیش کیا تھا۔ (۱) یہ دونوں تو برجستہ تقریریں ہیں، جب کہ دلائل کے رکھ رکھاؤ کے ساتھ اِستدلال میں قوت، شوکت اور صولت زیادہ رکھنے والی با ضابطہ تصنیف ’’حجۃ الاسلام‘‘ میں بھی یہ آٹھ امور زیرِ بحث آئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس تصنیف کو حیرت انگیز طور پر ہر زمانے میں شہرت و مقبولیت حاصل رہی اور حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اور مفتی سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ نے کتاب کو بہت زیادہ سراہا ہے، ملاحظہ ہو بالترتیب دونوں بزرگوں کے الفاظ:
’’بلا شبہ’’ حجۃ الاسلام‘‘ ایسی کتاب ہے کہ اسے گھر گھر پھیلنا چاہیے، مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں میں اس کی خوب نشر و اشاعت ہونی چاہیے، نیز ضرورت ہے کہ اس کتاب کے دوسری زبانوں بالخصوص عربی اور انگریزی میں ترجمے کیے جائیں۔‘‘ (۲)
’’(اِس کتاب میں) اصولی اور کلامی مباحث ہیں، ہر مسلمان کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔‘‘(۳)
(۱) پہلے سال کے جلسہ میں چھ امور زیر گفتگو آ سکے، دوسرے سال آٹھ کے آٹھوں سے تعرض کیا گیا جنہیں ’’مباحثہ شاہ جہاں پور‘‘ حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیو بند ۷۱۰۲ ء کے ص ۷۲ تا ۷۵ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
(۲) ’’تبصرے الہند: مکتبہ دار السعادۃ، سہارن پور، یوپی،۲۰۱۲ء)
(۳) کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟ الہند مکتبہ حجاز دیو بند، سہارن پور، یوپی۲۰۱۲ء، ص: ۲۶۔
اصل بات یہ ہے کہ’’معنویت کی تلاش‘‘ اور’’حقیقت کی جستجو‘‘، ’’انسان بے مقصد پیدا ہوا ہے‘‘ جیسے موضوعات جن میں مغربی مفکرین مسلسل سرگرداں ہیں، کتاب ’’حجۃ الاسلام‘‘ کا پہلا عنوان ہی یہی ہے، یعنی ’’اصلی مقصد کی تحقیق‘‘۔ اِس وقت کتاب ’’حجۃ الاسلام‘‘ کا مطالعہ اور بہ کثرت نشر و اشاعت بہت ضروری ہے تاکہ انٹر فیتھ، سنکر یٹزم، ڈائیلاگ و ڈسکورس کے اِس دور میں خود مسلمان اپنے عقائد میں مضبوط رہیں اور دوسروں پر حجت قائم کر سکیں۔ مگر حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے حسبِ ہدایت کتاب کو تحقیق و تشریح کے ساتھ شائع کرنا چاہیے۔
مذکورہ امور ہشت گانہ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو عقلی حیثیت سے دفاعِ عقائد، باطل کی مزاحمت اور ازالۂ شبہات سے متعلق جتنی گفتگوئیں ہیں، سب اِنہی سے وابستہ حقائق، افکار واصول کے ذیلی عنوانات یا مقدمات و متمِّمات ہیں، یعنی یا تو مقصود حاصل کرنے کے ذرائع ہیں یا مقصود کا تکملہ۔ مثلاً جس طرح:
