تنظیمی و اجتماعی زندگی میں انتشار و زوال کے اسباب

پہلی قسط:

مفتی محمد فاروق صاحب فلاحیؔ مدنی ؔ

(استاذ حدیث و تفسیر جامعہ اکل کوا، وشیخ الحدیث جامعہ فلاح دارین ترکیسر)

کائنات کے مزاج میں اجتماعیت:

            زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے، زمین اپنی اس گردش کے دوران سورج کے گرد بھی گھومتی ہے۔ زمین اپنی اس انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی نظام ”نظامِ شمسی“ کا بھی حصہ ہے اور وہ پورا نظامِ شمسی بھی (اپنے سیاروں اور چاندوں سمیت) رواں دواں ہے، پھر وہ بھی اپنے سے بڑی ایک اوراجتماعیت ”کہکشاں“ کا حصہ ہے، پھر یہ کہکشائیں بھی اپنے سے بڑی ایک اور اجتماعیت ”گلیکسی“ کا حصہ ہیں؛الغرض ہر کرہ حرکت میں بھی ہے اور کسی اجتماعیت کا حصہ بھی ہے۔

            اسی طرح دنیا کی ہر چیز اپنی انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کسی اجتماعیت کا حصہ بھی ہے، چاہے وہ درخت ہوں یا پھل پھول، پودے، درند، چرند، پرند ہوں یا خشکی تری کے جاندار، وغیرہ، ہر کوئی کسی نا کسی اجتماعیت کا حصہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کائنات کا مزاج اجتماعیت والا ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کے مزاج میں بھی اللہ تعالیٰ نے اجتماعیت کو ودیعت فرمایا ہے، چنانچہ عربی کا ایک مقولہ ہے:

            لا یستطیع الإنسان أن یعیش منفردا یعنی انسان تنہا اوراکیلا زندگی بسر نہیں کر سکتا، انسان کو انسان اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دوسروں سے اور دوسرے اس سے انس حاصل کرتے ہیں۔

اجتماعیت کی اہمیت:

            قرآن کریم اوراحادیث نبویہ میں صراحۃً اوراشارۃً بہت سے مواقع پراجتماعیت کی اہمیت کو بتلایا گیا ہے، چناں چہ سورۂ نساء کی آیت مبارکہ ہے:

            (وَمَنْ یُطِعِ اللہَ وَرَسُولَهُ یُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ، وَمَنْ یَعْصِ اللہَ وَرَسُولَه وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیہَا وَلَهُ عَذَابٌ مُہِینٌ.)(النساء)

نکتۂ قرآنیہ:

            قرآن کریم کی اس تعبیر پرغورکریں:مذکورہ بالا دونوں آیتوں کا آغاز لفظ (مَنْ) سے کیا گیا ہے، جو واحد اور جمع دونوں کے لیے مستعمل ہے، دونوں جگہوں پر وحدت کی رعایت کرتے ہوئے خالداً واحد استعمال کیا جاتا یا دونوں جگہوں جمع کی رعایت کرتے ہوئے خالدین فرمایا جاتا، لیکن قرآن کریم نے اہل جنت کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے اوراہل جہنم کے لیے واحد کا صیغہ، جواس بات کی طرف مشیر ہے کہ جہنم کے وعید میں توحد اوراکیلا ہونا مستقل ایک عذاب ہے، اس لیے خالداً واحد کے ساتھ ذکر کیا گیا اوراہل جنت وہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے، جب تک کہ اجتماعیت نہ ہواس لیے”خالدین“جمع کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ حاصل یہ کہ انفرادیت مستقل ایک عذاب ہے اور اجتماعیت مستقل ایک رحمت ہے۔نیز سورۃ الفجر آخری آیت بھی قابل غور ہے کہ دخول جنت سے پہلے دخول فی العباد کو مقدم کرکے فرمایا گیا:

            (فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ)گویا اجتماعیت (مع الصالحین) من جملہ اسباب دخول جنت میں سے ہے۔

            اسی طرح ارشاد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والتسلیم ”مَااَنَا عَلَیْه وَاَصْحَابِیْ“ سے بھی اجتماعیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجات کے لیے صرف اپنی ذات کا ذکر نہیں فرمایا،بل کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جماعت کو بھی شامل فرمایا۔

ترک ِاجتماعیت ترک اسلام کے مترادف ہے:

