ؒمعارفِ باندوی
مہاراشٹر سے ایک صاحب تشریف لائے اورحضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی کا ذکر کیا کہ: اللہ تعالیٰ ان سے بہت کام لے رہاہے۔ تقریباً پانچ سو مکاتب( فی الحال۲۲۲۱)) قائم کردیے ہیں اورخود ان کے مدرسہ میں تین ہزارطلبا تعلیم پار ہے ہیں(فی الحال علوم دینیہ میں الحمد للہ دس ہزار طلبہ ہیں)اتنے شاید کسی مدرسے میں نہ ہوں گے۔
ایک صاحب نے عرض کیا: جہاں تک میرا خیال ہے یہ ان کے خلوص کی برکت ہے۔ حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا: خیال کی کیا بات؟ واقعی ان کے خلوص کی برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ جس سے چاہے کام لے لے۔ مجھے ان کے شروع کے حالات معلوم ہیں، میرے بیٹے حبیب کے ساتھی ہیں، ایک مدرسہ میں پڑھاتے تھے، جب کتابیں تقسیم ہوئیں تو خود ہی فرما دیتے کہ :میرے اندر صلاحیت نہیں ہے،مجھے بڑی کتابیں نہ دیں۔ کئی سال پڑھاتے رہے۔مدرسے کے اطراف” مہارا شٹر“ کے دیہاتوں میں بھی جانا ہوتا۔ ایک دیہات میں گئے وہاں کے لوگوں کی بد دینی دیکھ کران کا دل دُکھا، وہاں محنت شروع کی، موقع نکال کرجاتے رہے۔ جب کام کچھ بڑھا،ترقی ہوئی توسوچا کہ ایک ساتھ دوکام نہیں ہو سکتے، مدرسہ میں استعفیٰ پیش کردیا۔
مدرسہ والوں نے بہت اصرار کیا کہ آپ مدرسے ہی میں رہیے، لیکن نہیں منظورکیا۔ میرے پاس سنگِ بنیاد کے لیے خط لکھا، حبیب نے مجھ سے کہا کہ یہ میرے ساتھی ہیں، میں نے تاریخ دے دی۔ وہاں گیا، اس وقت چھوٹی سی مسجد تھی،” سنگِ بنیاد“ رکھنا تھا، لوگوں سے نہ تعلقات تھے، نہ تعارف۔ لوگوں کو میری آمد کا علم ہوا، شہرت ہوئی، تمام مدارس کے مدرسین، منتظمین نے وہاں جانے کا نظام بنالیا۔ اب یہ بے چارہ پریشان کہ: ایسے دیہات میں کیسے اتنے لوگوں کا اورکیا کیا انتظام کروں گا؟ میرے ایسے رشتہ دار بھی نہیں کہ ان سے مددلوں، اللہ تعالیٰ نے غیب سے مدد فرمائی ۔ ”سورت“ کے مخیرحضرات نے اطلاع بھیجی کہ آپ پریشان نہ ہوں، جتنے لوگ آئیں گے سب کے کھانے کا انتظام میری طرف سے ہوگا۔” سورت“ سے وہ جگہ تقر یباً ۱۵۴/ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اتنی دور سے ٹرکوں میں کھانا پکا کرلے گئے اوراس معیار کا جس معیارکا وہ اپنے یہاں تقریبات میں کرتے تھے، دہی چٹنی وغیرہ سب ہی کچھ تھا، کھانے کے برتن، چمچ، دسترخوان، گلاس سب ساتھ لائے تھے۔ جب اللہ واسطے کوئی قربانی دیتا ہے،تواللہ اس کی مدد کرتا ہے۔
سنگِ بنیاد رکھا گیا، اس وقت توصرف ایک کھیت تھا، آج اسی مدرسہ میں تین ہزار(دس ہزار) بچے پڑھ ر ہے ہیں اورپانچ سو مکا تب( فی الحال۲۲۲۱) اس کی ماتحتی میں ہیں۔
جس وقت اس کا خاکہ تیار ہوا تھا تو۲۲/ لاکھ کا اُس کا تخمینہ تھا،ایک شخص نے کہا کہ تنہا میں خرچ کروں گا؛ چناں چہ ایک ہی شخص نے پوری عمارت بنوائی۔ مسجد کا پچاس لاکھ کا تخمینہ تھا ،تنہا ایک شخص نے پوری مسجد بنوائی اورجتنے بھی مکاتب چل رہے ہیں سب کا یہی حال ہے کہ تنہا ایک ایک آدمی پورے مکتب کا خرچ برداشت کیے ہوئے ہے۔
دیہاتوں میں مکاتب کا جال پھیلا رکھا ہے اور” سنگ بنیاد“ مجھ سے رکھواتے ہیں۔ جب جانا ہوتا ہے تو کئی کئی مدرسوں کا” سنگِ بنیاد“ رکھا جاتا ہے ایک یہاں ہے، ایک کہیں اور۔ میں بھی سوچتا ہوں کہ اتنے خلوص سے کام کر رہے ہیں، کچھ نہیں تو اتنا ہی تعاون کردوں، اتنا تو کر ہی سکتا ہوں۔
فارغ التحصیل طلباء کے لیے اہم مضمون:
ایک طالب علم حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا: محنت سے پڑھو اوراس نیت سے پڑھو کہ: علاقہ میں کام کرنا ہے، علاقہ خالی پڑا ہے کوئی کام کرنے والا نہیں۔ فلاں صاحب نے بڑی محنت سے پڑھا اُن سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن وہ بھی” حیدر آباد“ کمانے چلے گئے۔ ارے! کچھ کام اللہ واسطے ثواب کے لیے بھی تو کرنا چاہیے۔ سب کچھ دُنیا ہی میں لینا چاہتے ہو؟!! کچھ آخرت کے لیے بھی رکھنا چاہیے۔ جب آدمی کام میں لگتا ہے کچھ توحالات پیش آتے ہی ہیں۔ جنت یوں ہی تھوڑی مل جائے گی؟!!