٭پہلی بحث کے ذیل میں گنوسٹسزم Gnosticism، الحاد Ateism نیچریتNaturalism ، وجودیت Existentialism،انسان پرستی،Humanism ،انفرادیت و فرد پرستیIndividualism معروضیت،Objectivism موضوعیتSubjectivism ،عملیتPragmatismمظہریت Phenomenalogy، و غیرہ ملحدانہ افکار زیر بحث آتے ہیں، اُسی طرح:
٭دوسری، تیسری بحث کے ذیل میں ڈیکارٹ کی علمیت یا اپسٹیمولوجی Epistemology، باروچ اسپینوزا کی نیچر پرستی و تعددِالٰہPantheism ،مابعد الطبیعات Metaphysics تکوناتِ اشیاءOntology، شی کی حقیقت جو متداول درسی نصاب میں ’’حقیقۃ الشئ‘‘ کی اصطلاح سے موسوم ہے اور کتاب ’’عقائد نسفیہ‘‘ کی پہلی بحث کا عنوان ہی ’’حَقَائِقُ أَلا شَیَائِ ثَابِتة‘‘ ہے۔ کتاب کی ابتدا اس بحث سے کرنے کوجہ یہ ہے کہ اگر مابعد الطبیعات اور اشیاء کا ثبوت نہ ہو، تو خدا کا وجود اور موجودِ عارضی سے موجود اصلی کا ثبوت ہی نہ ہو سکے گا، اِسی لیے بحث کی اہمیت ذکر کرتے ہوئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:
’’ حَقَائِقُ الَّا شَیَائِ ثَابِتَةً‘‘ (اشیا کی حقیقتیں ثابت ہیں) عقائد کا یہ مسلَّمہ مسئلہ ہے اور ’’یہ گویا سوفسطائیہ کے مسلک کا رد ہے (خیال رہے کہ جدید سائنس داں، جدید فلسفہ کے ماہرین و مفکرین؛ سب عندیہ، عنادیہ اور لا ادریہ کے جدید سوفسطائی گروہوں میں سے کسی نہ کسی گروہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں)،… اِنہی کے مقابلے میں اہلِ حق نے اول مسئلہ عقائد کا اِسی کو قرار دیا ہے۔ اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے، وجہ یہ کہ سب کا اصل الاصول مسئلہ اِثباتِ صانع ہے، اور اُس کی دلیل کا مقدمہ بھی حقائقِ اشیاء کا ثبوت ہے؛ کیوں کہ جب کوئی چیز ثابت ہی نہ ہوگی، تو وہ حق تعالیٰ کے وجود کی دلیل کیسے بن سکے گی؟ جب مصنوع نہ ہوگا، تو صانع کے وجودکو کیسےثابت کیا جائےگا؟‘‘(اشرف التفاسیر: ج ۴ ص۳۷)
اسی کے تحت لا ادریت و تشکیکیت Skepticism، ایکنوسٹیزم Agnosticism کی ابحاث آتی ہیں کہ جس کے حاملین خدا کے ہونے، نہ ہونے کے مسئلہ میں پڑتے نہیں، اُن کی پسندیدگی خود اپنی ذات ہوا کرتی ہے، ایسی کوئی بحث وہ کرنا نہیں چاہتے جس میں مابعد الطبیعاتی کوئی امر تسلیم کرنا پڑے۔
علاوہ ازیں، دیگر مغربی افکار مثلاً حقیقت پسندی Realism نئی خدا پرستی Deism، کہ خدا نے کائنات بنائی تو ہے، مگر بنانے کے بعد وہ اُس سے بے پرواہ ہو گیا اور اب یہ کائنات خود بخود چل رہی ہے۔ وجدانیات Intuition پر مبنی افکار و مغالطات بھی آجاتے ہیں۔ ہیگل اور مارکس کی جدید دور کی ریشنل سوچ کا ہدف حقیقی سیکولرزم ہے۔ معاشرہ میں شاخ در شاخ موجود یہ اساسی افکار پہلے سے ہی چلے آرہے ہیں، پھر ما بعد از منہ میں ڈارون کا نظریۂ ارتقاء، سِگمڈ فراڈ کا نظریۂ جنس، پیغمبرانہ تعلیمات کی حدود و قید سے آزاد کر کے خدا بے زاری، تصور آخرت سے بے زاری مزید قوت کے ساتھ پیدا کرنے۔ مذکورہ فلسفوں اور نظریوں کے ساتھ زبان کا تحلیلی فلسفہ مثلاً مظہریت ( Phenomenology)، پس ساختیت (Deconstructionism) وغیرہ تصورات معاشرہ پر تھوپے گئے۔
