خداوند ِعالم کی شناخت اور قرآنِ کریم کا طرز ِاستدلال

حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ؒ

            ہرذی عقل اورہرذی ہوش کا پہلا فرض، خدا تعالیٰ کی معرفت ہے؛ یعنی یہ جاننا کہ میرا اوراس جہاں کا خالق اورمربی کون ہے اوراس معرفت کوحاصل کرنے کا طریقہ نظر وفکر ہے۔

            قرآنِ کریم میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت اور خالقِ عالم کی شناخت کے متعلق دو قسم کے دلائل بیان کیے گئے ہیں:

            (۱) دلائل انفس، اور (۲) دلائل آفاق۔

            دلائلِ انفس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات، صفات اوراحوال وکیفیات میں غورکر کے معرفتِ الٰہی حاصل کرے؛ کما قال تعالی: {وَفِی أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ}(الذٰریٰت:۲۱)

            یعنی اللہ تعالیٰ کی شناخت کے دلائل خودتمہاری ذاتوں میں موجود ہیں، پس تم دیکھتے کیوں نہیں؟

            اوردلائلِ آفاق سے مراد یہ ہے کہ کائناتِ عالم اورآفاقِ عالم پرنظر ڈال کرخالقِ عالم کی شناخت حاصل کرو؛ کما قال تعالی: {قُلْ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ}(یونس:۱۰۱)

            وقال تعالی: {سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ}۔(حم السجدۃ:۵۳)

            وقال تعالی: {اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ مَائٍ فَأَحْیَا بِہِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ لآیات لقوم یعقلون}۔(البقرہ:۱۶۴)

            تفصیل کے لیے امام رازیؒ کی تفسیر کبیر دیکھیں۔

            لیکن پہلی قسم، یعنی دلائلِ انفس، کا استدلال سہل تر ہے؛ اس لیے کہ انسان بہ نسبت دوسروں کے اپنی ذات اورنفس کے احوال سے بخوبی واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی مقام پراس قسم کے استدلال کی طرف توجہ دلائی؛ کسی جگہ اپنے نفسوں میں غوروفکر کا حکم دیا، اورکسی جگہ انسان اوراس کے آبا واجداد کی پیدائش، وجود بعد العدم اورپھرعدم بعد الوجود کو یاد دلایا، تاکہ انسان سمجھے کہ جس ذاتِ بابرکات کے ہاتھ میں میرے اورمیرے آبا واجداد کے وجود و عدم کی باگ ہے، اورجو ہماری موت اورحیات کا مالک ہے، وہی ہمارا خدا ہے۔

دلائلِ انفس:

            {وَفِی أَنْفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ} (الذٰریٰت:۲۱)

            انسان اپنے ہی اندرغورکر لے اوراپنی حالت کو دیکھ لے کہ اعلیٰ ترین صنعتوں کا مجموعہ ہے؛ آنکھ اورکان بھی ہیں، دل اوردماغ بھی ہیں، اوراعضاء وجوارح بھی ہیں، جو بے شمار حکمتیں اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ ہرلمحہ ہمارا وجود ہماری نظروں کے سامنے ہے اورہردم ہم اپنی حالت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ توپھر یہ بتلائیں کہ کیا ہم خود بخود مادہ سے بن گئے ہیں اورکوئی ہمارابنانے والا نہیں، اورسرسے پیر تک ہماری ساری صنعت بغیر صانع ہی کے وجود میں آگئی ہے؟

            ابتدائے ولادت سے لے کر اخیرزندگی تک صدہا، بل کہ ہزارہا تغیرات پیش آتے ہیں؛ بچپن کے بعد جوانی آتی، اورجوانی کے بعد پیری، ضعف کے بعد قوت آتی، اورقوت کے بعد پھر ضعف آیا۔ یہ تمام تغیرات ہم دن رات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں، مگر اپنے اختیار سے اپنی خلقت میں کوئی تصرف نہیں کرسکتے، اپنی پیری کوجوانی سے بدل نہیں سکتے، اورموت کو زندگانی سے، بیماری کوتندرستی سے نہیں بدل سکتے۔ پس جس کے دستِ قدرت اوردستِ اختیارمیں ہماری بقا اورفنا ہے، وہی ہمارا ’’خدا‘‘ ہے، جس کا ارادہ اوراس کی قدرت ومشیت ہمارے ارادہ و طبیعت پرغالب رہتی ہے۔