            انسان کی زندگی میں بہت سے دینی ودنیوی امورایسے ہیں جوانفرادی طور پرانجام نہیں دیے جاسکتے، ان کے لیے افراد اور اجتماعی صورت درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے مذہب اسلام نے جماعتی زندگی پر بڑا زور دیاہے اور جماعتی زندگی کے ترک کو اسلامی زندگی کے ترک سے تعبیر کیاہے اوراس پرجہنم کی وعیدیں بھی سنائی گئیں ہیں، چنانچہ ارشادِ نبوی ہے: ’من شذ شذ فی النار‘  اور دوسری حدیث میں واضح الفاظ میں رسول برحق حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ:

            فانه لیس أحد یفارق الجماعة شبرا فیموت إلا مات میتة جاہلیة (متفق علیه)

            ”جو شخص بھی جماعت سے ایک بالشت بھرالگ ہوا اوراسی حالت میں اس کی وفات ہوگئی تواس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔“

            ایک اور موقع پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اجتماعیت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

            ”اٰمُرُکُمْ  بِخَمْسٍ، اَلْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ  وَالطَّاعَةِ وَالْھِجْرَۃِ  وَالْجِھَاد  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰہِ“۔(بخاری)

            ”میں تمہیں  پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں: جماعت کے ساتھ رہنا، حکمرانوں کی بات سننا، اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور راہ خدا میں جہاد کرنا۔“

            اس حدیث میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صاف صاف یہ حکم دیا ہے کہ وہ اجتماعی زندگی بسر کریں، آپ نے اپنی اُمت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ہرگز منتشر زندگی نہ گزاریں۔آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اپنا کوئی اجتماعی نظم نہ ہو۔

جماعت یا اجتماعیت کیا ہے؟

            جماعت افراد کے مجموعے کا نام ہے، لیکن ایسا مجموعہ نہیں کہ جسے ہم بھیڑ کہتے ہیں۔ اگر یوں ہی کسی جگہ لوگ اکٹھے ہوجائیں توانہیں ہم جماعت نہیں کہتے۔ جماعت لوگوں کے ایک ایسے مجموعے کو کہتے ہیں، جس کے اندر کسی ایک مقصد پراتحاد ہوگیا ہو۔ اگراُن کی زندگی کے کاموں میں انتشار ہے اوروہ کسی ایک مقصد پرمتحد نہیں ہیں تواُنھیں جماعت نہیں کہہ سکتے۔اسی لیے قرآن مجید میں وَاعْتَصِمُوا جَمِیعًا نہیں کہا گیا بلکہ اس کو حبل اللہ کے ساتھ مقید کرکے فرمایا گیا: (وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیعًا) صرف جمع ہونا اوربھیڑاکٹھا کرنا مفید نہیں ہے،بلکہ ایک مقصد اورایک فکر پرجمع ہونا ضروری ہے، تب ہی وہ اجتماعیت بار آور ہوگی۔

            نیزجماعت بننے کے لیے مقصد ِاتحاد سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ وابستگی ہو، محبت اور رواداری ہو اور صاف طور پر یہ محسوس ہو کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اُن کی راہیں ایک ہیں، اور یہ مل جل کرایک ہی منزل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ ’جماعت‘ کے ایک لفظ میں وہ پوری تصویرہمارے سامنے آجاتی ہے، جس شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری اُمت کو دیکھنا چاہتے تھے۔

            اب سوال یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کیسے قائم ہوگی اوراس کو کیسے باقی رکھا جائے گا؟ توآئندہ سطور میں اسی سوال کے جواب پرروشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی:

اجتماعیت کو قائم کرنے اور باقی رکھنے والے امور

(۱) امارت، سچا عہد و پیمان اور سمع و طاعت:

            اجتماعی کاموں میں دو باتوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے: امارت اور شورائیت — امارت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو ادارہ یا تنظیم کا سربراہ ِاعلیٰ منتخب کرلیا گیا ہو، امیر ادارہ و تنظیم کا امین ہوتا ہے نہ کہ مالک، وہ گویا گاڑی کا انجن ہوتا ہے، پہئے کتنے ہی مضبوط ہوں؛ جب تک کوئی کھینچنے والا انجن نہ ہو، گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی، اورانجن کتنا ہی طاقتورہو، اگراس کو پہیوں کا ساتھ حاصل نہ ہو تو اس کی طاقت اس کو فائدہ نہیں پہنچاسکتی؛ اسی لئے دونوں کی اہمیت ہے، سربراہ کی بھی اوراس کے شرکائے کار کی بھی، سربراہ سے تو لوگوں کا تعلق اطاعت و فرمانبرداری کا ہونا چاہئے، سربراہ کا حکم چاہے طبیعت کے خلاف ہو؛ لیکن عمل اسی پرکیا جائے گا؛ بشرطیکہ اس کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو،اورعام مسلمانوں کی کامیابی سربراہ کی اطاعت میں ہے؛ اسی لئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ پورا پورا اسلام اسی وقت معاشرہ میں آسکتا ہے، جب کہ مسلمانوں کا جماعتی نظام ہو اور یہ جماعتی نظام امیر کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا، کسی سربراہ کے بغیر لوگوں کا اکٹھا ہوجانا بھیڑتوکہلا سکتا ہے، اسے جماعت نہیں کہا جاسکتااورامیرکی امارت لوگوں کی اطاعت وفرمانبرداری ہی سے قائم ہوسکتی ہے نہ کہ طاقت و قوت سے:

             ”لا إسلام إلا بجماعة ولا جماعة إلا بإمارۃ ولا إمارۃ إلا بطاعة“(سنن دارمی، حدیث نمبر:۲۵۳)

٭…… نظم امارت کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

            ”اگر سفر میں تین اشخاص جارہے ہوں توان میں بھی کسی کو امیر بنالو“۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر:۲۶۰۹)

             خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب بھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو مدینہ میں کسی کو والی یعنی عارضی امیر بناکر جاتے۔

            اس سے معلوم ہوا کہ معیاری طریقہ تو یہی ہے کہ ایک شخص مستقل امیرہو؛ لیکن امارت کی مدت یا اس کے دائرہ کارکو محدود کیا جاسکتا ہے، فقہی اعتبار سے اس کی اصل یہ ہے کہ امیر عام لوگوں کی طرف سے وکیل کی حیثیت رکھتا ہے اور وکیل بنانے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وکیل کے کام یا اس کے اختیارات کو محدود کردے، پھر یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ’اصلح‘ یعنی جماعت کا سب سے بہتر شخص ہی امیر ہو، اس پر اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔

رسول اللہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام بھی امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت کرو: ”ولو کان عبداً حبشیاً مجدعا“۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:۲۸۶۲)

            اسی طرح آپ انے فرمایا کہ ظالم سربراہ کی اقتداء میں بھی جمعہ قائم کرتے رہو۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر:۱۰۸۱)

             نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ جب تک کسی امیر سے کفر کا ارتکاب نہ ہو، اس کی اطاعت واجب ہے:

             ”وأجمع اھل السنة والجماعة علی أن السلطان لا ینعزل بالفسق … فلو طرأ علیه کفر … سقطت طاعته“۔ (شرح طیبی علی المشکوٰۃ: ۸/۲۵۶۰)

            بلکہ اگر کوئی شخص زبردستی امیر بن جائے اور غلبہ حاصل کرلے تو اس کی بھی اطاعت واجب ہے:

             ”وقد اجمع الفقہاء علی وجوب طاعة السلطان المتغلب والجھاد معه“۔(نیل الاوطار: ۲۰۸/۷)

             امیر کی اطاعت کا یہ حکم ظالموں کی مدد کی تلقین نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مقصد اُمت کی اجتماعیت کی حفاظت ہے؛ اس لئے جو لوگ کسی ادارہ، جماعت یا تنظیم سے وابستہ ہوں، ان کو جائز باتوں میں بہر حال اپنے امیر و سربراہ کی اطاعت کرنی چاہئے، چاہے وہ اس کے فیصلہ کو نتائج کے اعتبار سے غلط سمجھتے ہوں۔

(۱) نصح و خیر خواہی:

            یہ دونوں طرف سے ضروری ہے۔ مامور اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے اور امیر زیادتی اور ظلم نہ کرے، چنانچہ جہاں ایک طرف مامور کو ہر حال میں اطاعتِ امیر کا حکم دیا گیا ہے، وہیں امیر کو بھی وعیدیں سنائی گئی ہیں، فرمایا:

            ”جس امیر نے رعیت کے ساتھ دھوکہ کیا، اس پرجنت حرام ہوگی۔“ (مسلم)