٭امر چہارم و پنجم میں نجات کے لیے محض توحید کا قائل ہونا یعنی استشراقی و استغرابی روحانیت والٰہیت Theism اور New Theism آتے ہیں۔
جب کہ چھٹی اور ساتویں بحث کے تحت مومنین Believerism، توحید کے ساتھ کسی بھی نبی کے قائل ہونے کا کافی ہونا Syncritism، کچھ دو کچھ لو کے مذاکرے، یعنی ڈائیلاگDialogue مذہبی مفاہمتReligious interfaith، تکثیریت Pluralism آتے ہیں۔
٭ آٹھویں بحث میں جدید علوم و تمدنی قواعد، سائنسی طریقۂ کار ما بعد جدیدیت کے تصورات سماج کے بے مہار ترقیاتی اہداف کے دباؤ میں تشکیل جدید Reconstructionism یعنی خاتمیت محمدی کے عقیدہ میں اضطراب اور بالآخر نبی آخر الزماں کی تعلیمات میں نجات کے منحصر ہونے کے عقیدہ میں تشویش و بے چینی پیدا کی گئی۔ حق اور حقیقت سے انکار کے زعم میں موقت اور اضافی حیثیت سے کسی حقیقت پر اتفاق یا وقتی اعتراف نے ’’مدرسہ ڈسکورس‘‘ اور تعدد حق جیسی ابحاث معاشرہ پر مسلط کر دیں اور مطلق مذہب حق کے اعتراف سے دوری نے تو حید الحق Religious exclucism کے صاف انکار کی راہ ہموار کی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کی گفتگو اور تعلیماتِ خاتم النبیین میں نجات کے انحصار کو موضوع بنانے سے ہی کناہ کشی کر لی۔
آپ کو یہ معلوم ہو کر شاید حیرت ہو کہ ان سب افکار پر اصولی گفتگو و استدراکات الامام محمد قاسم نانوتویؒ کی تصنیفات میں موجود ہیں، خصوصاً کتاب ’’تقریر دل پذیر‘‘ کے ابتدائی ۲۴۰؍ صفحات میں۔ یہاں کوئی بحث تو نہیں چھیڑی جاسکتی، محض ایک دو مثالوں کی طرف اشارات پر اکتفا کیا جا سکتا ہے، کہ مثلاً جس معرفتِ نفس پر بنیاد رکھ کر ڈیکارٹ نے چار سو سال سے جاری الحاد کی اساس قائم کی، اسی معرفتِ نفس کے اصول کو برت کر الامام نانوتویؒ نے یہ دکھایا کہ انسان کی اپنی معرفت کی اساس بھی معرفتِ رب ہے، پہلے رب کی معرفت ہوتی ہے، پھر انسان اپنا عارف ہوتا ہے۔ اسی طرح جرمی بینتھم کی ’’افادیت‘‘ کی گمراہ گن اساس سے تعرض کر کے بتایا کہ خدا کی عبادت و نیاز مندی کے بغیر افادیت کے اصول کا تحقق نہیں ہو سکتا۔ یہی سلوک کانٹ کی وجدانیات کے ساتھ کیا کہ:
شعلے اٹھیں ہزار تجلی مگر کہاں
یہ آگ ہے ضرور مگر طور کی نہیں
