مولانا افتخار احمد قاسمی بستوی/استاذ جامعہ اکل کوا
اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم ترین نعمتوں میں ایک نعمت عقل وخرد ہے جوانسان وحیوان کے درمیان فرق کرتی ہے۔یعنی انسان چرند وپرند، حیوان وجمادات و نباتات سے افضل اورممتاز حیثیت رکھتا ہےتواس کی وجہ یہی عقل ہے۔ اسی کے ذریعے سے انسان بڑے چھوٹے،صحیح وغلط اوراچھے برے کی تمیزکرتا ہے۔
بانیٔ دارالعلوم دیوبند امام قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عقل حاکم ہے اورخوف، شوق، ارادہ، اختیاراوراعضا و جوارح کا مجموعہ یعنی قوت ِعملیہ محکوم۔
اور اسی عقل کی بنیاد پرانسان کوشرعی احکام کا مکلف بنایاگیا ہے کہ شرعی احکام میں جس طرح انسان مکلف ہیں دوسری تمام مخلوقات جوغیرذوی العقول ہیں جیسے جمادات ونباتات،چرندو پرند،احجارواشجاریہ سب غیرذوی العقول ہونے کی وجہ سے شریعت کے مکلف نہیں۔بل کہ یوں کہیے کہ اگر انسان کی بھی عقل زائل ہوجائے تو وہ بھی شرعی احکامات کا مکلف نہیں رہتا،جیسا کہ جنون،غشی،بے ہوشی وغیرہ کی وجہ سے کسی کی عقل زائل ہوجائے تو وہ شرعی مکلف نہیں رہتا یعنی اس سے نماز وغیرہ کی فرضیت زائل ہوجاتی ہے۔
بہرحال عقل وشعورانسانی تخلیق کا ایک اہم عنصر ہے۔ہم اس تحریر میں اسی حوالے سے کچھ اہم بحوث ذکر کریں گے، جس میں اس کی اصل اورحیثیت سے لے کردیگرکئی ایک موضوع بھی اپنے اپنے مقام پرجزواً آجائیں گے۔ان شاء اللہ!
عقل و خرد کس کا نام ہے؟
اس حوالے سے لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے،ہم اس بارے میں امام ابن تیمیہ اورابن القیم رحمہما اللہ کے قول پیش کرتے ہیں،جو اس حوالے سے ہمیں بہتر معلوم ہوتے ہیں۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول:
’’إن اسم العقل عند المسلمین وجمہور العقلاء إنما ہو صفة وہو الذی یسمی عرضا قائما بالعاقل۔‘‘
یعنی: اسم عقل مسلمانوں اورجمہورعقلا کے یہاں ایسی صفت ہے جس کانام عرض رکھا جاتا ہے اورعاقل کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
’’والعقل المشروط فی التکلیف لا بد ا ن یکون علوما یمیز بہا الإنسان بین ما ینفعه وما یضرہ فالمجنون الذی لا یمیز بین الدراہم والفلوس ولا بین ایام الا سبوع ولا یفقه ما یقال له من الکلام لیس بعاقل اما من فہم الکلام ومیز بین ما ینفعه وما یضرہ فہو عاقل۔‘‘
یعنی: وہ عقل کہ جس کی اسلامی احکامات کے مکلف ہونے کے لیے شرط لگائی گئی ہے،وہ ان علوم کا نام ہے کہ جن کے ذریعے سے انسان نفع و نقصان کے درمیان فرق کرتا ہے۔ایسا مجنون جودرہم و فلوس کے درمیان فرق نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس سے جو کلام کیا جائے وہ سمجھ سکے تو وہ عاقل نہیں۔البتہ جو کلام سمجھے اور نفع و نقصان میں فرق کرسکے تو وہ عاقل ہے۔(مجموع الفتاوی: 9/287)
پھر اس حوالے سے مزید مؤقفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ عقل علوم ضروریہ کا نام ہے۔بعض کہتے ہیں کہ عقل ان علوم ضروریہ کے بموجب عمل کانام ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ اسم عقل ان دونوں چیزوں کو شامل ہے۔کبھی عقل سے مراد وہ جبلی عقل لی جاتی ہے جس کے زریعے سے انسان جانتا ہے، نقصان سے بچتے ہوئے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جیساکہ امام احمد، حارث المحاسبی وغیرہ کے نزدیک عقل اسی جبلی سمجھ بوجھ کا نام ہے۔اورجمہورعقلا اس جبلی عقل کا اثبات کرتے ہیں،جس طرح آنکھ میں ایک ایسی قوت ہے جس کے ذریعے سے انسان دیکھتا ہے اورزبان میں ایک قوت ہے جس کے ذریعے سے وہ چکھتا ہے۔اور جلد میں قوت ہے کہ جس کے ذریعے سے انسان چھوتا ہے۔جمہورعقلا ان قوتوں کا اثبات کرتے ہیں۔(اسی طرح عقل بھی جبلی طورپرسمجھنے کی ایک قوت ہے)بعض نے ان قوتوں اورطبائع کا انکار کیا ہے۔ جیسا کہ ابوالحسن اوراصحاب مالک،اصحاب شافعی اوراصحاب احمد رحمہم اللہ جمیعاًوغیرہ میں سے جو اس کے پیروکار ہیں۔‘‘(مجموع الفتاوی:9/287)
اہم ترین بات:
واضح رہے کہ دینی معاملات اور شرعی احکامات وحی الٰہی کے تابع ہیں اوروحی کا آغاز ہی وہیں سے ہوتا ہے جہاں جا کر انسانی عقل کی انتہا ہوجاتی ہے، اس لیے دینی معاملات میں عقل کا استعمال اورعقل کی پیروی بے عقلی کی دلیل ہے۔ایک مسلمان کی کامیابی اورسعادت اسی میں ہے کہ خود کو وحیِ الٰہی کا تابع بنائے، خواہ وہ اس کی عقل میں آئے یا اس کی عقل سے بالاتر ہو،عقل پرستی کا شکار ہوگا تو دنیا وآخرت دونوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واللہ اعلم (بنوری ٹاؤن)
