حضرت رئیس جامعہ شہر بنگلور کے بابرکت علمی ودعوتی سفرپر
۴؍ ستمبر ۲۰۲۵ء بروز جمعرات حضرت رئیس جامعہ مولانا حذیفہ صاحب وستانوی حفظہ اللہ کے ساتھ شہر بنگلور کی بڑی عالیشان مسجد مسجد بلال عیدگاہ کے امام و خطیب حضرت مولانا شاکر اللہ رشادی صاحب کی دعوت پر بنگلور پہنچے،اورائرپورٹ پرمولانا کے صاحب زادے اورہمارے کرم فرما مفتی عبد الرحمن صاحب ناظم مدرسہ دارالتوحید ودیگرعلما نے حضرت رئیس جامعہ کا والہانہ استقبال کیا اورہمیں قیامگاہ پر لے گئے۔
صبح فجر کی نماز ایک مسجد میں ادا کی اور بعد نماز فجر حضرت کا مختصر مگر جامع خطاب ہوا جس میں حضرت نے ’’فجر کی نماز کی اہمیت اور مسلمانوں کی بد حالی‘‘ پرروشنی ڈالی اورپھر جمعہ کا خطاب ’’سر اسماعیل سیٹھ مسجد‘‘(فریزر ٹاؤن) میں ہونا تھا، لہٰذا ناشتہ سے فراغت کے بعد ناصح پبلک اسکول اور مولانا خالد بیگ صاحب کے اسکول کا معائنہ کرتے ہوئے ہم مسجد جا پہنچے۔اور وہاں حضرت کا ’’سائنس اور خدا کی اطاعت‘‘ اور’’ انسان کی تخلیق کا مقصد‘‘ پر شاندار خطاب ہوا ،جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
خطاب کے بعد امام صاحب کی درخواست پر حضرت نے جمعہ کا خطبہ دیا جس کا عنوان ’’اطاعتِ رسول اور محبت نبی تھا‘‘ اور نماز جمعہ پڑھائی ۔ حضرت رئیس الجامعہ کی اقتدا میں ایک جم غفیر نے نمازِ جمعہ ادا کی۔
اس کے بعد شام میں ساقئی کوثر کےعنوان سے مدرسہ دار الحسنین میں حضرت کا خطاب ہوا، جس میں منتظمین کے توقع سے زیادہ مرد و خواتین حضرت کو سننے کے لیے دور دور سے تشریف لائے ہوئے تھے، رات کا قیام اسی مدرسہ کے مہمان خانہ میں تھا، میزبان نے اچھی مہمان نوازی کی، اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
پھر دوسرے دن صبح دار الحسنین کے طلبہ کے درمیان طلب علم کی اہمیت پر خطاب ہوا، اس کے بعد ’’الامین کالج‘‘ میں کالج کے اسٹوڈنٹس اورپروفیسرز اورشہر بنگلور کے انٹلیکچوئل حضرات کے درمیان حضرت کا شاندار خطاب ہوا، اور دو پہر میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں عمائدین شہر نے شرکت کی۔
اس کے بعد بنگلور کے علاقہ ’’ننگ ہلی‘‘ میں’’ مستورات میں عورت کا کردار کیسا ہو؟‘‘ کے عنوان پر حضرت کا خطاب ہوا، بہت بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ اور بعد نمازِ مغرب مدرسہ دارالتوحید میں ایک بڑی جماعت آپ کے خطاب کی منتظر بیٹھی تھی، جہاں طلبہ کا انعامی پروگرام تھا۔
وہیں گجرات ومہاراشٹرسے تشریف لائے ہوئے قرائے کرام کی شاندار تلاوتیں بھی تھیں، جس میں قاری عامر صاحب سملکی کی ترتیلا تلاوت اوران کے بعد بندہ (قاری جابر احمد بھاگلپوری) نے نعت پیش کی اور پھر قاری بدر الدین صاحب کولہاپوری نے تدویرًا و ترتیلاً تلاوت پیش کی ۔
مدرسہ دار التوحید کے شعبۂ تجوید کے استاد قاری توصیف صاحب کی ترتیلاً تلاوت ہوئی اوربعد نماز مغرب بندہ (قاری جابر احمد بھاگلپوری) کی تلاوت سے دوسری نشست کا آغاز ہوا، مولانا اکبر شریف صاحب ندوی کا قرآن کی حفاظت پر پرمغز خطاب ہوا، اور اس کے بعد حضرت رئیس جامعہ کا قرآن کو صحیح پڑھنے پڑھانے کے عنوان پر پرمغز بیان ہوا ۔
اور بیان کے بعد حضرت کسی اہم موضوع پرمیٹنگ کے لیے جو پہلے سے طے تھی سو تشریف لے گئے رات دیر تک میٹنگ ہوئی، دوسرے دن صبح مسیح العلوم کی زیارت فرمائی۔ اور بندہ بھی اکل کوا کے لیے نکل پڑا ۔
دعا فرمائیں اللہ حضرت کے اس سفر کو امت کے حق میں نافع و انفع بنائے ۔
(رپورٹ: جابر أحمد بھاگلپوری استاذ جامعہ اکل کوا)
الامین ایجوکیشنل سوسائٹی، بنگلور میں رئیس الجامعہ مولانا حذیفہ وستانوی کو ’’الامین خطیب‘‘ کا اعزاز:
بنگلور کے معروف تعلیمی ادارہ ’’الامین ایجوکیشنل سوسائٹی‘‘ کی جانب سے بانیٔ ادارہ کی خدمات کے موقع پرایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔
اس موقع پررئیس الجامعہ حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی حفظہ اللہ کو ان کی علمی خدمات اوردینی وعصری تعلیم کے فروغ میں گراں قدرکوششوں کے اعتراف کے طور پر باوقار اعزاز ’’الامین خطیب‘‘ سے نوازا گیا۔
تقریب کی جھلکیاں:
اس پُروقاراورشاندارپروگرام کی صدارت معروف سماجی شخصیت جناب اسماعیل خان نے کی۔
ان کے ساتھ شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان، ممتازاساتذہ کرام، دانشوران اورعلمی شخصیات کی ایک بڑی اورنمایاں تعداد موجود رہی۔
شرکا نے اس تقریب کو نہ صرف ایک تعلیمی وعلمی محفل قرار دیا،بل کہ اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس موقع نے بنگلور کے تعلیمی ومذہبی حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
حضرت رئیس الجامعہ کا خطاب:
اس موقع پراپنے پُراثر خطاب میں حضرت رئیس الجامعہ مولانا حذیفہ صاحب وستانوی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عصرِ حاضر کے تقاضوں پرمفصل روشنی ڈالی۔ آپ نے دینی وعصری علوم کے امتزاج کووقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی امت کی ترقی اورکامیابی کی بنیاد ہے۔
چناں چہ آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا:
نوجوانوں کا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رول ماڈل ماننے میں کامیابی یقینی:
’’آج کے فتنہ خیزدور میں نوجوان اگر ساقیٔ کوثر، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رول ماڈل بنالیں تودنیا وآخرت کی کامیابی یقینی ہے۔ ‘‘
نوجوانوں کے رجحانات پر تنقید:
مولانا نے اپنے خطاب میں موجودہ دور کے نوجوانوں کے رجحانات پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ آج کا زمانہ گویا دوبارہ دورِ جہالت بن چکا ہے۔ نوجوان فلمی شخصیات اورکرکٹرز کو اپنا آئیڈیل اوررول ماڈل سمجھتے ہیں، حالاں کہ یہ لوگ خود گناہوں میں ملوث ہیں۔ ایسی شخصیتوں کو اپنانے سے اصلاح اور کامیابی ممکن نہیں۔‘‘
آپ نے زور دے کر کہا کہ’’ علمِ نافع کے بغیر انسان، حقیقی انسان نہیں بن سکتا۔‘‘
عصری تعلیم اور دینی توازن:
انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام میں عصری تعلیم حاصل کرنا منع نہیں، لیکن جب یہی تعلیم دین پرغالب آکر بگاڑ پیدا کرے تو ایسی تعلیم نقصان دہ ہے۔ مولانا نے بتایا کہ موجودہ وقت میں دنیا کی آبادی تقریباً 800 کروڑ ہے، جن میں مسلمان 24 فیصد، عیسائی 30 فیصد اور بے دین 16 فیصد ہیں، اور سب سے بڑا خطرہ انہی بے دینوں سے لاحق ہے۔
سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی اصل معجزہ:
حضرت رئیس الجامعہ نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت بھی ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ تھی، لیکن محض 23 برس کے مختصر عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لاکھ 23 ہزار صحابہ تیار فرمائے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھ کر اوراس پرعمل پیرا ہوکر اسلام کے سچے ترجمان بنیں۔
رئیس جامعہ کا خیر مقدم:
امام و خطیب مسجد عیدگاہ بلال اورمدرسہ دارالحسین، بنگلور کے مہتمم مولانا محمد شاکراللہ رشادی نے حضرت رئیس الجامعہ کا خیرمقدم کیا ۔اورانہوں نے جامعہ اشاعت العلوم، اکل کوا کی ملی خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ اوران کے جانشین دونوں باپ بیٹے کی دینی خدمات مثالی اورقابلِ رشک ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کی سرپرستی میں ملک بھرمیں تقریباً 7000 مساجد کی تعمیر ہوئی، جب کہ ڈھائی ہزار سے زیادہ مکاتب اورقیام وطعام کے ساتھ 127 مدارس جاری ہیں۔
جامعہ اشاعت العلوم میں اس وقت 10 ہزارطلبہ زیرتعلیم ہیں، جہاں دینی وعصری علوم کا حسین امتزاج ہے۔ ان میں سے تقریباً 5000 طلبہ انجینئرنگ، میڈیکل اوردیگر پروفیشنل کورسز میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ (بشکریہ: روزنامہ سالار بنگلور )