            یہاں ایک بات اوربھی قابلِ غور ہے، انسان عناصرِاربعہ: یعنی آگ، پانی، خاک اور ہوا سے مرکب ہے، جن کی طبیعتیں اورخاصیتیں بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں؛ یعنی حرارت وبرودت، رطوبت و یبوست باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں، اورسب ایک انسان میں جمع ہیں۔ پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نقائص واضداد بغیر کسی جامع قاہر کے ایک ذات میں جمع ہو سکیں؟ اگرایسا ہوسکتا توآگ اورپانی کا ایک جگہ اجتماع ممکن ہوتا، حالاں کہ یہ ممکن نہیں۔

             معلوم ہوا کہ ذاتِ انسانی میں متضاد عناصر کا جمع ہونا اورطبیعت کا اقتضا نہیں، بل کہ کسی قاہر مقتدر کی تدبیرا ورتصرف ہے۔

            پس ظاہرہوا کہ بدنِ انسانی، بدنِ حیوانی اوردیگر اشیا میں جو تغیرات رونما ہو رہے ہیں، وہ مادہ اورطبیعت کا اقتضا نہیں، بل کہ وہ ایک زبردست صانع قہار کی تدبیر کے ماتحت ہیں۔

            انسان ابتدائے خلقت میں شکم مادر میں ایک نطفہ تھا، پھر نطفہ سے منجمد خون بنا، اس کے بعد گوشت کا لوتھڑابنا، پھر استخوان، پھر ہڈیوں پرگوشت و پوست چڑھا، پھراس میں جان ڈالی گئی، اورنومہینہ تک خونِ حیض اس کی غذا رہی، پھر ولادت ہوئی۔ اخیرزندگی تک کے حالات میں غور کرتے چلے جاؤ؛ کیا یہ تمام صورت، ہیئت اورحالت بغیر کسی صانع حکیم کے خود بخود بن کرتیارہوگئی؟   {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ أَمْ ہُمُ الْخَالِقُونَ}(الطور:۳۵)

            ’’ کیا وہ بغیرخالق کےخودبخود پیدا ہو گئے یا خود ہی وہ اپنے خالق ہیں؟‘‘

             کیوں کہ کسی ممکن کا بلاسبب کے پردۂ عدم سے نکل کرخود بخود وجود میں آجاناعقلاً محال ہے۔لہٰذا عدم سے وجود میں آنے کے لیے کوئی سبب چاہیے۔ معدوم میں یہ قدرت نہیں کہ خود بخودعدم کی کوٹھڑی سے باہرنکل آئے اور وجود کے صحن میں آ کرکھڑا ہو جائے۔ منی کے ایک ذلیل، ناپاک اوربدبودار قطرے میں یہ قدرت کہاں سے آئی کہ وہ ایک ذی ہوش اورسمیع وبصیرانسان کوپیدا کر سکے؟

            {أَفَرَأَیْتُمْ مَا تُمْنُونَ، أأَنْتُمْ تَخْلُقُونَہٗ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ}(الواقعۃ:۵۸،۵۹)

            ’’بتاؤتوسہی، جب تم عورت سے ملتے ہواورحمل قرارپاتا ہے، تواس قطرۂ ناپاک کوبشر کی صورت میں پیدا کرنے والے تم ہو یا ہم ہیں؟‘‘

            اس آیتِ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف بتلا دیا کہ بچے کے پیدا کرنے والے اُس کے ماں باپ نہیں، کیوں کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لڑکے کی تمنا رکھتے ہیں اوران کی اولاد نہیں ہوتی، اوربہت سے ایسے بھی ہیں جوکثرت اولاد سے تنگ آ گئے ہیں۔

             معلوم ہوا کہ رحمِ مادر میں بچہ کی صورت بنانا انسان کا کام نہیں اورنہ اس کے اختیار میں ہے، بل کہ اللہ تعالیٰ ہی اُس کا مصوراورخالق ہے، جیسا کہ فرمایا ہے:

            {ہُوَ الَّذِی یُصَوِّرُکُمْ فِی الْأَرْحَامِ کَیْفَ یَشَائُ}(آل عمران:۶)

            دہریے یہ کہتے ہیں کہ انسان کا خالق خود اسی کا مادہ ہے، کیوں کہ وہ اسی مادہ سے بنا ہے۔ ان کا یہ قول بالکل غلط ہے، اس لیے کہ مادہ ان کے نزدیک بھی ایک بے ادراک ، بے شعور، بے علم اور بے عقل شئی ہے، پس وہ ایک ذی عقل اورذی علم انسان کو کیسے پیدا کر سکتا ہے؟ ورنہ لازم آئے گا کہ مخلوق(انسان) اپنے خالق (مادہ) سے بہتر ہو۔

            معلوم ہوا کہ انسان کا پیدا کرنے والا کوئی بڑا ہی عالم و حکیم اور صاحبِ قدرت ہے، اس کو ہم ’’خدا‘‘ کہتے ہیں، اوراسی ذاتِ واحد کا ہم دل سے اقرارکرانا چاہتے ہیں۔

