مدرسہ اسلامیہ فیضِ عام موٹا وراچھاسورت:
۹/ اکتوبر۲۰۲۴ء بروز بدھ مدرسہ اسلامیہ فیضِ عام موٹا وراچھاسورت میں ناظمِ جامعہ اکل کوا حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی کی زیرصدارت ایک عظیم الشان جلسہ بعنوان ”مکاتب“ وقت کی اہم ضرورت منعقد ہوا۔اس جلسے میں تقریبا 550 علمائے کرام نے شرکت کی اورحضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی دامت برکاتہم العالیہ کے پرمغزاورپرسوز خطاب سے مستفید ہوئے۔آپ نے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ بیان فرمایا، جس میں دین اورعلم دین کی اہمیت، علم اور علما کا مقام اوراس پرفتن دور میں علما کی ذمہ داریوں پر علم و حکمت سے بھرپور قیمتی باتیں پیش فرمائیں،اور نہایت زور دیتےہوئے کہا کہ میں دنیا کے۳۰/ ملکوں کے سفر کے بعد اس فیصلہ پر پہنچا ہوں کہ اگر ہمارے اکابرین نے یہ مکاتب، مدارس خانقاہی نظام اوریہ دعوت کی مبارک محنت نہ چلائی ہوتی تو ”میں اورآپ اس ملک میں مسلمان نہ ہوتے“۔
آپ کا بیان نہایت پرمغزاورقیمتی تھا افادیت کے پیش نظر خلاصہٴ بیان مع نکات‘ قارئین کے پیش خدمت ہے:
بیان کے اہم نکات اور خلاصہ:
1-ایمان کی حفاظت : مولانا نے بیان کے آغاز میں فتنوں کے زمانے کا ذکر کیا اوراس بات پرزوردیا کہ نبی ٴکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فتنوں سے خبردار کیا ہے، جو انسان کوغیر محسوس طریقے پرایمان سے محروم کرسکتے ہیں۔
2- کامل دین : دین اسلام کی جامعیت بتاتےہوئے کہا کہ دین ِاسلام ایک کامل و مکمل دین ہے، جو ہرزمانے کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ مسلمانوں کو کسی دوسری تہذیب یا تمدن سے متاثر ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں، کیوں کہ اسلام میں تمام ضروری رہنمائیاں موجود ہیں۔
3- مرعوبیت سے بچاوٴ : آپ نے کہا:مرعوبیت، یعنی دیگر مذاہب اورتہذیبوں سے متاثر ہو کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جانا، امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس سے بچ کراوراسلامی تہذیب وتمدن کے دلداہ ہوکر ہی ہم دین پر مضبوطی سے قائم رہ سکتے ہیں،اوراسلام کی عالم گیریت وحقانیت ثابت کرسکتےہیں۔
4- علم نافع: آپ نےفرمایا:علم کو انسان کے لیے اس وقت تک مفید ونافع قرار نہیں دیا جاسکتا؛ جب تک وہ کسی بزرگ کی صحبت میں رہ کر اپنے کردار اور اخلاق کو بہتر نہ کر لے۔ علم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت ضروری ہے۔
5- دنیا کی محبت : دنیا کی محبت کو ہرگناہ کی جڑ قرار دیا گیا ہے، اوراس پرزوردیا گیا ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کو دنیا کی محبت سے محفوظ رکھیں۔
6-اخلاص : آپ نے اپنے بیان میں بار بار اخلاص کی ضرورت پرزوردیا۔ اعمال کواللہ کی رضا کے لیے انجام دینے کی ہدایت دی، اوردنیاوی مقاصد سے بچنے کی تلقین کی۔
7-بچوں میں تعلیم کی اہمیت : آپ نے بچوں میں دینی اوردنیاوی تعلیم میں توازن برقراررکھنے کی نصیحت کی۔ اور مکتب کے معلمین کو یہ ہدایت دی کہ بچوں کو نہ صرف دینی علوم سکھائیں؛ بلکہ ان کی ذہنیت اورفکرکو بھی اسلامی اصولوں کے مطابق پروان چڑھائیں۔
8-اخلاقی تربیت : آپ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کوبھی ضروری قرار دیا۔ اچھے کردار کوزندگی کی کامیابی کا اہم جزو بتایا اورطلبا کوادب واحترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی نصیحت کی۔
9-فتنوں سے بچاوٴکا طریقہ : امت کو فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اورصحابہ کرام کی زندگیوں کو اپنانے کی ہدایت کی اوران کی زندگیوں کو ہرشعبے میں مشعلِ راہ بنانے پرزور دیا۔
10- دعاوٴں کا اہتمام : آپ نے بیان میں دعاوٴں کی اہمیت پربہت زور دیا اور بچوں کو دعائیں سکھانے اوران کے معانی سمجھانے کی تلقین فرمائی۔
11-قرآن سے وابستگی : اسی طرح آپ نے قرآن کریم کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے پرزوردیااور قرآن کو سمجھ کرپڑھنے اوراس پرعمل کرنے کی ہدایت کی۔
12-اساتذہ کی ذمہ داری : مکتب کے اساتذہ کو بچوں کے ایمان کی حفاظت اور ان کی اخلاقی تربیت پر مکمل توجہ دینے کی تلقین فرمائی۔ اور بچوں کے والدین کے ساتھ بھی رابطے میں رہنے کی ہدایت فرمائی۔
13-معاشرتی فتنوں کا مقابلہ : نیز آپ نے موجودہ دور کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امت کو متحد ہونے اورعلماکی رہنمائی میں معاشرتی اصلاح کی کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
14-اولیائے کرام کی صحبت : آپ نے بزرگوں کی صحبت کو لازمی قرار دیتےہوئے فرمایا کہ ایک بزرگ کی صحبت میں بیٹھنا ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے، کیوں کہ اس سے انسان کے دل کی بیماریاں دور ہوتی ہیں، عجب اورتکبر پیدا نہیں ہوتا۔
15- اخلاص کی پہچان : آپ نے اخلاص کی نشانی یہ بتائی کہ اگرکوئی دوسرا بھی ہمارے جیسا کام کررہا ہو اور ہمیں اس پر خوشی ہو، تو ہم مخلص ہیں۔
16- اولیائے کرام کی برکتیں : اخیر میں آپ نے اولیاء اللہ کی برکتوں اور ان کی زندگی سے رہنمائی لینے کی ضرورت کو اجاگر کیا اوران کے نقش ِقدم پر چلنے کی تلقین فرمائی۔
مجلس کے اخیر میں شرکا کی جانب سے سوالات کی پرچیاں بھیجی گئیں،مولانا نے جن کے اطمینان بخش جوابات بنہایت خوش اسلوبی سے دیے، جس سے سامعین کوخوب فائدہ ہوا۔ اس مجلس کے بعد خواتین میں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ نے”خواتین ِاسلام کا مقام اوران کی ذمہ داریاں“ اس عنوان سے پُر مغز وپر سوزوعظ فرمایا۔آپ نے خاص طور سے خواتین اسلام کے ایمانی واقعات کی روشنی میں مستورات کو تربیت ِاولاد کی تلقین کی اورنوجوان بچیوں پر توجہ دینے کی فکر دلائی۔ اس مجلس میں تقریبا 300 خواتین نے شرکت کی۔