یہیں سے معلوم ہوا کہ اِن افکار، خیالات و تلبیسات کے رد کے لیے صرف مذکورہ مغربی تصورات کا فلسفہ جان لینا کافی نہیں؛بل کہ ضروری ہے کہ اہلِ حق کے عقلی دلائل کے استعمال کے ساتھ کلامیاتِ قاسم سے بھی مناسبت پیدا کی جائے اور اس مقصد کے لیے تحقیقات و استدلالاتِ حکیم الامت سے مدد لی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مخاطب مغربی افکار سے اثر پذیر وہ مسلمان ہیں جنہوں نے شریعت کے عقائد و احکام میں تصرف کر کے اُنہیں اپنے زعم میں جدید تحقیقات پر منطبق کرنے کی کوشش کی۔ اور الامام محمد قاسم نانوتوی کے مخاطب دنیا بھر کے وہ انسان ہیں جنہوں نے عقل و علم کی راہ سے شریعتِ مطہرہ کے ساتھ عقلی و استدلالی مزاحمت کی، بہ الفاظِ دیگر ان مغربی افکار واصول کا فساد دکھانا جو تجدد پسندوں کی تلبیسات کا سرچشمہ ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں ایک طرف ڈیکارٹ سے لے کر ہیگل و ما بعد تک کی ہیومنسٹک ایپروچ [Humanistic approach ] نظر میں رکھی جاتی ہے اور رکھا جانا لا بدی حیثیت اپروچ اختیار کر چکا ہے۔ خود دیکھ لیجیے کہ کالجز اور عصری اداروں میں مطالعہ کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے! وہاں یہ بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہوا کرتی ہے، علوم وفنون کے کسی بھی سبجیکٹ کے حقائق کو پیش کرنے کے لیے متعلق موضوع کو عصری تناظر Contemporary میں لانا ضروری ہوتا ہے۔ رائج فلسفوں سے نشو نما پانے والے افکار میں سے ہی کسی نہ کسی فلسفہ سے ہم آہنگ بنا کر اپلائی کرنا ہوتا ہے، مذہب کے ساتھ بھی یہی سلوک واجب ہے کہ سماج سے ہم آہنگ ہو، سماج سے مزاحم نہ ہو۔
٭مروج مضامین کو دیکھیے: تاریخ، اردو، انگریزی لٹریچر، ادب، زبان، لنگوسٹک ( یہ زبان اور آرٹ دونوں سے ذرا الگ ہے یا کہیے کہ ایڈوانس اور نہایت خطرناک ہے)، ماڈرن فلاسفی و پالیٹکل سائنس، سوشل اسٹڈیز یعنی سماجی علوم، فطری علوم، یعنی نیچرل سائنس،شہریت، قانون اسلامک اسٹڈیز، دینیات وغیرہ مضامین تک میں مذکورہ تقسیم سے راہِ فرار ممکن نہیں۔
٭جب یہ بات معلوم ہوگئی، تو یہ بھی جانا چاہیے کہ اسی بنا پر ان اصطلاحات؛ طبیعت ، علت و معلول، زمانہ، حرکت سیگنی فائر اور سگنی فائڈ وغیرہ کے تصورات اور اُن کی اطلاقی نوعیتوں کی تفصیلات -خواہ قدیم ہوں یا جدید- سے واقفیت بھی ہونے چا ہیے۔ مثلاً خیر وشر کے معیارات پر گفتگو کے لیے جہاں روسو، کانٹ بینتھم کے افکار اور الامام نانوتوی کے (تقریر دل پذیر میں بیان کردہ) معیارات اربعہ کی ضرورت پڑے گی، وہیں سقراط کے معیارات پر نظر ضروری ہوگی، کیوں کہ حضرت شاہ ولی اللہ، امام اسماعیل شہید اور امام نانوتویؒ کی اساس سقراط ہی ہے۔
٭مغرب میں یونان کی حکمتِ باطلہ کا احیا ہوا، یونان ہی میں حکمتِ باطلہ کے توڑ کے لیے حکمتِ حقہ موجود تھی، جس سے مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک اکتساب کیا؛ لیکن اس اخیر دور میں اُس سے صرفِ نظر کیا جانے لگا، تو حکمتِ قاسم و حکمتِ اشرف بھی ہاتھ سے پھسل گئی، اِس طرح یونانی سمیت تو عود کر آئی، مگر دستیاب تریاق سے کام نہ لیا جا سکا۔
