حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ؒ
فرقہ دہریہ ’’وحی‘‘ اور’’ الہام‘‘ کا بھی منکر ہے، اور یہ انکار فرقۂ دہریہ کے مذہب کا دوسرا بنیادی اصول ہے۔ اہلِ اسلام اور دیگر آسمانی مذاہب کے ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ انسانی علم کے ذرائع اور وسائل عام طور پر یہ حواس خمسۂ ظاہری ہیں، مگر ان کے علاوہ ایک اور نہایت زبر دست ذریعۂ علم، ’’وحی‘‘ اور’’ الہام‘‘ بھی ہے، جو حواسِ خمسۂ ظاہری سے بالا اور برتر ہے۔
لیکن دہری اور لا مذہب سب یہ کہتے ہیں کہ ان حواسِ خمسۂ ظاہری ادراک ظاہرہ کے علاوہ اور کوئی ذریعہ علم اور فہم نہیں۔ اسی بنا پر دہری نبوت، علم اور رسالت، اور الہامی کتابوں کے منکر ہیں۔ اور الہامی مذاہب اور دہریت کے درمیان بھی یہ مسئلہ بنیاد مخالفت ہے۔پس جس طرح ہم نے اثباتِ صانعِ عالم میں دہری لوگوں کی جہالت کو ظاہر کیا، اسی طرح اب اس مسئلہ میں ان کی جہالت ظاہر کرنا چاہتے ہیں، کہ جو یہ کہتے ہیں کہ انسانی علم کے ذرائع حواسِ خمسۂ ظاہری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔
اہلِ اسلام یہ کہتے ہیں کہ حق جل شانہ نے پیکر انسانی کے لیے، اس عالم جسمانی کی چیزوں کے ادراک کے لیے حواس خمسہ پیدا فرمائے، جن کے ذریعہ انسان کائنات عالم کو کچھ سمجھ لیتا ہے، پورا اور کما حقہ نہیں سمجھتا، کیوں کہ ان حواس خمسہ کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ ہر حس کی ایک حد معین ہے، کہ اس سے آگے وہ نہیں کرسکتا، اور ہر حس اپنے دائرہ میں رہ کر جو ادراک کرتا ہے، اس میں بھی غلطی کر جاتا ہے،لیکن با ایں ہمہ ذرائع ادراک میں پانچ کی کوئی تحدید نہیں؛ ان میں کمی اور زیادتی بھی ہو سکتی ہے۔
(۱)… حواسِ خمسہ ظاہرہ:
عام طور پر، انسانی علم کے ذرائع بے شک یہی حواسِ خمسہ ظاہرہ ہیں، لیکن مادر زاد اندھے اور مادر زاد بہرے کے حق میں ذرائعِ ادر اک، بجائے پانچ کے چار ہی حواس ہیں۔
معلوم ہوا کہ حواس کے تعداد میں کمی اور زیاتی ہوسکتی ہے۔ ایک مادر زاد اندھا رنگ کا تصور نہیں کر سکتا اور سیاہ ، سفید ، سرخ اور سبز کے فرق کو نہیں سمجھ سکتا۔
پس اگر کوئی بینا کسی مادر زاد نابینا سے یہ کہے کہ یہ چیزیں اور یہ رنگتیں میں بچشم بصارت دیکھتا ہوں اور بہ نسبت تمہارے مجھ میں ایک حاسۂ ادراک یعنی حاسۂ بصارت زیادہ ہے، تو وہ نابینا کہے گا کہ جنابِ من، آپ مجھ کو بصارت اور حاسۂ بصر کی حقیقت سمجھائیے اور یہ بتلائیے کہ دیکھنا کیا چیز ہے؟ اور سیاہی اور سفید ی کیا چیز ہے؟ کوئی ڈاکٹر اور پروفیسر کتنا ہی زور لگائے کہ مادر زاد نابینا کو بصارت کی حقیقت اور سیاہی اور سفید ی کا فرق سمجھا دے، تو یہ ناممکن ہے۔
فلسفۂ قدیمہ اور فلسفۂ جدیدہ کسی کی بھی یہ قدرت نہیں کہ مادر زاد نابینا کو بصارت اوررؤیت کی حقیقت سمجھا سکے۔ بینا جواب میں کہے گا کہ میرا قصورنہیں، آپ میں ایک نقص ہے؛ وہ یہ کہ آپ میں بصارت کے حاسہ کے نہ ہونے کی وجہ سے رنگتوں کی ادراک کی صلاحیت ہی نہیں، مگر وہ نابینا اپنی ضد پر جما ہوا ہے اور یہ کہتا ہے کہ جو چیز مجھ کو محسوس نہیں ، میں اس کو نہ مانوں گا۔ یہ مادر زاد اندھا، جو قوتِ بینائی سے محروم ہے، رنگتوں کے معاملہ میں دوسروں کو بے وقوف سمجھتا ہے اور اپنے علم کی کمی کا احساس نہیں کرتا۔ اور اسی طرح اگر کوئی مادر زاد بہرا کسی شنوا سے یہ کہے کہ تم لوگ جو ایک سرے کے روبرو بیٹھ کر بلا وجہ منہ سے منہ ملایا کرتے ہو، سویہ کیا حرکت ہے؟ شنوا جواب میں کہے گا کہ ہم لوگ ایک دوسرے کو اپنے دل کی بات سناتے ہیں۔