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’والْعقل عقلان عقل غریزۃ وَہُوَ اب الْعلم ومربیه ومتمرہ وعقل مکتسب مُسْتَفَاد وَہُوَ ولد الْعلم وثمرته ونتیجته فَإِذا اجْتمعَا فِی العَبْد فَذَلِک فضل اللّٰہ یؤتیه من یَشَاء واستقام لَهُ امْرَہْ واقبلت عَلَیْهِ جیوش السَّعَادَۃ من کل جَانب وَإِذا فقد احدہما فالحیوان البہیم احسن حَالا مِنْهُ۔‘‘
یعنی: عقل کی دو طرح کی ہے۔
(۱) عقل غریزۃ:(یعنی جوجبلت میں موجود ہے،جس قدریہ جبلی عقل قوی ہوگی اسی قدرعلم کے اعلی مراتب اور گہرائیاں حاصل ہوجائیں گی۔)علم کی اصل(یعنی یہ جبلی عقل ہوگی توعلم صحیح حاصل ہوگا) اوراس کے حصول و اضافہ کا بھی بنیادی ذریعہ یہی ہے۔
(۲) عقل جو کہ حاصل ہوتی ہے۔(اس سے مراد شعور ووبصیرت ہے۔)یہ علم کی فرع،ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ (یعنی علم کے آنے کی وجہ سے جو عقل و شعور حاصل ہوتا ہے۔اسے ولد العلم اس لیے کہا گیا کہ علم کی وجہ سے اس میں اضافہ اورترقی ہوتی ہے۔یعنی جس قدرعلم آئے گا اسی قدراس(دوسری قسم کے) عقل و شعور میں ترقی ہوگی۔)یہ دونوں(جبلی عقل اورشعوربصیرت) جس میں جمع ہوجائیں (یہ اللہ کا فضل ہے۔جسے اللہ تعالی عطا فرمادے۔) اس کا معاملہ سیدھا ہوجاتا ہے۔نیک بختی اسے حاصل ہوجاتی ہے۔اوران میں سے ایک قسم کی بھی عقل نہ ہوتو ایسے شخص سے جانور بہتر ہے۔ (مفتاح دارالسعادۃ)
ان دونوں اقوال سے عقل کی حقیقت اورماہیت واضح ہوجاتی ہے کہ عقل اس معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے جو جبلی طور پرانسان میں موجود ہے اوردوسرا معنی شعورو بصیرت جوعلم اورتجربہ سے انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کے لیے بھی لفظ عقل بولا جاتا ہے۔
انسانی خلقت کا ممتاز وصف
عقل و شعور کی اہمیت:
چوںکہ یہ انسانی خلقت کا ممتاز وصف ہے،اسی لیے اسلام نے بھی اس کی اہمیت کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔قرآن مجید،احادیث اوراقوال السلف،سب میں اس کی اہمیت ملتی ہے،ذیل میں ہم اسے ذکر کیے دیتے ہیں۔
قرآن اوردلائلِ عقلیہ:
قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے جہاں اپنی دیگر نعمتوں کا ذکر کیا وہاں اس عقل و شعور کا بھی مختلف انداز میں ذکر موجود ہے۔مثلاًسورۃ الفجر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے پانچ مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا: {ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ} (الفجر:۵) یعنی: ان باتوں میں اہل عقل کے لیے ضروربڑی قسم ہے۔
بل کہ قرآن مجید میں بکثرت ایسی آیات موجودہیں کہ جن میں مختلف قسم کی نشانیوں کے ذکر بعد اہل عقل کو سمجھنے کی دعوت دی گئی،کہیں اللہ تعالی نے مشرکین کو قرآن مجید میں کئی مقامات پردلائل عقلیہ کے ذریعے سے بھی توحید کے فہم کی دعوت دی۔اور مختلف قسم کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد یہی فرمایا کہ عقل مند لوگ ہی سمجھیں گے،نصیحت حاصل کریں گے یا عبرت پکڑیں گے، کہیں خاص اہل عقل سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اللہ کے ڈر کی دعوت دی گئی۔ایسی آیات بڑی تعداد میں موجود ہیں،بعض نے ۳۰۰ کی تحدید کی،مگر ایسی آیات اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں،جن میں سے ہم صرف چند ایک کے حوالے درج کرتے ہیں۔
(سورۃ البقرۃ:۷۳، ۱۶۴، ۱۷۹، ۱۹۷، ۲۶۹)-(آل عمران:۷، ۱۹۰، المائدۃ:۱۰۰، یوسف: ۱۱۱، الرعد: ۴، ۱۹
احادیث اور عقل و شعور:
احادیث میں بھی عقل وشعورکی اہمیت کا ذکر مختلف انداز میں ملتا ہے،جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ یُرِدِ اللہُ بِهِ خَیْرًا یُفَقِّہْه فِی الدِّینِ‘‘یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے،اسے دین کا فہم عطا فرمادیتا ہے۔ (صحیح مسلم:۱۰۳۷عن معاویۃ، جامع ترمذی: ۲۶۴۵عن ابن عباس، وقال الترمذی ’’و فی الباب عن عمر، و ابی ھریرۃ،و معاویۃ‘‘)
رسول اللہ صلی اللہ نے اشج عبد القیس سے جو قبیلہ عبد القیس کا سردار تھا فرمایا:
’’إِنَّ فِیکَ خَصْلَتَیْنِ یُحِبُّہُمَا اللہُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاۃُ‘‘(صحیح مسلم:۱۷)
تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جن کواللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے سمجھ داری اور سوچ سمجھ کر کام کرنا۔
اس حدیث سے واضح ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صفت کا خصوصی ذکر کرکے اشج عبدالقیس کی تعریف کی۔ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اس وصف کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ایک روایت میں تو صاحب عقل و دانا شخص کو قابل رشک تک قرار دیا گیا،چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’لا حسد إلا فی اثنتین رجل آتاہ اللہ مالا فسلطه علی ہلکته فی الحق ورجل آتاہ اللہ حکمة فہو یقضی بہا ویعلمہا۔‘‘
یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:دوآدمیوں کے سوا کسی پررشک کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے دانائی عطا فرمائی اوروہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہو۔(صحیح بخاری:73، صحیح مسلم:816)
مزید یہ کہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں صفوں کی درستگی کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’لِیَلِنِی مِنْکُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّہَی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ‘‘
یعنی تم میں سے جوعقلمند اورسمجھدار ہوں وہ میرے قریب کھڑے ہوں، پھرجو(اس وصف میں)ان کے قریب ہوں پھرجو(اس وصف میں) ان کے قریب ہوں۔(صحیح مسلم:432،سنن ابی داؤد: 674)
عظیم ترین وصف:
اس حدیث سے بھی اس عظیم وصف (عقل و شعور) کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔
ایک حدیث میں آخرت کو یاد رکھنے والے کوعقل مند قراردیا۔چناچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس دوران ایک انصاری شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا،پھراس نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!
’’أَیُّ الْمُؤْمِنِینَ أَفْضَلُ؟‘‘
تمام مومنوں میں سے کون سا مومن افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
’’أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا‘‘
جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ پھراس شخص نے پوچھا:
’’فَأَیُّ الْمُؤْمِنِینَ أَکْیَسُ؟‘‘
مؤمنین میں سے کون سا شخص زیادہ عقل مند اوردانا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
’’أَکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا، وَأَحْسَنُہُمْ لِمَا بَعْدَہُ اسْتِعْدَادًا، أُولَئِکَ الْأَکْیَاسُ‘‘
جو موت کو بہت یادکرنے والا اوراس کے بعد (آخرت میں جو کچھ ہونا ہے) کی تیاری کرنے والاہے، وہی عقلمند ہے۔(سنن ابن ماجۃ: 4259)
خلاصہ یہ ہے کہ احادیث کی روشنی میں بھی اس کی اہمیت واضح ہوگئی کہ کہیں یہ ایسا وصف نظر آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کے سامنے ہی تعریف فرمارہے ہیں،کہیں ایسے شخص کو قابل رشک قرار دیا،کہیں نماز میں اقرب ترین افراد کے لیے اسی وصف میں برتری کو معیار بنادیا گیا،کہیں اسے اللہ تعالی کے ارادۂ خیرسے تعبیرکیا گیا۔
الغرض مختلف اندازمیں اس وصف کا ذکر واہمیت موجود ہے۔اب آئیے اقوال سلف صالحین کی طرف کہ انہوں نے شعور و بصیرت کو کیا اہمیت دی؟ اوراہل عقل کے کیا اوصاف بیان کئے؟۔
عقل و شعور کے بارے میں سلف صالحین کے اقوال:
اہل علم نے عقل وشعورکی حیثیت واہمیت پربحث کی ہے، بل کہ ابن ابی الدنیا کی اس حوالے سے مستقل کتاب ہے ’’العقل و فضلہ‘‘ اسی طرح امام بیہقی نے شعب الایمان میں اس حوالے سے مستقل ایک فصل قائم کی ہے،اگر چہ اس کے تحت بعض ایسی احادیث بھی ہیں جوصحت تک نہیں پہنچتیں، البتہ اس فصل کے تحت انہوں نے کئی اہل علم کے اقوال بھی نقل کئے ہیں جن میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کاقول:
’’قِیلَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُبَارَکِ: أَیُّ خَصْلَةٍ فِی الْإِنْسَانِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ’’غَرِیزَۃُ عَقْلٍ‘‘، قیلَ: فَإِنْ لَمْ یَکُنْ؟ قَالَ: ’’فَأَدَبٌ حَسَنٌ‘‘ قِیلَ: فَإِنْ لَمْ یَکُنْ؟ قَالَ: ’’أَخٌ شَقِیقٌ یُشَاوِرُہُ‘‘، قِیلَ: فَإِنْ لَمْ یَکُنْ؟ قَالَ: ’’فَصَمْتٌ طَوِیلٌ‘‘، قِیلَ: فَإِنْ لَمْ یَکُنْ؟ قَالَ: ’’فَمَوْتٌ عَاجِلٌ‘‘
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ انسان میں کون سی خصلت سب سے اچھی ہے؟انہوں نے جواب دیا:بہت زیادہ عقل و فہم کا ہونا۔ ان سے پوچھاگیا:اگر یہ نہ ہو؟انہوں نے جواب دیا:اچھا ادب۔ ان سے پوچھا گیا:اگر یہ بھی نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا:اس کا بھائی جواسے اچھامشورہ دے۔پوچھا گیااگر یہ بھی نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا طویل خاموشی۔ پوچھا گیا: اگر یہ بھی نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ پھر جلدی آنے والی موت۔(شعب الایمان:4354)
احمد بن ابی عاصم الانطاکی رحمہ اللہ کا قول:
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاکِیُّ: ’’أَنْفَعُ الْعَقْلِ مَا عَرَّفَکَ نِعَمَ اللہِ عَلَیْکَ وَأَعَانَکَ عَلَی شُکْرِہَا، وَقَامَ بِخِلَافِ الْہَوَی‘‘
یعنی:احمد بن عاصم انطاکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ نافع عقل یہ ہے کہ جس کے ذریعے سے آپ کو اللہ کی نعمتوں کی پہچان ہوجائے،اورجوان نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں تیری مدد کر ے،اورجو تجھے خواہشات کی پیروی نہ کرنے دے۔(شعب الایمان:4341)
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کا قول:
قَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَةَ: ’’لَیْسَ الْعَاقِلُ الَّذِی یَعْرِفُ الْخَیْرَ وَالشَّرَّ، إِنَّمَا الْعَاقِلُ إِذَا رَأَی الْخَیْرَ اتَّبَعَهُ، وَإِذَا رَأَی الشَّرَّ اجْتَنَبَهُ ۔
سفیان بن عیینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقل مند وہ نہیں جو خیر و شر کو جانتا ہو، بل کہ عقل مند وہ ہے جو خیر کو دیکھے تو اسے اپنالے۔ اور شر کو دیکھے تو اس سے اجتناب کرے۔(شعب الایمان:4342)
ابوعمرو الزجاجی رحمہ اللہ کا قول:
کَانَ النَّاسُ فِی الْجَاہِلِیَّةِ یَتَّبِعُونَ مَا تَسْتَحْسِنُهُ عُقُولُہُمْ وَطَبَائِعُہُمْ، فَجَائَ النَّبِیُّ ﷺ فَرَدَّہُمْ إِلَی الشَّرِیعَةِ وَالِاتِّبَاعِ فَالْعَقْلُ الصَّحِیحُ الَّذِی یَسْتَحْسِنُ مَحَاسِنَ الشَّرِیعَةِ، وَیَسْتَقْبِحُ مَا یَسْتَقْبِحُهُ۔
ابوعمرو الزجاجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دورجاہلیت میں لوگوں کا معاملہ یہ تھا کہ جوان کی عقلوں اورطبیعتوں کو اچھا لگتا اسی کو اختیار کرلیتے،پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شریعت کی طرف اوراپنی اتباع کی طرف پھیردیا۔پس عقل صحیح وہی ہے جو شریعت کے محاسن کو اچھا سمجھے اور شریعت جسے قبیح قرار دے اسے قبیح سمجھے۔(شعب الایمان:4343)
قیس بن ساعدہ رحمہ اللہ کا قول:
قِیلَ لِقَیْسِ بْنِ سَاعِدَۃَ: مَا الْعَقْلُ؟ قَالَ: ’’مَعْرِفَةُ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ‘‘
قیس بن ساعدۃ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ عقل کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: انسان کا اپنے نفس کو پہچان لینا عقل مندی ہے۔(شعب الایمان: 4349)
ابو عبداللہ النباجی رحمہ اللہ کا قول:
کَانَ أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ النبَّاجِیُّ رَحِمَهُ اللّٰہُ یَقُولُ: ’’کَیْفَ یَکُونُ عَاقِلًا مَنْ لَمْ یَکُنْ لِنَفْسِهِ نَاظِرًا، أَمْ کَیْفَ یَکُونُ عَاقِلًا مَنْ یَطْلُبُ بِأَعْمَالِ طَاعَتِهِ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ ثَوَابًا عَاجِلًا، أَمْ کَیْفَ یَکُونُ عَاقِلًا مَنْ کَانَ بِعُیُوبِ نَفْسِهِ جَاہِلًا، وَفِی عیوبِ غَیْرِہِ نَاظِرًا، أَمْ کَیْفَ یَکُونُ عَاقِلًا مَنْ لَمْ یَکُنْ لِمَا یَرَاہُ مِنَ النَّقْصِ فِی نَفْسِهِ أَنَّهُ مَحْزُونًا بَاکِیًا، أَمْ کَیْفَ یَکُونُ عَاقِلًا مَنْ کَانَ فِی قِلَّةِ الْحَیَائِ مِنَ اللہِ عَزَّ وجل اسْمُهُ مُتَمَادِیًا‘‘
