معارف تھانویؒ
أَعُوْذُ بِاللّہ مِنَ الشَّیْطَنِ الرَّجِیمِ، بِسْمِ اللّہ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ
وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْہُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّینِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوْا إِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ(سورہ تو به پ: 1)
ترجمہ: اور ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہیے کہ جہاد کے واسطے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں، سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جہاد میں جایا کرے ،تا کہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اورتاکہ یہ لوگ اپنی اک قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس واپس آویں ڈرا دیں ؛تاکہ وہ ان سے دین کی باتیں سن کربرے کاموں سے احتیاط رکھیں۔ (بیان القرآن)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تعلیم احکام اوراس کی ضرورت سے تعلّم احکام (یعنی احکام سیکھنا) ایسا اہم فریضہ ہے کہ عین جہادِ حقیقی میں مشغول ہونے کے وقت بھی واجب ہے کہ ایک جماعت بجائے جہاد کے اس فریضہ کی خدمت انجام دے، تواور کسی وقت اس کا اہتمام کیوں نہ واجب ہوگا۔
وجہ ظاہر ہے کہ کوئی طاعت کیسی ہی عظیم اور ضروری ہو وہ معتبر اورمقبول اس وقت ہوسکتی ہے، جب کہ شرعی قوانین کے موافق ہو اور ان قوانین کے موافق ہونا اس پر موقوف ہے کہ پہلے ان کا علم ہو، جس کی دو صورتیں ہیں یا خاص طور پر ان کا درس و تدریس یا عام طورپرتعلیم و تبلیغ ۔ (تجدید تعلیم و تبلیغ ص: ۱۹۱)
یا درکھو! محکمہ تعلیم تمام کاموں کی جڑ ہے اگر محکمہٴ تعلیم نہ رہا، تو آئندہ کام کرنے والے کیوں کرپیدا ہوں گے۔ (التبلیغ ۸۴/۱۶)
غرض آپ کو معلوم ہوا کہ علمِ دین کیا چیز ہے کہ نظامِ عالم اس پر موقوف ہے۔(دعوات عبدیت ۶۹/۷)
مشغلہ علم دین کی فضیلت:
آج کل مشغلہٴ علمِ دین سب سے اچھا ہے، دین کی تعلیم سے بہتر،آج کل کوئی خدمت نہیں۔ جس کو خدا تعالیٰ علم دے تو اس کے لیے اس سے بہتر کوئی اور مشغلہ نہیں، اس کی آج کل سخت ضرورت ہے اور فضیلت بھی اس کی اس قدر ہے کہ شاید ہی کسی دوسرے عمل کی ہو، جب تک تعلیم کا سلسلہ چلے گا قیامت تک نامہٴ اعمال میں ثواب بڑھتا جائے گا۔(حسن العزیز:۴/۲۰۰ )
درس اور وعظ کی ضرورت:
دو باتیں خیال میں آتی ہیں یا تو درس و تدریس شروع کریں یا وعظ کہیں۔ دونوں کی ضرورت ہے، مناسب یہ ہے کہ مستقل درس کا شغل رہے اور کبھی کبھی وعظ بھی ہوا کرے۔ وعظ زیادہ مفید معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کا نفع عام ہوتا ہے۔ (حسن العزیز:۴/ ۷۲)
علما کی فضیلت:
فخراگرکریں تو علما کر سکتے ہیں، کیوں کہ وہ خود راہِ راست پر ہیں اور دوسروں کے لیے دلیلِ راہ بنتے ہیں، اور مال کو تو اگر غور کیا جائے تو اس کا نہ ہونا موجب فخر ہو سکتا ہے، کیوں کہ مال کی حالت سانپ کی سی ہے کہ اس کا ظاہر نہایت دلکش، دلفریب، چکنا، چمکدار لیکن اس کے باطن میں مہلک زہر بھرا ہے، اسی طرح مال اگر چہ ظاہر میں آسائش و آرائش، راحت و آرام کا سبب ہے، لیکن اس کا باطن تمام خرابیوں اور مصیبتوں کی جڑ ہے۔ مال پرفخر کرنا ایسا ہے جیسا کہ کوئی اس پر فخر کرنے لگے کہ میرے تمام جسموں میں سانپ لپٹے ہوئے ہیں۔
:حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں
رضینا قسمة الجبار فینا
لنا علم وللاعداء مال
فان المال یفنی عن قریب
وان العلم باق لا یزال
یعنی مال تو فنا ہو جائے گا اورعلم ہمیشہ باقی رہے گا علم جس کے ساتھ ہو، وہ دنیا بھر سے مستغنی ہے اس کو نہ رفیق کی ضرورت نہ مونس کی ضرورت، ہرکسی بادشاہ کو بھی وہ خوشی اوراطمینان حاصل نہیں۔ بادشاہ کو اپنے مصاحبوں ہی سے خطرہ ہوتا ہے کہ یہ مجھے زہرنہ دیدیں، مارنہ ڈالیں۔ اورعالم کے اطمینان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ تن تنہا جنگل میں ہے مگر محفوظ۔ بادشاہ سے زیادہ اطمینان میں ہے اوریہ کوئی تعجب کی بات نہیں، کیوں کہ علم کے ثمرات اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ (دعوت عبدیت :۱۲/۷۴)(بحوالہ : العلم والعلماء صفحہ :۵۶ تا ۵۷)