بہرا کہے گا: مجھے سماعت اور سننے کی حقیقت اورکیفیت سمجھاؤ کہ وہ کیا شئی ہے؟ اور کیسی ہے؟ اور وہ آواز جس کے تم مدعی ہو، وہ کیا چیز ہے؟ اورآوازکی حقیقت وکیفیت کیا ہے؟ بغیر سمجھے ہوئے میں ہرگز اس کو تسلیم نہ کروں گا۔
شنوا بالآخر یہی کہے گا کہ سماعت ایک قوتِ حاسہ ہے، جس سے آواز کا ادراک ہوتا ہے، اورآنجناب اس سے محروم ہیں ، بغیر قوتِ سامعہ کے آوازوں کا ادراک ممکن نہیں۔
الحاصل، کتنے ہی دلائل قائم کیے جائیں مادر زاد اندھے کو بصارت کا اور مادر زاد بہرے کو سماعت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ اور مادر زاد احشم (جس کی قوتِ شامہ معطل ہوگئی ہو)اس کو روائح یعنی خوشبوؤں کا ادراک نہیں ہوسکتا اور ایک عنّین کو جماع کی حقیقت نہیں سمجھائی جا سکتی۔
پھر قوتِ باصرہ اور قوتِ سامعہ میں بھی درجات اور مراتب میں کسی کی نگاہ تیز ہے اور کسی کی کمزور، کسی کی شنوائی تیز ہے اور کسی کی کمزور۔ کسی حکمتِ جدیدہ اور حکمتِ قدیمہ نے بصارت اور سماعت کی کوئی حد معین نہیں کی۔
نابینا اپنے پاس کی چیزوں کو بھی نہیں دیکھتا، اوربہرا اپنے پاس کی آوازوں کو بھی نہیں سنتا، اور جو دیکھتا اور سنتا بھی ہے، تو اس کی قوتِ باصرہ اور سامعہ کی پرواز شمس و قمر اور کواکب و نجوم سے اوپر نہیں۔ اور جن برگزیدہ ہستیوں (انبیا و رسل) کو خداوند سمیع و بصیر نے ایک خاص قوتِ باصرہ اور خاص قوتِ سامعہ عطا کی ہے، وہ خدا داد قوتِ باصرہ سے آسمان سے اوپر کی چیزیں بھی دیکھتے ہیں، اور خداداد قوتِ سامعہ سے آسمانوں کی آوازیں بھی سنتے ہیں۔ انسان کے بنائے ہوئے خوردبین اور دوربین سے جب وہ چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں، جو بڑی تیز نگاہ والے بھی نہیں دیکھ سکتے، تو اگر انبیا و رسل خداوند ذو الجلال کی عطا کردہ دوربین اور خوردبین نگاہوں سے ان چیزوں کو دیکھ لیں، جن کے دیکھنے سے حکمائے عالم عاجز ہیں، تو اس کو کیوں محال سمجھتے ہو؟
{وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ}۔(الانعام:۷۵)
احول (بھینگا) کو حق تعالیٰ نے ایک خاص قسم کی بصارت دی ہے، جس سے اس کو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔ جنگِ بدر میں کافر مسلمانوں کو اپنے سے دو چند دیکھتے تھے: {یَرَوْنَہُمْ مِثْلَیْہِمْ رَأْیَ الْعَیْنِ}۔(آل عمران:۱۳)
حق جل شانہ کسی کو اپنی قدرتِ کاملہ سے ساری عمر کے لیے بھینگا بنا دیتے ہیں، اور کسی کو صرف دو تین دن کے لیے بھینگا بنادیتے ہیں جیسے کفارمکہ کو بدر کے دن بھینگا بنا دیا ۔ معلوم ہوا کہ حو اس کی تعداد نہ معین کی جا سکتی اور نہ ان کے ادراک کی کیفیت اور صفت کی کوئی تعیین اورتحدید کی جا سکتی ہے۔
(۲)… علم روایت:
تمام عقلا کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی ثقہ اور معتبر آدمی اپنے مشاہدہ کی روایت کرے، تو وہ حجت اور معتبر ہے، حالاں کہ روایت قبول کرنے والے نے اپنے حواسِ خمسہ ظاہرہ سے اس چیز کا مشاہدہ نہیں کیا ہے۔
معلوم ہوا کہ ہر شخص کو تمام علوم اپنے ہی حواس سے حاصل نہیں ہوتے، بل کہ دوسروں نے جو اپنے حواس سے علم حاصل کیا ہے، اس پراعتماد کر کے علم حاصل ہورہا ہے، اور ظاہر ہے کہ جو چیز آپ نے حواسِ ظاہرہ سے خودنہیں دیکھی، وہ آپ کے حق میں غیب ہے، جس کو آپ نے بلا مشاہدہ ذاتی تسلیم کرلیا ہے۔
پس اسی طرح انبیائے کرام نے عالمِ غیب کی جن چیزوں کا مشاہدہ کر کے خبر دی ہے، اس کا تسلیم کرنا عقلاً ضروری ہوگا۔
(۳)…نیز ایک زمانہ وہ تھا کہ جب ہزاروں میل کے فاصلے پر منٹوں میں خبر پہنچانا، اور ہزاروں میل کا فاصلہ گھنٹوں میں طے کر لینا محال اور ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور یہ محال سمجھنے والے بڑے بڑے عاقل اور دانا اور فیلسوف ِزمان تھے،مگر آج تار اور ٹیلیفون اور ہوائی جہازوں نے ان سب چیزوں کو ثابت شدہ حقیقت بنا کر آنکھوں سے دکھلا دیا۔
معلوم ہوا کہ حواسِ خمسہ ظاہری کی بنا پر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ آئندہ زمانہ میں کبھی اس کے خلاف نہیں ہو سکے گا؛لہٰذا تم ان محدود حواسِ ظاہری کے محدود ادراک کی بنا پر قیامت میں پیش آنے والے واقعات کا کیسے انکار کرتے ہو؟{سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا ِالََّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ}۔(البقرۃ: ۳۲)
(۴)…عام حیوانات کو بھی حق تعالیٰ نے شعور اور ادراک کے لیے حواس عطا کیے ہیں، جو ادراک میں انسان سے بہت کم ہیں، مگر ایک اعتبار سے انسان سے بڑھ کر ہیں، اس لیے کہ انسان کو تعلیم و تعلّم کی ضرورت ہے، اور حیوانات کو بغیر تعلیم و تعلّم ہی کے اپنی ضروریاتِ زندگی کا علم ہو جاتا ہے۔
انسان کے سوا جس قدر حیوانات ہیں، وہ سب پیدائشی اور فطری طور پر اپنی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے اورمہیا کرنے کی واقفیت اور اس کا علم رکھتے ہیں، لیکن انسان کو بلا سعی و کوشش اوربلا تعلیم وتعلّم اپنی ضروریات زندگی حاصل کرنے کا علم نہیں عطا کیا گیا۔
شہد کی مکھیوں کو من جانب اللہ یہ القا اور الہام ہوتا ہے کہ فلاں فلاں پھلوں اور فلاں فلاں درختوں کے چوسنے سے شہد بنے گا۔ شہد کی مکھی اپنا چھتہ کیسے کاریگری سے تیار کرتی ہے، جس کو دیکھ کر بڑے بڑے ماہرین ہندسہ حیران ہوتے ہیں، حالاں کہ اس نے کسی کی شاگردی نہیں کی کہ اس سے چھتہ بنانا سیکھا ہو۔
ہر ایک جانور بغیر اس کے کہ اُس نے علمِ طب پڑھا ہو، اپنی مفید اور مضر غذاؤں کی تمیز رکھتا ہے۔ کوئی چوپایہ ایسے گھانس پر منہ نہیں مارتا جو اس کے لیے مضر ہو۔ ایک بکری کا بچہ، جس نے کبھی بھیڑیا نہ دیکھا ہو، جب بھیڑیے کی صورت دیکھے گا تو اُس سے بھاگے گا اور ڈر جائے گا، کیوں کہ وہ فطرت پرجاتا ہے کہ یہ میرا دشمن ہے۔ اور ایک کتا اگر دریا میں پہلی مرتبہ ڈالا جائے تو تیرتا ہوا چلا جائے گا، حالاں کہ کسی نے اُس کو تیرنا سکھایا نہیں۔ اور جو علم اور ادراک بغیر سیکھے حاصل ہو، وہی القائے ربانی اورالہام ِیزدانی ہے۔