ابو عبداللہ النباجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے نفس پرغورنہ کرنے والا کیسے عا قل ہوسکتا ہے؟ یا اعمال طاعت میں لوگوں سے جلدی بدلہ مانگنے والا کیسےعاقل ہوسکتا ہے؟یا اپنےعیبوں سے ناواقف اوردوسروں کےعیوب تلاش کرنے والا کیسے عاقل ہوسکتا ہے؟ یا اپنے نفس میں خامی نہ دیکھنے والا کیسے عاقل ہوسکتا ہے؟ ایسا شخص توغمزدہ ہی ہوگا۔ یا اللہ سے حیاء نہ کرنے والا کیسے عقل مند ہوسکتا ہے؟۔(شعب الایمان:4350)
اس قول کی روشنی میں عقل مند کےاوصاف معلوم ہوئے کہ وہ اپنے نفس پرغور کرنے والا، نیکی صرف اللہ کے لیے کرنے والا، اپنے عیبوں اورخامیوں پر نظر رکھنے والااور اللہ سے حیا کرنے والا ہوتا ہے۔
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول:
کَانَ السَّلَفُ یَقُولُ: إِنَّ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ زَکَاۃً، وَزَکَاۃَ الْعَقْلِ طُولُ الْحُزْنِ
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلف فرمایا کرتے تھے کہ ہرچیز کی زکوۃ ہوتی ہے اورعقل کی زکوۃ طویل حزن ہے۔(شعب الایمان: 4351)
منصور بن معتمر رحمہ اللہ دعا میں عقل صحیح طلب کیا کرتے تھے:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی إِسْمَاعِیلَ، قَالَ: کُنَّا نُجَالِسُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ، فإِذَا أَرَادَ أَنْ یَقُومَ اعْتَمَدَ عَلَی یَدَیْهِ، وَقَالَ: ’’اللہُمَّ اجْمَعْ عَلَی الْہُدَی أَمْرَنَا، وَاجْعَلِ التَّقْوَی زَادَنَا، وَالْجَنَّةَ مَآبَنَا، وَارْزُقْنَا شُکْرًا یُرْضِیکَ عَنَّا، وَوَرَعًا یَحْجِزُنَا عَنْ مَعَاصیکَ، وَخُلُقًا نَعِیشُ بِهِ بَیْنَ النَّاسِ وَعَقْلًا یَنْفَعُنَا بِہِ‘‘، قَالَ: فَکَانَ إِذَا قَالَ: وَعَقْلًا یَنْفَعُنَا بِهِ یَأْخُذُنِی الضَّحِکُ، فَیَقُولُ: ’’مِنْ أَیِّ شَیْئٍ تَضْحَکُ یَا ابْنَ أَبِی إِسْمَاعِیلَ؟ قال إِنَّ الرَّجُلَ لَیَکُونُ عِنْدَہُ وَیَکُونُ عِنْدَہُ، وَلَا یَکُونُ لَهُ عَقْلٌ فَلَا یَکُونُ عِنْدَہُ شَیْئٌ‘‘
محمد بن ابی اسماعیل فرماتے ہیں کہ ہم منصور بن معتمر کے ساتھ ہوتے اور وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے سہارالیتے ہوئے کھڑے ہوتے وقت یہ پڑھا کرتے تھے: اے اللہ ہمارے معاملے کو ہدایت پر جمع کردے اورتقوی کو ہمارا زاد راہ بنادے اور جنت کو ہمارا ٹھکانہ بنادے اورہمیں شکر کی توفیق دے کہ جو تجھے راضی کردے۔اورایسی ورع کہ جو تیری نافرمانی سے روک لے اوراچھے اخلاق جس کے ساتھ ہم لوگوں کے درمیان رہیں اورایسی عقل جو ہمیں فائدہ پہنچائے۔محمد بن ابی اسماعیل کہتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ کہا (یعنی عقل کے بارے میں بھی دعاکی)تو مجھے ہنسی آگئی۔ منصور بن معتمر فرمانے لگے ابواسماعیل کیوں ہنستے ہو؟ آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ بھی اس کے پاس ہو اور وہ بھی اس کے پاس ہو۔ لیکن جس کے پاس عقل نہ ہو اس کے پاس کوئی چیز نہیں۔ (یعنی ہر شے کے بارے میں جہاں دعاکی جاتی ہے وہاں عقل صحیح کے بارے میں دعا کرنا زیادہ ضروری ہے۔)(شعب الایمان:4378)
ابوعاصم رحمہ اللہ کا قول:
کَانَتِ الْعَرَبُ تَقُولُ: کُلُّ صَدِیقٍ لَیْسَ لَهُ عَقْلٌ فَہُوَ أَشَدُّ عَلَیْکَ مِنْ عَدُوِّکَ
ابوعاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں عرب یہ کہا کرتے تھے کہ بے عقل دوست دشمن سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔(شعب الایمان:9025)
امام شعبی رحمہ اللہ کا قول:
إِنَّمَا کَانَ یَطْلُبُ ہَذَا الْعِلْمَ مَنِ اجْتَمَعَتْ فِیهِ خَصْلَتَانِ: الْعَقْلُ وَالنُّسُکُ، فَإِنْ کَانَ نَاسِکًا، وَلَمْ یَکُنْ عَاقِلًا، قَالَ: ہَذَا أَمْرٌ لَا یَنَالُهُ إِلَّا الْعُقَلَائُ فَلَمْ یَطْلُبْهُ، وَإِنْ کَانَ عَاقِلًا، وَلَمْ یَکُنْ نَاسِکًا قَالَ: ہَذَا أَمْرٌ لَا یَنَالُهُ إِلَّا النُّسَّاکُ، فَلَمْ یَطْلُبْهُ. فَقَالَ: الشَّعْبِیُّ وَلَقَدْ رَہِبْتُ أَنْ یَکُونَ یَطْلُبُه الْیَوْمَ مَنْ لَیْسَتْ فِیهِ وَاحِدَۃٌ مِنْہُمَا: لَا عَقْلٌ وَلَا نُسُکٌ‘‘