جلسۂ سیر ت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بحسن وخوبی انعقاد واختتام
جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا میں طلبائے عزیز میں ان کی درسی صلاحیتوں اورلیاقتوں کے ساتھ ساتھ خطیبانہ اورواعظانہ شان کو پیدا کرنے کی غرض سے تاکہ وہ اچھے انداز میں اپنے علوم ومافی الضمیر کو قوم کے سامنے پیش کرسکیں اور اخلاص وحکمت کے ساتھ امت محمدیہ کو صراط مستقیم کی دعوت دے سکیں،انجمن اصلاح الکلام برائے تقریر وخطابت کا انعقاد بروزجمعرات بعد نماز مغرب سال بھرعمل میں لایا جاتا ہے۔جس میں طلبائے عزیز اپنی اپنی باری میں تقاریر ونظم یاد کرکے اساتذۂ کرام کی نگرانی میں اپنے ساتھیوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہرماہ مختلف عناوین جیسے سیرت ابراہیمی ، ماہ محرم الحرام یوم عاشورہ، اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم وسیرت صحابہ جیسے عناوین اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔
لہٰذا ہرسال کی طرح امسال بھی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے طلبا کے مابین تقریری مسابقہ بعدہ مظاہر ہ رکھا گیا جس میں تقریبا ۲۵۰؍ طلبا بحیثیت امید واردرخواستیں پیش کیں۔جن کے درمیان اوّلا انتخابی مسابقہ کیا گیا۔
انتخابی مسابقہ میں ۳۸؍ طلبا فائنل مسابقہ کے لیے منتخب ہوئے فائنل مسابقہ میں ۱۰ ؍ طلبا ممتاز رہیں تو ان ۱۰؍ طلباء کے مابین ۶؍ ربیع الأول ۱۴۴۷ھ مطابق ۳۰؍اگست ۲۰۲۵ء بروز منگل بعد نمازِظہر مسجد میمنی میں رئیس جامعہ کی زیر صدارت ایک عظیم الشان اجلاس بعنوان سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظاہرۂ تقریرکا اہتمام کیا گیا جس میں’’ عربی اول تا دورۂ حدیث‘‘ شعبۂ عا لمیت کے تمام طلبہ واساتذہ نے بطور سامعین شرکت کیں۔
دورۂ حدیث کے دو ۲؍ طلبہ محمد مصعب اور محمد شاداب نے جلسہ کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سمیع الحق بنگالی متعلم عربی سوم کی خوبصورت ترتیلا تلاوت کلام اللہ سے بزم کا آغاز کیا ۔
تلاوت کلام اللہ کے بعد صابراحمد بھاگلپوری نے دربار رسالت میں گلہائے عقیدت کا نذرانہ پیش کیا۔اب فائنل مسابقۂ خطابت میں ممتاز دس طلبہ نے سیرت رسول صلی اللہ علیہ کے متنوع عناوین اورمختلف الجہات سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم گوشوں اور پہلوؤں شیریں اور پرجوش انداز واسلوب اپناتے بہترین تقاریرونعت پیش کیں۔
طلبائے عزیز کے تقریری سلسلہ کے اختتام کے بعد جامعہ کے استاذ مولانا محمدصادق اشاعتی نے انجمن اصلاح الکلام کی مختصر ششماہی رپورٹ پیش کی اور بلاتاخیر صدر اجلاس رئیس جامعہ ،خادم الخیر والأمۃ حضرت مولانا حذیفہ غلام محمد صاحب وستانوی زیدفیضہ کو دعوت خطاب پیش کی، حضرت رئیس جامعہ مولانا حذیفہ صاحب وستانوی نے ربیع الأول اورسیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پرمختصرمگرانتھائی پُراثراور جامع خطاب وعظ فرمایا۔جس میں آپ نے ماہِ ربیع الأول میں اعمال وعبادات پر خصوصی توجہ دینے اوراس ماہ بدعات وخرافات سے پرہیز کی تاکید فرمائی۔نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تقاضوں اورسنت پرعمل پیرا ہونے کی بھی تلقین فرمائی ۔
ششماہی تعطیلات کے بعد حضرت رئیس الجامعہ نے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرتحریری مسابقہ کا بھی اعلان فرمایا ۔ نیز سیر ت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تقریری مسابقہ میں کامیاب ۳۸؍ طلبہ کوانعام کا اعلان فرمایا۔اخیر میں حضرت صدراجلاس کی مختصر دعاپرمجلس کا بحسن وخوبی کامیاب اختتام ہوا۔
فللہ الحمدوالشکر علی ذالک۔
رپورٹ: مولانا محمد صادق اشاعتی (استاذ جامعہ اکل کوا)