یہ بات جائز الذہول نہیں کہ دیکھا جائے کہ یہ چیزیں قاسمی واشرفی استدلالات میں کس تناظر میں آئی ہیں، اُن سے واقفیت ناگزیر ہے۔ جب تک بنیاد سمجھی ہوئی نہ ہوگی، اصل جواب پر عبور مشکل ہو گا، یہ ہی باعث ہوا کہ استدلالاتِ قاسم و اشرف سے اجنبیت بڑھ گئی، عوامی رجحان مقصود ٹھہر گیا، ادبی رجحان بڑھ گیا۔ کم از کم اہلِ علم کے لیے اور دینی درسیات کے فارغین کے لیے تو تحقیقاتِ قاسم و اشرف پر عبور ضروری ہے، کیوں کہ یہی وہ حضرات ہیں جو عصری تعلیم گاہوں سے وابستہ نونہالوں اور اُن کے اساتذہ، نیز نو فارغین مدارس کے لیے دلیلِ
راہ ہیں۔ مفکرین کے عوامی رجحان کی ایک مثال ابھی تازہ ایک مضمون ’’فلسفہ جدید کے تین بنیادی سوالات‘‘ ہے، عنوان کے تحت مضمون نگار لکھتے ہیں:
’’انسان ایک باشعور (Concious being) ہے۔ سوچنا، غور و تدبر کرنا اُس کی خلقی صفت ہے۔ معنویت کی تلاش اور حقیقت کی جستجو انسان کو مستقل اور مسلسل سرگرداں رکھتی ہے۔ انسان اپنے سے وابستہ ہرشی خیال یا فکر کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت کو معنی ( Meaning)دے کر اپنی زندگی کا کوئی مقصد فراہم کرنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا معنویت کا حصول انسان کا بنیا دی مسئلہ ہے؟ کیا معنویت انسان کے اپنے نفس (Self)یا ذہن(Mind) میں موجود ہوتی ہے، جسے انسان خود تخلیق (Create) کرتا ہے یا وہ خارج پہلے سے موجود ہے؟ کیا یہ معنویت انفرادی ہوتی یا اجتماعی؟ یہ دنیا جس میں انسان رہتا ہے، اس کا آغاز و انجام کیا ہے؟ اس زندگی سے پہلے بھی کوئی زندگی تھی اور کیا اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہوگی؟‘‘
اس موقع پر لفظ ’’معنویت‘‘ کا استعمال بالکل بے تکا ہے۔ اس قسم کے الفاظ مثلاً ’’علمیت‘‘، ’’ثقافت‘‘، ’’مثبت‘‘، ’’نئے اِمکانات‘‘، ’’زمینی حقائق‘‘، ’’معروضیت‘‘،’’ اِفادیت‘‘، ’’تحلیلی‘‘ وغیرہ، یہ سب سماج پرستی کو اصل الاصول مان کر چیز کو اُس کے مادی پہلو سے وابستہ کرنا، حقیقتِ مطلقہ سے گریزاں، ڈسکورس و مظہریت کی طرف پیگیں بڑھانے والے محاورے ہیں۔’’معنویت‘‘ میں ڈسکورس کا پہلو پنہا ہے اور لنگوسٹک سے ناشی ہے، مطلب یہ ہے کہ گفتگو یا بات کا کوئی قطعی نتیجہ ہے ہی نہیں، مظہریت ( بیرونی دنیا کے بارے میں مفروضوں مثلاً کا ئنات خدا نے بنائی ہے ) سے گریز کرتے ہوئے شعور کی آفاقی خصوصیات کی چھان بین کی کوشش پر مبنی اپنی معلومات کے ذریعہ حاصل ہونے والے ہر شخص کے اپنے نتیجہ پر ہی کوئی شخص اطمینان کر سکتا ہے، فی لواقع قطعی نتیجہ بالکلیہ معدوم ہے۔ اِس طرح خود’’معنویت‘‘ کا لفظ ہی قابلِ اعتراض ہے، اُسے قابلِ خطاب سوال کی حیثیت کیوں دی گئی! پہلے تو معنی، حقیقت اور حقیقت مطلقہ، موجود حقیقی پر گفتگو کی جانی چاہیے، بالفاظ دیگر فینا مینا Phenomenon سے نیو مینا Neumena پر لانا چاہیے۔