یعنی: امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ علم وہ شخص طلب کرے جس میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں،عقلمندی اورعبادت گزاری۔ جو شخص عبادت گزار ہو اورعقل مند نہ ہو۔ وہ یہ کہے گا یہ وہ کام ہے جسےعقل مند ہی حاصل کرسکتے ہیں، اس لیے وہ اسے حاصل نہیں کرے گا۔ اوراگروہ شخص جوعقلمند ہواورعبادت گزار نہ ہو تو وہ کہے گا کہ یہ وہ معاملہ ہے جسے عبادت گزار ہی حاصل کر سکتے ہیں، اس لیے وہ اس علم کو حاصل نہیں کرے گا۔ شعبی ارشاد فرماتے ہیں اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ آج کل وہ لوگ علم حاصل کرنا شروع نہ کر چکے ہوں جن میں ان دونوں میں سے کوئی بھی خصوصیات نہیں پائی جاتی۔ نہ عقل پائی جاتی ہے اورنہ عبادت گزاری پائی جاتی ہے۔‘‘(سنن الدارمی:383)
یہ قول بڑا ہی قابل غور ہے،اس قول کی گہرائی میں جایا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ تینوں چیزیں علم،عقل اورعبادت باہم ایسا تعلق رکھتی ہیں کہ ایک شے کی اصلاح کے لیے باقی دونوں کا بھی اس سے متصل ہونا ضروری ہے۔ مثلاً عقل کا عبادت وعلم دونوں سے تعلق ہے۔یعنی ایسی عقل کا کیا فائدہ جس کے ذریعے سے نہ عبادت کو سمجھا جائے اور نہ ہی اس کے ذریعے سے حصول علم کی کوشش کی جائے۔
اسی طرح علم کا عقل وعبادت دونوں سے بڑا گہراتعلق ہے۔علم کاحصول عقلِ صحیح کے بغیر ممکن ہی نہیں۔اورعلم ِنافع اس وقت ہوتاہے،جب اس پرعمل کیا جائے۔جوکہ عبادت کہلاتا ہے۔
عبادت کا عقلِ صحیح وفہم ِصحیح سے گہرا تعلق :
اسی طرح عبادت کا علمِ صحیح اورعقل وفہم ِصحیح دونوں سے بڑا گہرا تعلق ہے۔اس لیے کہ عبادت ِمطلوب جواللہ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ اس کی اساس یہی ہے کہ اس عبادت کے بارے میں شرعی علم بھی ہوکہ یہ عمل شریعت سے ثابت بھی ہے یا نہیں اوراگرثابت ہے تواس عبادت کے بجالانے کا کیا طریقہ ہے؟جب یہ علم ہوگا تویہ عبادت مقبول ہوگی ورنہ کتنے ہی لوگ عبادت وغیرعبادت کے درمیان فرق ہی نہیں کرپاتے۔سنت کو بدعت اوربدعت کو سنت سمجھ لیتے ہیں۔اوریہ علم،عقل و شعور کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے۔
امام شعبی کے اس مذکورہ قول خصوصاً اس کے آخری حصے کو اس تفصیل کی روشنی میں سمجھا جائے تو اس قول کی گہرائی معلوم ہوتی ہے۔
یقیناً یہ اقوال بڑے رہنما اور پرحکمت اقوال ہیں۔ان اقوال سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلاف کے یہاں دانا اورنادان شخص کا کیا معیار تھا؟؟
عقل و شعور انبیاء و مومنین کا وصف:
قرآن مجید میں عقل وشعوراوربصیرت کوانبیا ومومنین کےعمدہ وصف کے طوربھی بیان کیا گیا ہے جیسا کہ بعض انبیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمان باری تعالی ہے:
{وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ} (ص – 45)
اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اوریعقوب کویاد کیجئے جوبڑی قوت عمل رکھنے والے او صاحبان بصیرت تھے۔
اس آیت میں چند انبیاء کانام لے کران کے اہل بصیرت ہونے کی گواہی دی گئی۔اسی طرح فرمان باری تعالی ہے:
{قُلْ ہٰذِہِ سَبِیْلِی أَدْعُوْٓ إِلَی اللہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَمَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ} (یوسف – 108)
کہہ دیجیے یہی میراراستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اوروہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اوراللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں میں سے نہیں ہوں۔
اس آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کی بصیرت کا بیان ہے۔
اسی طرح سورۃ الزمرمیں بھی مومنین اورمتبعین کا یہی وصف اس انداز میں بیان کیا گیا،چناچہ ارشاد الہی ہے:
{الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَه أُولَٰئِکَ الَّذِینَ ہَدَاہُمُ اللّہُ وَأُولَٰئِکَ ہُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ} (الزمر – 18)
جوبات کوتوجہ سے سنتے ہیں پھراس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی اوریہی دانشمند ہیں۔
اس آیت میں مومنین کا وصف بیان ہوا کہ وہ ہدایت یافتہ اورعقل والے ہیں۔
اسی طرح حدیث میں ہے کہ:
{لاَ یُلْدَغُ المُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ}
مومن ایک بل سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا۔ (صحیح بخاری:6133،صحیح مسلم:2998)
یہ حدیث بھی مومن کی فراست و بصیرت کو واضح کردیتی ہے۔کہ مومن کواگردانستہ نا دانستہ کبھی ٹھوکر لگ بھی جائے اور وہ کسی دھوکہ یا نقصان کا شکار ہوبھی جائے،تو وہ مسلسل ایسی غلطیوں کا شکار نہیں ہوتااوراپنی اصلاح کرتا ہے۔