ہُدہُد جانور کا قصہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ وہ سلیمان علیہ السلام کا انجینئر تھا، وہ یہ بتلانے کے لیے ساتھ رہتا تھا کہ پانی سطح ارض سے کتنی گہرائی پر ہے۔
ہدہد کو بغیر کسی تعلیم و تعلّم کے پانی کے متعلق جو بصیرت حاصل ہے، وہ کسی بڑے سے بڑے ماہر انجینئر کو بھی نہیں حاصل۔ یہ الہام نہیں تو اور کیا ہے؟
علاوہ ازیں، ہدہد کو حق تعالیٰ نے ایسا فہم اور فراست عطا کی، جس کی بنا پر سلیمان علیہ السلام نے ہد ہد کو ملکۂ سبا کی طرف اپنا سفیر بنا کر بھیجا، جس کا قصہ قرآن کریم اور کتبِ تفاسیر میں مذکور ہے۔
پس جو خدا تعالیٰ ہدہد جیسے حیوانات کو بلا توسط حواسِ ظاہری، بلا جد و جہد، بلا سعی ،بلا کوشش اور بلا تعلیم و تعلّم اپنی ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے فطری طور پر علم عطا کر سکتا ہے وہ انسان کو بھی بلاتوسط حواس علم عطا کرسکتا ہے اور اس کو اپنے الہام سے نواز سکتا ہے۔
لہٰذا مدرکات کو فقط محسوسات میں منحصر سمجھ لینا، اور ذرائع ادراک کو فقط حواسِ خمسہ ظاہری پر مقصور کر دینا، اور یہ نظریہ قائم کر لینا کہ ہم صرف انہی چیزوں کو تسلیم کریں گے کہ جو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دے، اور زبان سے چکھی جائے اور ناک سے سونگھی جائے وغیرہ وغیرہ محض حماقت اور سراسر جہالت ہے۔
قال تعالی: {فَلا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ}۔ (الحاقة: ۳۸)
’’ پس قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں کی جن کو تم نہیں دیکھتے۔‘‘
اور جو چیزیں انسان نے دیکھی ہیں وہ معدود اور محدود ہیں، اور جن چیزوں کو نہیں دیکھا، ان کی کوئی حد اور شمار نہیں۔ پس بے دیکھی چیزوں کا انکار سراسر حماقت اور جہالت ہے۔
(۵)… نیز حو اس ظاہری کی درماندگی اور ان کا محدود اور ناقص ہونا سب کو معلوم ہے، سب کو معلوم ہے کہ ان حواس کی رسائی اس عالم تک محدود ہے، اور اسی عالم کے محسوسات ان کے ادراک کی غایت اور نہایت ہے۔ حواس ظاہری کے ذریعہ مادی اشیا کا ظاہری اور سرسری علم ہم کو حاصل ہو جاتا ہے، مگر حقیقتِ اصلیہ کا علم نہیں ہوتا، اور نہ ہو سکتا ہے۔ اور نہ ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے حواس ظاہری نے جو ادراک کیا ہے وہ قطعی اور یقینی ہے اور وہم و خیال سے پاک اور خطا سے مامون ہے؛لہٰذا پورا پورا اعتماد اور پورا پورا یقین محسوسات پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
حواسِ ظاہری میں قوی تر حاسہ، حاسۂ بصر ہے، اور وہ دیوار کے سایہ کو کھڑا دیکھاتی ہے اور یقین کراتی ہے کہ یہ سایہ غیر متحرک ہے، مگر تھوڑی ہی دیر بعد مشاہدہ اور تجربہ سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ ساکن نہ تھا، بل کہ وہ ایسی تدریجی حرکت کے ساتھ متحرک تھا کہ حاسۂ بصر کو اس تدریجی حرکت کا پتہ بھی نہیں چلا۔