اسی طرح انسان کا مقصود اصلی، کی بحث چھیڑ کر ہی آغاز و انجام طے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح انجام کا ئنات کا حل منطقی بحث سے ہی ڈھونڈا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہ کائنات میں مختلف اوصاف رکھنے والے متعدد عناصر کی ترکیب سے وجود پذیر ہونے والے انسان و دیگر اشیاء کے متعلق ترکیب و تحلیل کا قطعی اصول یہ ہے کہ غرض اور مقصود کی تکمیل کے بعد اجزاء کو جدا جدا کر کے اپنے اپنے معدن میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس تجزیاتی بحث سے قیامت کا امکان، آواگوان کے ساتھ ہونے والے اِلتباس کے رفع کے ضمن میں عہد الست وغیرہ کی گفتگو آتی چلی جائے گی۔
٭اصل المیہ یہ ہے کہ او پر جن مغربی افکار کے نام پیش کیے گئے، معاشرہ میں بے روک ٹوک اُن کے رواج میں، جب رُکاوٹ دینِ حق ہو، تو پہلے دین کی مخالفت پر قائم رہنے کے لیے اصولِ صحیحہ سے انکار اور ذرائعِ علم (مشاہدہ، مخبر صادق کی خبر اور درست منطق کے مطابق استدلال عقلی ) کے مسلمات سے انحراف عمل میں آتا ہے، اُس کے بعد مذہبی افکار میں رشتہ داری Hallicination کو اصل الاصول بنا کر اپیسٹیمولوجی جاری کی جاتی ہے، تو التباسات کے طرز کو فروغ حاصل ہوتا ہے، کیوں کہ ایپیسٹیمولوجی ( Epistemology ) – جس کا ترجمہ علمیت قرار دے لیا گیا ہے- میں علم کی بنیاد اُس پر ٹھہرالی جاتی ہے جسے انسان خود خلق کرے۔
عصر حاضر: پیش منظر و منظر
مغرب: جاننا چاہیے کہ ۱۸؍ ویں صدی میں نیچر رلزم کو فروغ ہوا، انڈسٹریلائیزیشن کی نمود ہوئی، گاؤں کے لوگ شہروں کی طرف جانے لگے، شاعروں نے نیچر پر لکھنے کی طرف توجہ کی؛ مگر جب یورپ کا معاشرہ کچھ زیادہ ہی سویلائزڈ، کانشس اور مہذب ہو گیا، تو ان شاعروں نے محسوس کیا کہ معاشرہ میں جذبات کے فقدان کے نتیجہ میں افراتفری پھیل رہی ہے، اس لیے جذبات ابھارنے والے لڑ پچر پیدا کیے جانے لگے، تا کہ نیچر سے دور ہو جانے والے انسانوں کو نیچر سے قریب لایا جا سکیا ور نیچر کے سہارے اُس کی طبیعت میں رومانس بھرا جا سکے۔
یہ رومانٹسزم کا دور ہے جسے عہدِ احساس Age of Sensitibility بھی کہا جاتا۔ اس عہد میں Reason یعنی سائنسی تعقل سے زیادہ خیال و تصور Imagination پر فوکس کیا گیا۔ اس عہد کے نمایاں مفکرین مثلاً سیموئیل ٹیلر کولرج ( Samuel Tailor Colridge ۱۷۷۲ تا ۱۸۳۴ء ) رالف والڈ وایمرسن [۱۸۰۳ تا ۱۸۸۲ء] وغیرہ نے آئیڈیا لزم ، ماورائیت، انفرادیت اور کفر کی معطلی کے خیالات رواج دینے میں انتھک کوشش کی۔