            ”جس امیر نے رعیت کو مشقت میں ڈالا، اللہ اُسے مشقت میں ڈالے گا اور جس نے نرمی برتی اللہ اُس سے نرمی برتے گا۔“ (مسلم)

            اگرامیر میں کمزوریاں ہوں توشرعی حدود اورادب واحترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کو دور کرنے کی کوشش کرے۔

(۳)عدل وانصاف:

            کسی بھی اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لیے ”عدل“ بنیادی پتھر ہے، اس کے بغیر اجتماعیت بکھر جاتی ہے، اسی لیے فرمایا:

            (اِنَّ اللّہ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَاءِ ذِی الْقُرْبٰی)۔ (النحل:۹۰)

            یعنی ”بے شک اللہ تعالیٰ اعتدال اوراحسان اوراہلِ قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں۔“

            حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے کعب القرظیؒ سے پوچھا: عدل کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:

            ”تم چھوٹوں کے حق میں باپ بن جاؤ اور بڑوں کے حق میں بیٹا بن جاؤاورہمسروں کے حق میں بھائی بھائی بن جاؤ۔“

(۴) تعمیری احتساب و تنقید:

            کسی بھی اجتماعیت میں تنقید برائے اصلاح بہت اہم ہوتی ہے، لہٰذا ایسی تنقید جو برائے اصلاح ہواس کی حوصلہ افزائی لازماً کرنی چاہیے، کیونکہ اجتماعیت میں کمزوریوں کا پیدا ہونا کوئی حیرت انگیز یا عجیب بات نہیں، بلکہ ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔

            تنقید کی بھی کچھ حدود ہیں، اگرخلوص پرمبنی تنقید مناسب وقت، مناسب انداز، مناسب ماحول میں مناسب طریقۂ کار سے کی جائے تو فائدہ مند ہوتی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

            مخلصانہ تنقید سے کسی کو بھی بالاتر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ جو جتنا بڑا ذمہ دار ہے، اسے اتنی ہی زیادہ تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔

            تنقید کرنے والے کو بھی بڑے چھوٹے کے آداب اور مراتب کا خیال رکھتے ہوئے تنقید کرنی چاہیے۔ اگرکوئی غلط انداز سے تنقید کررہا ہو تو اس کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے، ورنہ مسلسل غلط انداز سے تنقید‘ اجتماعیت کو نقصان پہنچاسکتی ہے، لہٰذا دوسروں کی اصلاح میں نرمی برتنی چاہیے۔

(۵)مشاورت اور شورائیت:

            مشاورت کا مطلب ہے دوسروں سے رائے لینا، اس سے دوسروں میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے، غوروفکر اور تبادلۂ خیال کا طریقہ آتا ہے، خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ مشاورت میں اپنی رائے‘ خلوص اور دلائل کے ساتھ دینے کے بعد دوسروں کی رائے کا احترام بھی ضروری ہے۔

            اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود کو صلاحیت کے اعتبار سے ایک ناقص وجود رکھا ہے، اس لئے جب ایک فرد کسی کام کو نہیں کرپاتا ہے تو بہت سے افراد مل کر اس کو انجام دیتے ہیں اوراجتماعی قوت سے وہ کام ہوجاتا ہے، ایک شخص ایک چٹان کو اپنی جگہ سے کھسکا نہیں سکتا؛ لیکن جب لوگوں کا جم غفیر اپنا ہاتھ لگاتا ہے تو چٹان اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے، یہ اجتماعی کاموں کی ایک مثال ہے، انسان جیسے اپنی جسمانی قوت کے اعتبار سے عاجز و نامکمل ہے، اسے دُور تک دیکھنے کے لئے چشمہ کی، آواز پہنچانے کے لئے مائیک کی اور فاصلہ طے کرنے کے لئے سواری کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح وہ عقل و فہم کے اعتبار سے بھی عاجز ہے، اس کو کسی صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لئے بہت سے لوگوں کی مدد درکار رہتی ہے؛ اس لئے اجتماعی کاموں میں خاص کر شورائیت ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کے اہم کام مشورہ ہی سے انجام پانے چاہئیں: (وَاَمْرُھُمْ شُوْریٰ بَیْنَھُمْ)۔ (شوریٰ: ۳۶)

            رسول اللہ ﷺکو حکم فرمایا گیا کہ آپ اہم مسائل میں اپنے رفقاء سے مشورہ کیا کیجئے:

             (وَشَاوِرْھُمْ فِیْ الْاَمْرِ) (آل عمران:۱۵۹)؛ حالاں کہ رسول اللہ ﷺکو وحی جیسا ذریعۂ علم حاصل تھا اورآپ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی؛ لیکن پھر بھی آپ کو مشورہ کی تلقین فرمائی گئی؛ تاکہ اُمت اس کو اپنے لئے اُسوہ بنائے، خلفائے راشدین کے عہد میں بھی امیر کے ساتھ شوریٰ ہوا کرتی تھیں، اوراس کواس درجہ اہمیت حاصل تھی کہ جب عراق کی زمینیں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں اوران زمینوں کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا کہ ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے یا بیت المال کی ملکیت بنالیا جائے تو تقریباً ایک ماہ تک مباحثہ و مناقشہ کا سلسلہ جاری رہا اوراس کے بعد فیصلہ ہوا۔

            رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے پیش آنے والے شرعی مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ جب کوئی اہم اور نیا مسئلہ پیش آئے تو اہل علم و فضل کو جمع کرو، ان سے مشورہ کرو اورتنہا اپنی رائے پر فیصلہ نہ کرو:

             ”تشاورون الفقھاء والعابدین ولا تمضوا فیه رأی خاصة“۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر: 1618)

 اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ انے یہ ہدایت سیدنا حضرت علیؓ کو دی، جن کا تفقہ صحابہ کے درمیان بھی مسلّم ہے اور جن کو رسول اللہ ﷺنے اپنے رفقاء میں سب سے بڑھ کر قوتِ فیصلہ کا حامل قرار دیا:

            ”و أقضاھم علی بن ابی طالب“۔(سنن ابن ماجه، حدیث نمبر:۱۴۵)

             ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ جو مشورہ سے کام کرے گا، اسے شرمندگی سے دوچار نہ ہونا پڑے گا: ”ولا ندم من استشار“۔(المعجم الاوسط، حدیث نمبر: ۶۶۲)

            ایک اورروایت میں ہے کہ جو کسی مسلمان سے مشورہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو بہتر پہلو کی توفیق عطا فرمائیں گے: ”وفقه ا لارشد امورہ“۔(المعجم الاوسط، حدیث نمبر: 8333)

مشورہ کے سلسلہ میں دواہم باتیں:

            لیکن مشورہ کے سلسلہ میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں:

            ایک یہ کہ مشورہ اہم اُمور میں ہو نہ کہ معمول کے کاموں میں، دوسرے: یہ ضروری نہیں ہے کہ مشورہ دینے والوں کا ہر مشورہ مان لیا جائے، مشورہ دینے والوں کو چاہئے کہ زیر ِمشورہ مسئلہ سے متعلق اللہ نے جو بات اس کے دل میں ڈالی ہے، اس کو پیش کردے اور حسب ِضرورت اس کے اسباب ووجوہ کو واضح کردے، پھر اگر مشورہ مان لیا جائے تو یہ احساس پیدا نہ ہوکہ میں بہت صائب الرائے شخصیت ہوں؛ اسی لئے میری رائے مان لی گئی ہے؛ بلکہ خیال کرے کہ اب یہ سبھوں کی مشترکہ رائے ہے اور دُعا کرے کہ اس کی رائے کسی نقصان کا باعث نہ بن جائے، اور اگر رائے قبول نہ کی جائے تو برا نہ مانے اور اجتماعی رائے سے جو فیصلہ ہو، اس پرایسی خوش دلی کے ساتھ عمل کرے کہ گویا یہ اسی کی رائے تھی، اجتماعی کاموں میں بعض دفعہ لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زبان سے تو اپنی رائے کو مشورہ کہتے ہیں؛ لیکن انداز ایسا اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی فیصلہ ہے، یہ طریقہ درست نہیں ہے، — امارت و شورائیت کے اسی متوازن امتزاج سے اسلام کے اجتماعی نظام کی تشکیل ہوتی ہے، امارت ہو اور شورائیت نہ ہو تو انسان امیر کے بجائے آمر و ڈکٹیٹر بن جاتا ہے، شورائیت ہو؛ لیکن کوئی سربراہ نہ ہو تو اس کی مثال اس گاڑی کی ہے جس کو بیک وقت کئی ڈرائیور چلانے کی کوشش کریں، اس سے قدم قدم پر اختلاف اور تضاد پیدا ہوگا اور کام میں ترقی نہیں ہوگی۔