حدیث شریف میں آیا ہے: جنت دوزخ کو فرشتوں کے سامنے ظاہر کیا گیا۔ فرشتوں نے کہا کہ:
کوئی شخص ایسا نہیں جو جنت میں نہ جائے اور کوئی شخص ایسا نہیں جو دوزخ میں جائے۔ اُس کے بعد جنت کو مکارہ اورناگوار چیزوں ، مصیبتوں سے گھیردیا گیا اوردوزخ پرخواہشات کا پردہ ڈال دیا گیا یعنی خواہشِ نفسانی سے اُس کو گھیر دیا گیا۔ پھر فرشتوں کو دکھلایا گیا۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ: یا اللہ! اب تو شاید ہی کوئی جنت میں جاسکے گا اور شاید ہی کوئی شخص دوزخ سے بچ سکے گا۔(جامع الترمذی )
جنت کو تو مکارہ اورمصائب سے گھیرا ہی گیا ہے۔ اس لیے آدمی جب لگتا ہے تو کچھ توپریشانیاں اورمصیبتیں آتی ہیں۔ مکارہ کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ نفس کے خلاف بہت سے اُمورپیش آتے ہیں۔ فقر وفاقہ، مال کی تنگی و بیماری، پریشانی بہت سے امور پیش آتے ہیں یہ سب بھی مکارہ میں داخل ہیں۔ جب حالات آئیں گے ان کو برداشت کرنا چاہیے،حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ مقدر کی روزی مل کررہتی ہے اورمقدر سے زائد مل نہیں سکتی، اس لیے آدمی کام میں لگا ر ہے۔ تواب تو ملے گا ہی اورمقدرکی روزی کہیں نہیں جائے گی۔
اللہ کا شکر ہے! میں نے اس نیت سے پڑھا تھا کہ: پڑھنے کے بعداسی لائن میں لگناہے۔ البتہ نیت میں یہ کھوٹ ضرورتھا کہ: پڑھنے کے بعد ایسی جگہ ملے جہاں پڑھانے کو خوب کتابیں ملیں، چناں چہ اسی نیت سے کتابیں بھی خریدی تھیں۔ اللہ نے حفاظت فرمائی۔ لوگوں نے بتایا کہ: علاقہ میں ارتداد پھیل رہا ہے، اتنے لوگ مرتد ہو چکے ہیں۔ بس! اُسی وقت سے طے کرلیا کہ: علاقہ میں کام کرنا ہے، کتابیں پڑھانے کوملیں یا نہ ملیں یہاں تو کلمہ کے لالے پڑے ہیں ہم کتا بیں لیے بیٹھے ہیں۔
اللہ کا شکرکام کیا، دو ماہ کے بعد لڑ کے عربی، فارسی کے آنے لگے۔ حالات جیسے ہوں، اُسی کے مطابق آدمی کام کرے، ناظرہ ہی پڑھائے، عربی، فارسی کے لیے دوچار لڑ کے مل ہی جاتے ہیں، اُن کو بھی پڑھاتا رہے، اس میں کیا نقصان ہے؟ میں نے ناظرہ سے پڑھانا شروع کیا،اب جو حال ہے آپ لوگ دیکھ رہے ہیں۔(بحوالہ افادات صدیق صفحہ ۱۲۲ )