ہندوستان: یہ تو یورپ میں مذکورہ خیالات کی اِشاعت کے بعد ہندوستان میں سرسید کے ہاں سائنسی بنیادوں پر جدیدیت آئی اور مغربی فلسفہ مثلاً نیچریت، افادیت پسندی، حقیقت پسندی، مقصدیت پسندی اور سیلف کا نشس کی رہنمائی میں جو سویلائزیشن پروان چڑھی، وہ ایک خاص نوع کی عقلیت پسندی تھی۔ مسلمانوں میں سرسید کی اس عقلیت پسندی کے خلاف سب سے پہلے رومانی رد عمل ظاہر ہوا اور میر ناصر علی نے’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے مقابلہ میں رسالہ ’’تیرہویں صدی‘‘، ’’فسانۂ ایام‘‘ اور ’’صلائے عام‘‘ وغیرہ رومانی رسائل جاری کیے۔ اس کے بعد محمد حسین آزاد، عبد الحلیم شرر اور ڈپٹی نذیر احمد، مدیر مخزن؛ عبدالقادر، سجاد حیدر یلدرم، سجاد انصاری، نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھ پوری وغیرہ نے جو کچھ کیا، ان آثار کو مغرب پہلے ہی بھگت چکا تھا اور فرد کی عقل نفس کے حوالہ ہو چکی۔ ایسی صورت میں جذبات سے ہمدردی ایک جگہ تھمنے والی نہ تھی، مداوا کی تلاش پہلے مغرب میں ہوئی، بعد ازاں مشرق میں۔
جذبات نے وجدان کے سہارے مذہبی مفاہمت میں پناہ ڈھونڈی، نتیجہ کے طور پر یورپ میں اتحاد [Unity] کے نام کی ایک روحانی تنظیم پیدا ہوئی، جس کے بانی: چارلس فلمور [۱۸۵۴ تا ۱۹۴۸ء] اور میرائٹل فلمور Charles &FilimoreMirtle(۱۸۴۵تا ۱۹۳۱ء) زوجین تھے۔ ان دونوں نے بزعم خود ذہن اور جسم کی تمام برائیوں کا تجربہ کیا اور بالآخر روحانی خود شفایابی کے طور پر مثلاً نماز اور ہفتوں کی کلاسوں میں سیکھے گئے طریقوں کا ایک خاص دستور العمل ایجاد کر کے اُن لوگوں کے لیے پیش کیا جو خود کو روحانی کہتے ہیں، لیکن مذہبی نہیں۔ گویا یہ مذہبی مفاہمت بایں معنی تھی کہ تنظیم سے وابستہ ہونے والے افراد- خواہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی- چند مذہبی اعمال، معمولات اور مجاہدوں میں اپنا سکون و علاج حاصل کرنے کی تدابیر کرنے لگے۔
تحریک کا پس منظر:
ابتدا میں یہ تحریک عیسائیت سے نکلی تھی اور اب حال ہی میں اس ’یونٹی‘ یا تحریکِ اتحاد نے بائبل پر زور دینے کے ساتھ عیسائیت کی بنیاد پر’مثبت عملی عیسائیت‘ کا فارمولا پیش کیا ہے۔ تحریک کے بانی چارلس فلمور اور میر اٹل فلمور- جن کا ذکر او پر آچکا ہے- نے ایک دعائیہ جماعت کا اعلان کیا جسے بعد میں خاموش اتحاد کہا جانے لگا۔۱۹۳۱ء اور ۱۹۴۸ء میں موجدین تو فوت ہو گئے؛ مگر اتحاد ایک عالمی تنظیم کی شکل میں جاری رہا۔ یونٹی ورلڈ ہیڈ کوارٹر، یونٹی ورلڈ وائڈ منسٹریز تحریک کی تنظیمیں ہیں۔ یہ مغربی فکر کے زیر اثر پہنچنے والے ’اتحاد‘ کی حقیقت ہے، اب آگے ایک اور رنگ دیکھیے۔
بین مذہبی مکالمہ، ڈائیلاگ
منظر نامہ: مختلف مذہبی روایات یا روحانی یا انسانی عقائد کے لوگوں کے درمیان تعاون پر مبنی تعمیری اور مثبت تعامل بین مذہبی مکالمہ یا ڈائیلاگ کہلاتا ہے۔