بصیرت ایمانی:
مومن صاحب بصیرت ہوتا ہے اوراس کی بنیاد دین اسلام کا فہم اوراس سے وابستگی ہے۔جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے فتنے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک شخص دجال کی جھوٹی ربوبیت کا انکار کرے گا،تو دجال اسے قتل کرے گا، دو ٹکڑے کردے گا،پھر دوبارہ زندہ کرکے پوچھے گا کہ بتا! تیرا رب کون ہے؟ یہ شخص کہے گا: میرا رب اللہ ہے۔اورتواللہ کا دشمن دجال ہے۔ اور پھر کہے گا
{وَاللہِ مَا کُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِیرَۃً مِنِّی الیَوْمَ}
یعنی آج میں تیرے بارے میں (تیرے اس عمل کی وجہ سے)بصیرت میں مزید بڑھ گیا ہوں۔(کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی)
(صحیح بخاری:1882،صحیح مسلم: 2938، سنن ابن ماجہ:4077، مسند احمد: 37/3، صحیح ابن حبان:6801)
دیکھیں جب بڑی تعداد دجال کے فتنے میں آجائے گی، دین اسلام کے صحیح فہم کی وجہ سے حاصل ہونے والا شعور اور بصیرت مومن کے لیے جہاں دیگر کئی فتنوں سے نجات کاسبب بنے گی، وہاں یہ مومن انتہائی اضر (نقصان دہ)فتنۂ دجال سے محفوظ ہو جا ئے گا۔
میدان قتال:
مومن کی بصیرت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے، قرآن مجید میں مسلمانوں کے غلبہ کا تذکرہ کیا چناںچہ:
{یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الْقِتَالِ إِن یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُم مِّائَةً یَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُونَ الْآنَ خَفَّفَ اللَّہُ عَنکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا ، فَإِن یَکُن مِّنکُم مِّائَةٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ ، وَإِن یَکُن مِّنکُمْ أَلْفٌ یَغْلِبُوا أَلْفَیْنِ بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِینَ}۔ (الانفال – 65/66)
اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)! مسلمانوں کو جہاد پرابھاریئے اگرتم میں سے بیس صابرہوں تو وہ دو سو پرغالب آئیں گے اور اگر ایک سو ہوں تو کافروں کے ایک ہزار آدمیوں پرغالب آئیں گے۔ کیوں کہ کافرلوگ کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی اوراسے معلوم ہے کہ (اب) تم میں کمزوری ہے۔ لہذا اگر تم میں سے سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پرغالب آئیں گے اوراگرہزارہوں تواللہ کے حکم سے دو ہزار پرغالب آئیں گے اوراللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیت میں بڑے واضح انداز میں سو (100) مومنین کے دوسو (200)کافروں پرغالب آجانے کے اسباب میں سے ایک سب بیان کیا گیا کہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔ اور تمہارے پاس بصیرت موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کا سرسری مطالعہ کریں، کئی ایک جنگیں جن میں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود فتح یاب ہوئے، مثلاً غزوہ بدر میں 313مسلمان ایک ہزار کافروں پرغالب آگئے۔اسی طرح دیگر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورکی بل کہ خلفاء راشدین کے دورکی جنگوں میں بھی اس کا عملی نمونہ موجود ہے۔لہذا یہ بھی مومن کی بصیرت کی بڑی عظیم مثال ہے۔
حدود و قصاص
اس کا نفاذ اہل ایمان کی عقل و شعور کی علامت:
شریعت اسلامیہ کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ گناہ اوربرائیوں کی بیخ کنی اورمعاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام نے حدود وقصاص کا قانون بنایا کہ اگر کوئی کسی کوقتل کرے گا بدلےمیں اسے قتل ہی کیا جائے گا۔چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔زانی کورجم کیا جائے گا۔ شرابی کو بھی سزا دی جائے گی۔ تہمت لگانے والے کو اسّی (80)کوڑے لگائیں جائیں گے۔اگر کسی نے کسی کاہاتھ،پاؤں،ناک، ہاتھ،توڑا ہے تو بدلےمیں اس کا بھی وہی عضو توڑا جائے گا۔قرآن مجید نے اس قصاص کا قانون متعین کیا اورساتھ ہی اس کا فائدہ بھی بتلایا چناں چہ فرمان باری تعالی ہے:
{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی، الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَیٰ بِالْأُنثَیٰ فَمَنْ عُفِیَ لَهُ مِنْ أَخِیهِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَائٌ إِلَیْه بِإِحْسَانٍ ، ذَٰلِکَ تَخْفِیفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَةً فَمَنِ اعْتَدَیٰ بَعْدَ ذَٰلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِیمٌ ، وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَا أُولِی الْأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ} (البقرۃ – 178/179)
اے ایمان والو! قتل کے مقدمات میں تم پرقصاص فرض کیا گیا ہے۔ اگرمقتول آزاد ہے تو اس کے بدلے آزاد ہی قتل ہوگا۔ غلام کے بدلے غلام اورعورت کے بدلےعورت ہی قتل کی جائے گی۔ پھراگرقاتل کواس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تومعروف طریقے سے (خون بہا) کا تصفیہ ہونا چاہیے اورقاتل یہ رقم بہترطریقے سے (مقتول کے وارثوں کو) ادا کردے۔ یہ (دیت کی ادائیگی) تمہارے رب کی طرف سے رخصت اوراس کی رحمت ہے اس کی بعد جو شخص زیادتی کرے،اسے درد ناک عذاب ہوگا۔اور اے اہل عقل ودانش! تمہارے لیے قصاص ہی میں زندگی ہے۔ (اور یہ قانون اس لیے فرض کیا گیا ہے) کہ تم ایسے کاموں سے پرہیز کرو۔
ان دو آیات میں قصاص کا قانون بھی نافذ کیا گیا اوراس کے فوائدبتلاتے ہوئے اہل عقل کو مخاطب کیا اورفائدے بتلائے کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ قصاص میں زندگی ہے اوراس کے نفاذ سے مجرم، جرم کے ارتکاب سے بازرہے گا۔یعنی جب مجرم کو سزا بھی ویسی ہی ملے گی تو لوگوں پراس طرح ظلم نہیں کرے گا اوراگر اسے قصاص کا ڈرنہ ہوا تو وہ مزید جری ہوکر لوگوں کو نقصان پہنچائے گا اورپھررفتہ رفتہ دیکھا دیکھی خانہ جنگی کی صورت بن جائے گی۔جیسا کہ جاہلیت کا دورتھا۔ مگرعجیب یہ ہے کہ آج کل خود کو دانشوروں میں شمار کرنے والے (حقیقتاً دانشمندی سے کوسوں دور ہیں۔)حدود و قصاص پراعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سزائیں انسانیت کے حقوق کے منافی ہیں۔کتنی عجیب بات ہے جن سزاؤں کے ذریعے سے مجرم کو جرم سے روکا جاسکتا ہے اورعین انسانی حقوق کی پاسداری ہوسکتی ہے۔ انہیں انسانی حقوق کے منافی سمجھتے ہیں۔ایسے لوگ دراصل نادانی کی گہری کھائی میں گرے معلوم ہوتے ہیں،اس لیے کہ جہاں قوانین میں نرمی ہے اورقوانین پرعمل درآمد نہیں،وہاں جرائم کی شرح کیا ہے اوراس کے مقابلے میں جہاں اسلامی قانون نافذ ہے وہاں جرائم کی شرح کیا ہے؟اہل مشاہدہ بخوبی جانتے ہیں کہ جہاں اسلامی قانون نافذ العمل ہے،وہاں دوسرے ممالک کی بنسبت جرائم کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہے، اس حقیقت کے باوجود نادان ’’دانشمند‘‘ اسلامی قوانین پرانگلیاں اٹھاکر کیا باورکرانا چاہتے ہیں؟؟
بہرحال حدود وقصاص کا نفاذ اہل ایمان کے شعور وبصیرت کی بڑی عمدہ مثال ہے،اور یہی بات قرآن مجید کہہ رہا ہے۔
دین کی خدمت کے لیے عقل مند اور ذہین بچے یا شخص کا انتخاب ہونا چاہیے:
عقل وحافظہ جب ایک عظیم نعمت ہے تویقیناً اس کا شکرانہ بھی ضروری ہے۔اورشکر قول و فعل سے ہونا چاہئے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہمیں شکر کے طور پرزبان سے بھی شکرادا کرنا چاہئے اورعملاً بھی۔عمل سے شکرکی ادائیگی اس طرح ہے کہ دینیات کو یاد کیا جائے،یعنی قرآن و سنت کو یاد کیا جائے۔اوراس کے علم سے حقیقی تعلق جوڑا جائے۔مگر افسوس ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے،ہم اپنی اولاد میں جس بچے کوزیادہ ذہین سمجھتے ہیں، اسے ڈاکٹر،انجینئر وغیرہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جس بچے کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ وہ حافظے میں کم ہے۔ اسے مدرسے کی جانب لے آیا جاتا ہے کہ یہ قرآن و سنت کا علم حاصل کرے گا۔ دیکھئے دین کے لیے ہمارے دلوں میں یہ حیثیت اورجگہ ہے۔جب کہ ہمارے اسلاف کی زندگیوں کو اگر دیکھا جائے تو انہوں نے اس علم کے حصول کے لیے دنیا کی بڑی بڑی اشیاء کی قربانیاں دی ہیں۔ اوردین کی خدمت کے لیے بھی ذہین وفطین افراد کا انتخاب کیا جاتا تھا۔
عاقل ہے با شعور ہے کافی ذہین بھی
اس پر ہے مستزاد وہ از حد حسین بھی
اللہ رب العزت عقل و خرد کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین
