عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ایک شام

            ربیع الاول کا مقدس مہینہ جب اپنی نورانی کرنوں کے ساتھ افق پرطلوع ہوتا ہے تواہلِ ایمان کے دلوں میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمعیں روشن ہوجاتی ہیں۔

            جامعہ اکل کوا کے شعبۂ دینیات میں 10 ربیع الاول 1447ھ، مطابق 2 ستمبر 2025ء بروزمنگل بعد نمازِمغرب منعقدہ جلسۂ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی روحانی فضا کی حسین جھلک تھا۔

 طلبہ کی پُراثر تقاریر:

            اس بزمِ عشق ومحبت میں طلبہ نے دل کی گہرائیوں سے سیرتِ طیبہ کے پہلواجاگر کیے۔ ہرتقریرمیں عشق و احترام کی کیفیت تھی۔ کسی نے یتیمی کے صبر کا تذکرہ کیا، تو کسی نے صدق و امانت کی روشنی بیان کی۔

            سامعین کی آنکھیں پرنم ہوئیں اوردل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز ہوتے گئے۔

            یہاں حضرت حسان بن ثابتؓ کے مشہور اشعار یاد آئے:

 وَأَحسَنَ مِنکَ لَم تَرَ قَطُّ عَینی

وَأَجمَلَ مِنکَ لَم تَلِدِ النِساءُ

            ترجمہ: ’’میری آنکھ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کبھی نہیں دیکھا، اورعورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جمیل کبھی نہیں جنا۔‘‘

            اسی طرح علامہ اقبالؒ نے کہا:

کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

 حضرت رئیس الجامعہ کی بابرکت تشریف آوری:

            اختتامی لمحات میں حضرت رئیس الجامعہ مولانا حذیفہ صاحب وستانوی دامت برکاتہم کی تشریف آوری نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔

حضرت نے تربیتِ اولاد اور بچپن کی اہمیت پر بصیرت افروز کلمات ارشاد فرمائے۔ فرمایا:

            ’’یہ عمر زندگی کی بنیاد ہے، اور اس بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے مطالعہ، للّٰہیت اورکردارکی پاکیزگی ضروری ہیں۔‘‘

            بچپن کی عمر دراصل انسان کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ جس طرح کسی عمارت کی مضبوطی کا انحصار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے، اسی طرح انسانی شخصیت کی پائیداری اور کمال کا دارومدار بھی بچپن کی تربیت پر ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو بعد کی محنت اکثر ضائع ہو جاتی ہے، اور اگر بنیاد مضبوط ہو تو آنے والے حالات اورطوفان بھی انسان کو ہلا نہیں سکتے۔

            اس بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے تین چیزیں نہایت ضروری ہیں: مطالعہ، للّٰہیت اورکردار کی پاکیزگی۔ مطالعہ سے ذہن وسیع اور سوچ پختہ ہوتی ہے؛ للّٰہیت سے دل میں ایمان، خوفِ خدا اوراعلیٰ مقصدیت پیدا ہوتی ہے؛ اورکردار کی پاکیزگی سے عملی زندگی میں سچائی، دیانت اوربھلائی کی خوشبو پھیلتی ہے۔

            لہٰذا آج ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کو قرآن اورسیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے آراستہ کریں، ان کے دلوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کریں، للّٰہیت اور خدا خوفی کو راسخ کریں، اور کردار کی پاکیزگی کو ان کی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ اگر بچپن ہی سے یہ بنیاد مضبوط کر دی جائے تو آنے والی نسلیں ایمان، علم اور اخلاق کی روشنی سے پورے معاشرے کو منور کر دیں گی۔‘‘

            اسی موقع پر حالیؔ کا یہ شعر دلوں میں اترتا محسوس ہوا:

اُٹھو وگر نہ حشر تک وقارِ ملت مٹ جائے گا

جو دم کہ زندگی ہے دم میں سب کچھ لٹا دو نامِ مصطفیٰؐ پر

 دعا اور اختتام:

            حضرت کی دعاؤں کے ساتھ یہ محفل اختتام پذیر ہوئی۔ پورا مجمع یہ دعا مانگ رہا تھا کہ:

            اللہ تعالیٰ ہمارے شیخ کو صحت وعافیت کے ساتھ درازیِ عمرعطا فرمائے اور جامعہ اکل کوا کو اپنی نصرت و حفاظت میں رکھے۔ جیسا کہ شاعرِ مشرق نے کہا:

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

از ادارہ: ماہنامہ’’ شاہراہِ علم‘‘کوا