یہ طرزِ فکر اس وقت تیزی سے پھیلتا اور منظم ہوتا جا رہا ہے، بعض جگہوں کے بشپ، چیف ربی، فلاں مقام کے مفتی اعظم، استقلال مسجد کے گرینڈ امام نصر الدین عمر، وغیرہ نے مل کر جکارتہ، انڈو نیشیا میں بین المذاہب رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے لیے استقلال اعلامیہ پر دستخط کر رکھے ہیں۔ روحانیت، اتحاد کے یہ مناظر جدیدیت کے رنگ وروپ ہیں۔
جدیدیت کا ورلڈ ویو:
’’جدیدیت ایک مکمل ورلڈ ویو کے تحت میں پیدا ہونے والے باہم متضاد اور مخاصم مظاہر رہے ہیں، (سیاست و تمدن میں ) اشتراکیت اور سرمایہ داری اپنے وجودی موقف میں ایک ہی ہیں، لیکن تہذیبی مظہر میں باہم متضاد د و مخاصم ہیں، یعنی اشتراکیت اور سرمایہ داری با ہم کل کی کل سے مخاصمت نہیں رکھتے، بل کہ کچھ اساسات پر اتفاق کے بعد تہذیبی مظاہرے میں تضاد اور مخاصمت کو سامنے لاتے ہیں۔‘‘
’’عیسائیت اور یہودیت کا جدیدیت سے اختلاف کل کا کل سے اختلاف تھا اور مسیحی جدیدیت اور یہودی جدیدیت کی تشکیل کے بعد یہ کل کا کل سے اختلاف نہ رہا، بل کہ جدیدیت کے سائبان تلے اُن مذاہب کی حیثیت بھی حریف جدید یتوں (Content Modernities) کی ہوگئی۔‘‘ جیسا کہ اوپر’’ اتحاد‘‘ کے تعارف کے ضمن میں یہ بات آچکی ہے۔ ’’یہ مذاہب اپنے واحد حاملِ حق ہونے کے دعوے سے دستبردار ہونے اور جدیدیت کے بنیادی وجودی اور تہذیبی قضایا سے اتفاق کے بعد اظہارِاختلاف کو جدیدیت کی شرائط پرسامنےلاتے ہیں۔ (مدرسہ ڈسکورسز، ص ۴۴۱، ۱۳۹)
تکثیریت:
اِس ضمن میں پلورل ازم کا بھی حال دریافت کر لیجیے۔ پلورل ازم (Pluralism) ایک جدید اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے: ’’یہ نظریہ رکھنا کہ میرا مذہب ہی سچائی کا واحد مصدر نہیں ہے؛ بل کہ حق دیگر مذاہب میں بھی ہو سکتا ہے، اسی طرح یہ نظریہ رکھنا کہ مختلف مذاہب ایک عالمگیر سچائی کی الگ الگ تعبیرات ہیں۔‘‘ (ایضاً)
گویا اسلام کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے؛ بل کہ یہودی اور مسیحی مذاہب بھی درست ہیں، کیوں کہ وہ حقانیت ہی کی دوسری تشریح ہیں، اس نظریے کو جدید ترین اصطلاح میں پلیور یلزم بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ڈسکورسز میں فضلائے مدارس کو داخل کر کے یہ تربیت دی جائے گی کہ پلورلزم پر کیسے ایمان لایا جا سکتا ہے اور کیسے یہ جاہلی نظریہ آج کے دور میں ضروری ہے۔ ‘‘(ایضاً)
اخیر میں گزارش یہی ہے کہ عصرِ حاضر میں اسلام کے مزاحم سرچشموں کی نشاندہی کرنا، جس طرح نہایت ضروری ہے، وہیں طریقہ تحفظ عقائد اسلامیہ کے لیے اصول حقہ کی واقفیت، اُن کے استعمال کا طریقہ اور عصری تحدیات میں نہایت درجہ افادیت کی حامل تصنیفاتِ قاسم و اشرف کا بالدوام سلسلہ وار مطالعہ بھی از بس ضروری و لازم ہے۔
فخر الاسلام الٰہ آبادی
نظر ثانی ۴؍ شعبان المعظم ۱۴۴۶ ھ – ۳؍ فروری ۲۰۲۵ ء، دوشنبہ