اسی طرح آنکھیں ستاروں کو بقدر ایک روپیہ کے دیکھتی ہیں، مگر دلائلِ ہندسہ سے ثابت ہے کہ وہ ستارے زمین سے بڑے ہیں۔ ایسے ہی اور بہت سے محسوسات ہیں جن کی نسبت حو اس ظاہرہ ایک حکم دیتے ہیں اورعقل اس کو چھوٹا ثابت کرتی ہے۔ حو اس ظاہری نے جب عقل کی اس قوت اور شوکت اور سخت گرفت کو دیکھا، تو حواس بولے کہ اے عقل اگر ہمارے محسوسات قابلِ اعتماد نہیں، تو اے حاکمِ عقل، تیرے امورِ عقلیہ بھی قابلِ وثوق اور اعتماد نہیں۔ اگر عقل جیسا زبردست حاکم نہ ہوتا تو سب ہمیشہ ہمیشہ ہماری تصدیق کرتے رہتے، اور کسی کو ہمارے وثوق اور اعتماد میں شبہ نہ پڑتا، لیکن ممکن ہے کہ عقل کے اوپر بھی کوئی زبردست حاکم ہو جو عقل کی قلعی کھول دے، جیسا کہ عقل نے ہماری قلعی کھولی ہے۔ اور ممکن ہے کہ اُس زبردست حاکم کا جو عقل سے بڑھ کر ہو، اُس کا ادراک عقل کے ادراک سے بڑھ کر ہو، اور ایسا ہونا عقلاً کوئی محال نہیں۔ جیسے ہماری آنکھ خواب میں بہت سے امور دیکھتی ہے، جن کا اس وقت پورا یقین آجاتا ہے، اور ان میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہیں رہتی، لیکن جب آنکھ کھلتی ہے اور دم بھر میں عالم بیداری آجاتا ہے، تو اس وقت واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب خیالات بے اصل اور بے بنیاد تھے۔
پس اسی طرح کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ تمام امورِ عقلیہ اورحسیہ جن پر تم نے بحالت بیداری یقین کر لیا ہے وہ در حقیقت حق اور درست ہیں؟ ہاں، اتنا کہ سکتے ہیں کہ اس حالت کی نسبت سے حق اور صدق ہیں، لیکن اگر اس حالت پر کوئی اور حالت طاری ہو جائے، جس کو بیداری سے وہی نسبت ہو جو حالت خواب کو حالت بیداری سے ہو، تو اس وقت آپ کو یقین ہو جائے گا کہ جو کچھ آپ نے عقل کے زور سے خیالات پکائے تھے، وہ سب تو ہمات لا حاصل تھے۔
فَسَوْفَ تَرَی إِذَا انْکَشَفَ الْغُبَارُ
أَفَرَسٌ تَحْتَ رِجْلِکَ أَمْ حِمَارُ
اور شاید یہ حالت وہی حالت ہو کہ جب خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو ان کے نفسوں سے غائب کر کے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، اوراپنی جانب میں محو اورمستغرق کر لیتا ہے، اور وہ حضرات اس حالت میں ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جہاں عقل اور حواس کی رسائی نہیں ہوتی۔ اوروہ حالت اس دنیوی حالت سے اس قدر بلند اورارفع ہوتی ہے؛ جیسا کہ بیداری کی حالت خواب کی حالت سے اعلیٰ اورارفع ہوتی ہے، اور یہ ’’وحی‘‘ اور ’’الہام‘‘
کی حالت ہے۔ اورعجب نہیں کہ یہ حالت عوام کے حق میں موت کی حالت ہو،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: ’’الناس نیام فاذا ماتوا انتبھوا‘‘ ’’لوگ سوئے ہوئے ہیں، جب مریں گے، تب جاگیں گے۔‘‘
پس ایسی صورت میں حیاتِ دنیوی بہ نسبت عالمِ آخرت کے خواب معلوم ہوگی، اورعالمِ آخرت میں پہنچنے کے بعد عالمِ دنیا کی اشیا کی حقیقت دنیاوی مشاہدہ کے خلاف ظاہر ہوگی۔ اوراس وقت حق تعالیٰ کے اس قول کا مشاہدہ ہو جائے گا: {فکَشَفْنَا عَنکَ غِطَائکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدیدٌ}۔(سورۃ ق:۲۲)
’’پس ہم نے آج تجھ سے پردہ اٹھا دیا، پس تیری نظر بہت تیز ہے۔‘‘
(ماخوذ از:اثبات صانع عالم اورابطال مادیت وماہیت :صفحہ۵۲تا۶۰)
