جامعہ ابو ہریرہ بدنا پور

جامعہ کے شب وروز:

            طلبہ کا پروگرام: 25 اگست 2024 بروز اتوار، حافظ بننے والے 22 خوش نصیب طلبا کی مجلسِ تکمیل حفظ جامعہ ابو ہریرہ بدنا پور کی عظیم مسجد میں بڑے تزک واحتشام سے منعقد ہوئی، جس میں اولاً معصوم اور چھوٹےچھوٹے طلبا نے بہترین پروگرام پیش کیا، جسے دیکھ اورسن کرسامعین سراہے اورحوصلہ افزائی کیے بغیر نہ رہ سکے،سامعین کو طلبہ کے پروگرام نے کافی متائثر کیا اورطلبہ نے سامعین سے دعاؤں کے ساتھ ساتھ اچھے انعامات حاصل کیے۔

 تکمیل حفظ:

            پھر22 حفاظ طلبا‘مہمان علمائے کرام، اساتذہٴ عظام اورسرپرستان حفاظ کے سامنے آخری سورتیں پڑھ کرزمرہٴ حفاظ میں شامل ہوئے۔اس طرح اب تک جامعہ ابو ہریرہ بدنا پور سے حافظ بننے والے طلبہ کی تعداد 777 ہوگئی ہے۔ذلک فضل اللہ یوتیه من یشاء۔

مہمانوں کا خطاب:

            تکمیل حفظ کے بعد مہمانانِ عظام کا خطاب شروع ہوا اوراس کڑی کا آغازبرطانیہ سے تشریف لائے ہوئے مہمانِ معظم مولانا خالد مظاہری دیسائی(استاذِ حدیث و فقہ مدرسہ مفتاح العلوم بلیک برن۔یوکے)نے کیا۔آب نے قرآن و حدیث کی روشنی میں حفاظ کی فضیلت اورناقدری پروعیدیں بیان فرمائیں۔پھر ناظم ِجامعہ مفتی انیس احمد رحمانی نے منفردانداز میں تشریف لائے ہوئے تمام مہمانانِ کرام کی خدمت میں کلماتِ تشکر و امتنان پیش کیا اورحضرت وستانوی اطال اللہ عمرہ بالصحة والعافیة کی خدمات قرآنی کو بیان کیا۔

صدر محتر م حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی کا خطاب:

            پھر صدرِ مجلس مولانا حذیفہ وستانوی صاحب نے اپنے مخصوص ومنفردلب ولہجے میں خطاب فرمایا،جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

            آپ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا:

            کہ 22 طلبا نے حفظِ قرانِ کریم مکمل کرکے اللہ کے کلام کواپنے سینے میں محفوظ کر لیا ہے،یہ میرے اور آپ کے لیے اوراس امت کے ہراس فرد کے لیے خوش بختی ہے کہ اللہ نے اس کتاب کے حفظ کرنے، پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے کے مواقع ہمیں فراہم کیے؛ لہذا اس کتاب کی قدر ہونی چاہیے ۔

 26 لاکھ صفحات پر مشتمل قران ِکریم کی تفسیر:

            آپ نے فرمایا: قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ آخری کلام ہے، جو ہمارے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل کیا گیا، جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے۔ قرآن کی بہت ساری تفاسیر ہیں،جوکئی کئی جلدوں پرمشتمل ہیں، ہمارے زمانے کے ایک مفسر ہیں”عبدالرحمن القماش“ انہوں نے 26 لاکھ صفحات پرقران کریم کی تفسیرلکھی ہے ، صرف سورہٴ فاتحہ کی تفسیر 30 جلدوں میں ہے، تویہ اللہ کی کتاب ہے،اس کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک نہیں،اس کتاب کے کتابِ ہدایت ہونے میں کوئی شک نہیں۔

قرآنِ کریم میں زندگی کے ہر پہلو کاحل موجود ہے:

            قرآن ِکریم زندگی کے ہر پہلو کا حل پیش کرتا ہے، خواہ دعوت وتبلیغ ہو،انفرادی ہویا اجتماعی، سیاسی ہویا اقتصادی، علمی ہو یا فکری،سائنسی ہو یا فلسفی؛ الغرض انسان کے تمام مسائل کا حل قرآن ِکریم میں موجود ہے۔

امت ِمسلمہ کی پستی کا سبب:

            آج امت مسلمہ کی پستی کے بہت سارے اسباب بتائے جاتے ہیں، لیکن امت کی تنزلی کا اصل سبب قرآن سے دوری ہے۔

 تمام نعمتیں اور صلاحیتیں اللہ کی دَین ہیں:

            ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ اللہ کی توفیق اوررحمت سے کررہے ہیں، اللہ کی رحمت وتوفیق کے بغیرہم کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمارا علم، ایمان، کارو بار، مال و دولت اوردنیا وآخرت کی تمام چیزیں اللہ کی نعمت اورمہربانی سے ہیں؛ لہذا جب انسان کے ذہن میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ چیزتومیری ہے اوراس کے حصول میں میرے کمال کو دخل ہے تویہ سوچ انسان کو لے ڈوبتی ہے؛ جیسے فرعون کہتا تھا قارون کہتا تھا: ”کہ دیکھو یہ میرا خزانہ ہے“۔

 ”اہل اللہ و خاصتہ“ میں شمولیت کو جانچنے کا معیار:

             حضرات ِمحدثین فرماتے ہیں: کہ قران ِکریم کی بہت ساری آیتیں اوراحادیث ِمبارکہ کوجمع کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ، اگرکوئی بندہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ اہل اللہ و خاصتہ میں شامل ہے یا نہیں؟ تو اسے اپنے آپ کواس معیارپر جانچنا چاہیے کہ اگر یہ پانچ صفات اس کے اندر پائے جاتے ہیں، تووہ اہل اللہ و خاصتہ میں سے ہے اوراگروہ صفات اس میں نہیں پائے جاتے ،تو وہ اہل اللہ و خاصتہ میں سے نہیں ہے۔

صفات خمسہ:

            ۱-         قرآنِ کریم کی تلاوت کی پابندی۔

            ۲-         قرآن ِکریم کے حفظ کی فکر۔

            ۳-         قرآن ِکریم کو تجوید کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام۔

            ۴-         قرآنِ کریم کو سمجھنے کی کوشش۔

            ۵-         قرآنِ پر عمل۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق اپنی زندگی کرنے کی فکر:

            رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ قرآن کی عملی تصویر تھے، لہٰذا ہمیں بھی اپنے اخلاق کو قرآن کے مطابق بنا نا چاہیے۔ اورگھروں میں قرآن کی تلاوت کا معمول ہو نا چاہیے، کیوں کہ اس سے اہل خانہ میں محبت و طاعت پیدا ہوتی ہے اورگھر میں برکت آتی ہے۔

             ان قیمتی نصائح پرحضرت مولانا کا بیان ختم ہوا اور آپ نے اخیر میں حفاظ و سرپرستان حفاظ کواپنی اورمولانا وستانوی صاحب کی جانب سے دلی مبارک باد پیش کی اور انعامات کا اعلان فرمایا۔ پھراخیر میں پوری اُمت کے لیے مولانا خالدمظاہری دیسائی کی رقت آمیزدعا پرمجلس کا اختتام ہوا۔