            دہر یہ، ہمارے ان لاجواب دلائل اوربراہین کوتوتسلیم نہیں کرتا اوراپنے دعوے کوزبردستی اوربلا دلیل ہم سے تسلیم کرانا اورمنوانا چاہتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ تم بلا دلیل ایک بے شعوراور بے عقل شئی یعنی مادہ کو سائنسِ عالم کے عجیب وغریب صنعتوں اورکاریگریوں اور تغیرات وانقلابات کی علت العلل مان لو۔ کیا یہ کھلی ہوئی نادانی اورڈھٹائی نہیں؟

دلائلِ آفاق:

            قَالَ تَعَالٰی: {إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ مَائٍ فَأَحْیَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ}(البقرۃ:۱۶۴)

            مطلب ہے کہ جو لوگ اہلِ عقل ہیں، اُن کو چاہیے کہ ان عجائبِ قدرت میں غوروفکرکریں؛ تاکہ ان کو اپنے خالق کی خدائی اوریگانگی میں کوئی شک باقی نہ رہے۔

            اے اہلِ عقل! آسمانوں اوراجرامِ فلکی پرنظرکرو کہ ستارے بعض ثوابت(ایک جگہ قائم رہنے والے ستارے) میں اوربعض سیارات میں اوربارہ برج میں ہیں، اورہرسیارہ کی حرکت کی مقداراوراس کی مسافت اوراس کا وقت معین ہے، جس سے وہ سرِموتجاوز نہیں کرتا، پھرآفتاب وماہتاب کو دیکھو کہ جسامت اورنورمیں دوسرے ستاروں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ پھرآفتاب جب تک زمین کے اوپر ہے تودن ہے، اورجب زمین کے نیچے آتا ہے تورات ہے۔ پھرآفتاب ہی کی حرکت اورسیر سے فصلیں اورموسمیں بدلتی ہیں، پھرکسی سیارہ کی حرکت اُس کے اختیار میں نہیں، پس جس ذات کے دستِ قدرت سے یہ تغیرات اورحرکات ظہورمیں آ رہی ہیں، وہی ان کا حاکم اورخدا ہے۔

            آسمان کے نیچے ابرکو دیکھو، پانی سے بھرا ہوا ہے، جس پرآدمیوں اورحیوانوں کی حیات کا دارومدار ہے، جسے ہوائیں ہنکارہی ہیں، کبھی موسلا دھار بارش ہوتی ہے، اورکبھی قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے۔ ہواؤں کو دیکھو کہ ان کی حرکت میں کبھی شدت اورسرعت ہوتی ہے، اورکبھی غایتِ درجہ سکون اورآہستگی۔ کبھی مشرق کی طرف چلتی ہیں، اورکبھی مغرب کی جانب، اورکبھی شمال کی طرف اورکبھی جنوب کی طرف۔ یہ کسی مادہ اورطبیعت کا اقتضاء نہیں، بل کہ کسی قادرحکیم کی تدبیر ہے جواپنی حکمت کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔

            مادیین بتلائیں کہ یہ اختلاف کس مادہ کا اقتضا ہے؟ زمین کودیکھو کہ کچھ حصہ نرم ہے اورکچھ سخت۔ ایک حصہ قابلِ زراعت ہے اوردوسراخشک اورشور، اوراس کے رنگ بھی مختلف ہیں اوراس کے نباتات وثمرات بھی مختلف ہیں۔ پھر ایک ہی درخت کی ایک ہی شاخ پردو قسم کے مختلف مزہ اورمختلف الوان میوہ جات پائے جاتے ہیں، حالاں کہ سب شاخوں پرایک ہی آفتاب کی دھوپ سب پریکساں طور پر پڑ رہی ہے، اورسب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جا رہا ہے۔مگربا این ہمہ رنگ بھی مختلف اورمزہ بھی مختلف، لہٰذا چارونا چارماننا پڑے گا کہ یہ اختلاف مادہ کی وجہ سے نہیں، کیوںکہ مادہ سب کا ایک ہے، بل کہ یہ کسی قادر حکیم کی صنعت اورکاری گری ہے،چناں چہ حق جل شانہ نے اسی بات کو دوسری جگہ اس طرح فرمایا ہے:

            {وَفِی الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَّزَرْع وَنَخِیلٍ وَصِنْوَانٍ وَغَیْرِ صِنْوَانٍ یُسْقیٰ بِمَائٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ فِی الْاُکُلِ  إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ}۔(الرعد:۴)

(ماخوذ از:اثبات صانع عالم اورابطال مادیت وماہیت :صفحہ۳۰تا۳۵)