بعث بعد الموت یعنی  اثباتِ حشر و نشر

حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ؒ

            مادیین اوردہریہ بعث بعد الموت کے بھی منکرہیں، اوریہ انکارفرقۂ دہریہ کے مذہب کا تیسرا بنیادی اصول ہے،اِن لوگوں کے نزدیک حشرونشرکوئی چیزنہیں۔ حشرونشرکےانکارسے ان لوگوں کا مقصود یہ ہے کہ دنیا سے حلال و حرام کا امتیازمٹادیا جائے، اورانسان اپنے کوکسی قوت و قدرت کےزیراثر خیال کر کے اپنےآپ کومجبورنہ سمجھے، بل کہ آزاد رہ کرجو چاہے کرے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ بلاوجہ خدا کی حکمرانی کادباؤ اپنےاوپرڈالیں اوراس کے احکام کا اپنے کو پابند بنائیں؟

            ہرایک انسان اپنےخواہشات اورخیالات میں قطعاً آزاد ہے۔ یہ مادیین اوردہریین کا نظریہ ہے۔ ناظرینِ کرام نے مادیین اوردہریین کی یہ تقریردل پذیرسن لی۔ کیا ان مدعیانِ عقل کی یہ دلیل حیوانات کی دلیل سے ملتی جلتی نہیں؟ جس طرح حیوانات کسی کے ماتحت نہیں رہتے اورآزادی سے زندگی بسرکرتے ہیں، جس کھیت میں جی چاہتا ہے منہ مارتے ہیں اورجس مادہ سے چاہتے ہیں جفتی کرتے ہیں، اُنہیں کسی نکاح اورایجاب وقبول کی ضرورت نہیں؛اسی طرح یہ آزاد منش لوگ حیوانات کا شریکِ حال بننا چاہتے ہیں۔

            اورشریعتِ اسلامیہ یہ کہتی ہے کہ تم انسانیت کے دائرے میں رہو، جانوراورشترِ بے مہارنہ بنو۔ ان لوگوں کے نزدیک انسانوں اوربہائم کے احکام میں کوئی فرق نہیں۔ اس گروہ کے نزدیک جس طرح حیوانات کسی اخلاق کے پابند نہیں تواسی طرح انسان بھی پابندِ اخلاق نہیں۔ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ انسانیت کے لیے پیامِ موت ہے اورلوگوں کوحیوانیت اور بہمیت کی دعوت ہے۔ بہت اچھا!جس کاجی چاہے اس دعوت کوقبول کرے اورخوب دل کھول کرحیوان بنے؛ جہاں چاہے گوبرکرے اور جہاں چاہے کھڑے کھڑے مُوت دے اورطہارت اوراستنجے کی ضرورت نہیں اورمُوت کر آگے چل دے۔

            خدائے کریم نےاس مسئلہ کو بھی قرآنِ کریم میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا؛ چناں چہ فرماتے ہیں:{أَیحْسَبُ الْاِنسَانُ أَن یُتْرَکَ سُدی}۔(القیامة: ۳۶)

            ’’کیا انسان گمان کرتا ہے کہ وہ مہمل چھوڑ دیا جائے گا کہ جو چاہے کرے۔‘‘

            بعد ازاں خود انسان کی خلقت سے امکانِ بعث پرحجت قائم کی:{أَلَمْ یکُ نُطْفةً مِّن مَّنِيٍّ یُمْنی، ثُمَّ کَانَ عَلَقةً فَخَلَقَ فَسَوّٰی،  فَجَعَلَ مِنهُ الزَّوْجَیْنِ الذکَرَ وَالْأُنثَی، أَلیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلیٰ أَن یُحْیِيَ الْمَوْتی}۔(القیامة: ۳۷-۴۰)

             اورایک جگہ ارشاد فرمایا:{أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکمْ عَبَثًا وَأَنکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُون} (المومنون:۱۱۵) ’’کیا تمہارا گمان ہے کہ ہم نے تم کوعبث پیداکیا اورتم ہمارے پاس لوٹ کر نہ آؤ گے؟‘‘

            اس قسم کی آیتیں اُن منکرینِ بعث کی تردید میں ہیں، جوبعث بعد الموت کوعبث اورخلافِ حکمت سمجھتے ہیں۔ اورقرآنِ کریم میں امکانِ حشرونشرپرجودلائل قائم کیے ہیں وہ اہلِ عقل کے لیے کافی اوروافی اورمُسْکِت ہیں؛ البتہ جو لوگ معاند ہیں اور سرے سے وجودِ صانع ہی کے منکر ہیں، ان کے لیے کوئی دلیل بھی اطمینان بخش نہیں اوران کی جہالت اوروقاحت کا کوئی علاج نہیں،جب تک وہ عیش وآرام میں مست ہیں، اُن کے لیے کوئی عقلی دلیل کارگرنہیں؛البتہ دنیا کی کوئی افتاد اوربلا اورافلاس وتنگدستی ہی ان کو سمجھا سکتی ہے۔

            موسیٰ علیہ السّلام نےفرعون کوخداوندِ عالم کی ربوبیت والوہیت کے دلائل سمجھائے، کچھ سمجھ میں نہ آیا، مگر جب اس کو دریائے نیل کی موجوں نے گھیر لیا اورغرقابی نے پکڑ لیا، تب مجبور ہوکراس نے خدا کو مانا اور یہ کہا: {آمَنتُ أنهُ لَا اِلٰه اِلاَّ الَّذِیْ آمَنَتْ بِهِ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ}۔(یونس:۹۰)

            منکرینِ بعث میں سے ایک گروہ ملاحدہ کا ہے جو بعث بعد الموت کوعقلاً محال سمجھتا ہے۔ قرآنِ کریم نے بیشمارمواضع میں جو ازبعث و نشور پرایسے عقلی اورقطعی دلائل قائم کیے ہیں ،جواہلِ عقل کے لیے کافی اوروافی ہیں۔

            قال تعالیٰ: {یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ-وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآئُ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْا اَشُدَّکُمْ-وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئا-وَ تَرَی الْاَرْضَ ہَامِدَۃً فَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآئَ اہْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ}۔( الحج:۵)

            ’’ اے لوگو! اگرتم دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک اورتردّد میں مبتلا ہوتواپنی پیدائش کے بارے میں غور کر لو، سارا شک کافورہوجائے گا۔ وہ یہ کہ تحقیق ہم نے ابتداء ً تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خونِ بستہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جس کی کبھی پوری صورت بن جاتی ہے اورکبھی ادھوری رہتی ہے۔ اس تدریج اورترتیب سے تم کو پیدا کیا تاکہ تمہارے سامنے اپنی قدرت اورحکمت اورکمالِ صنعت کوظاہرکریں۔ اوراس اظہاروقدرت کے لیے ایک میعادِ معین تک رحمِ مادر میں رکھتے ہیں، پھر بچہ بنا کرتم کو ماں کے پیٹ سے باہر نکالتے ہیں، پھر بتدریج تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم اپنی جوانی کے زورکو پہنچو۔ پھرتم میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کی پہلے ہی روح قبض کرلی جاتی ہے اور بعض ایسے ہیں جو بد ترین عمرکی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتا۔اس کے کمال قدرت کی ایک دلیل تو یہ ہوئی ، پس جوخدا تم کو اس طرح پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔اوراس کی قدرت کی ایک مثال اورلیجیے! وہ یہ کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے، پھرجب ہم اس پرپانی برساتے ہیں تووہ تروتازہ ہوجاتی ہے، اورپھول جاتی ہےاورقسم قسم کی نفیس چیزیں اُگاتی ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ خدائے برحق اورقادرِمطلق ہے، اور وہی مردوں کوزندہ کرتا ہے اوروہی ہرچیزپرقادر ہے، اورتحقیق کہ قیامت ضرورآنے والی ہے، اورتحقیق کہ اللہ تعالیٰ قبروں سے مردوں کو اُٹھائے گا۔‘‘

معاد کے بارے میں فلاسفۂ یونان کا عقیدہ:

            فلاسفۂ یونان دراصل معاد کے قائل نہ تھے اورجس معاد کا برائے نام ان کواعتقاد تھا وہ کالعدم ہے، کیوں کہ اُن کے عقیدۂ معاد کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص علومِ حقہ کوحاصل کرے۔ اوروہ علومِ حقہ ان کے نزدیک کیا ہیں؟ وہ محض یہ ہیں کہ افلاک نوہیں اوروہ سب کروی ہیں، اورپیازکے پردوں کی طرح توبرتوایک دوسرے سے متصل ہیں۔اورافلاک کے نیچے چا رکرّے ہیں، جن کی ترتیب یہ ہے کہ سب سے اسفل کرۂ ارض ہے، اوراس کے اوپر کرۂ ماء ہے، اور اس کے اوپر کرۂ ہوا ہے، پھر کرۂ نار ہے۔ اوران سب کو نوافلاک محیط ہیں، جوہروقت متحرک ہیں، اوران میں خَرق اورالْتِیام یعنی شکست وریخت محال ہے۔

            پس جس کو یہ ترتیبِ عالم صحیح طورپر معلوم ہو،اوراس کے اخلاق اچھے ہوں، مرنے کے بعد اُس کو سکون اورراحت ہوگی اوراپنےعلوم کو دیکھ کے خاص مسرّت ہوگی، یہ تو اس کی جنت ہوگی۔ اورجس کواس ترتیب سے جہل ہوا اوراخلاق اس کے برے ہوئے، تو مرنے کے بعد اُس کو اپنی اس جہالت اور بد اخلاقی سے سخت تکلیف ہوگی، یہ اس کی دوزخ ہوگی۔

            سبحان اللہ! کیا علومِ عالیہ ہیں، جن کے جاننے اورنہ جاننے پرراحت و الم اورجنت وجہنم کا مداررکھا ہے،ان کی وہی مثال ہے۔

چو آن کرمیکہ در سنگے نہاں است

زمین و آسمان اوھان است

            جوکیڑابھی پتھر کےاندرہو، وہی اس کا آسمان اوروہی اس کی زمین ہے جیسے بچہ، جب تک ماں کے پیٹ میں ہوتا ہےتواسی کو سب سے بڑا مکان سمجھتا ہے، اوروہاں سے دنیا میں آتے ہی روتا ہے؛ یہی حال ان فلاسفہ کےعلوم کا ہے کہ بس اُن کے یہاں ترتیبِ عالم کے جان لینے پرراحت کی انتہا اوراس کے نہ جاننے پردائمی الم کا دارومدار ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’فَرِحوا بِما عِندَہُم مِنَ العِلم‘‘کہ جوذراساعلم ان کے پاس ہے، اسی پراتراتے ہیں۔

قدیم فلاسفہ، جدید فلاسفہ سے بہتر تھے:

            قدیم فلاسفہ اگرچہ صحیح طورپرمعاد کے قائل نہ تھے، مگر موت کے قائل تھےاورعاقل تھے۔ اورموت کےاستحضار سے اُن کی یہ حالت تھی کہ لذاتِ دنیاویہ اورسامان وعیش وعشرت سے بہت بچتے تھے۔ اورآج کل کی حکمتِ جدیدہ کوئی حکمت نہیں،بل کہ حکومت ہے۔ آج کل کی ساری حکمت کاخلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ممکن ہو، تمام عالم کومسخرکرلیا جائے۔ چاند اورسورج تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہاں کی مخلوق کوبھی مسخر کیا جائے، جس قدر صنعتی ترقی ہو رہی ہے، اسی قدر اخلاقی تنزل ہورہا ہے۔ مادہ پرستی غالب ہوتی جا رہی ہے اورروحانیت دن بدن فنا ہوتی جا رہی ہے۔ قدیم فلاسفہ آج کل کے جدید فلاسفہ کی طرح نفسانی اورشہوانی لذتوں کے دام میں گرفتار نہ تھے۔

حدُوثِ عَالَمْ:

            متکلمینِ اسلام یہ کہتے ہیں کہ یہ عالم حادث، بحدوثِ زمانی ہے۔ یعنی ایک وقت ایسا تھا کہ یہ عالم موجود نہ تھا، بعد میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اورارادہ سے پیدا ہوا ہے۔

             فرقۂ دہریہ، جو کسی خالق اورصانع اورخدا کے وجودکا قائل نہیں، وہ یہ کہتا ہے کہ یہ عالم قدیم ہےاوراس کا تمام کاروباربغیرکسی متصرّفِ حقیقی کےخودبخود چل رہا ہے۔اوراسی طرح قدیم سے چلا آ رہا ہے اوراسی طرح ہمیشہ چلتا رہے گا۔ سلسلۂ عالم کی نہ کوئی ابتدا ہے اورنہ کوئی انتہا ہے اورنہ کوئی یومِ جزا ہے کہ بندوں کو اچھے یا برے اعمال کی جزا ملے۔ اس لیے کہ جب اس عالم کا کوئی بنانے والا اورچلانے والا ہی نہیں توجزا اورسزا کون دے؟ فرقۂ دہریہ کا یہ عقیدہ قیامت اورحشرونشر کے عقیدہ کے بالکل معارض اورمنافی ہے۔

            فرقۂ دہریہ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گمراہ اوربدبخت فرقہ نہیں، جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ کارخانہ بغیر کسی متصرّفِ حقیقی کے چل رہا ہے۔ اوریہ عقیدہ فطرتِ انسانی سے غایت درجہ بعید ہے، کیوں کہ انسان کی طبیعت اور فطرت میں اپنے خالق کی طرف میلان اس درجہ مرکوز ہے کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں، جو لوگ اپنے خالق کے منکر ہیں، وہ فطرت سے منحرف ہیں۔

            دہریہ کی طرح فلاسفۂ یونان بھی قدَمِ عالم کے قائل ہیں اورحشرونشراورجزاوسزا کے منکر ہیں، مگر واجب الوجود کے ثبوت اوروجود کے قائل ہیں۔

             اور حکمائے یونان اگرچہ قدَمِ عالم کے قائل ہیں، مگران کے نزدیک عالم قدیم زمانی ہے، جس سے پہلے کوئی عدمِ خارجی نہیں۔ یعنی یہ بات نہیں کہ عالم کسی وقت اور کسی زمانہ میں خارج میں موجود نہ تھا، پھر بعد میں موجود ہو گیا۔ ہاں اگرعالم کے لیے حدوث ہے، توحدثِ ذاتی ہے، نہ کہ زمانی۔ اُن کا مقصد یہ ہے کہ عالم اپنے وجود میں واجب الوجود کا محتاج ہے اوراس سے مؤخر ہے، لیکن عالم کا ذات واجب الوجود سے مؤخرہونا فقط لحاظِ عقل میں ہے، خارج اورواقع میں نہیں، جیسے ہاتھ اورقلم کی حرکت اپنے وجود میں حرکتِ دست کی محتاج ہے اورفقط لحاظِ عقل میں اُس سے مؤخر ہے، مگر زمانہ کے اعتبار سے مؤخر نہیں، کیوں کہ زمانہ کے اعتبار سے حرکتِ دست اورحرکتِ قلم ایک دوسرے سے مقارن ہیں۔

            حکمائے یونان، جن میں سقراط، بقراط، ارسطواورجالینوس وغیرہ شامل ہیں، عقل معاش میں کسی قدرترقی یافتہ تھے، مگرعقلِ معاد سے ان کو حصہ نہیں ملا تھا۔ عقلِ معاش میں انہوں نے طب اور فلسفہ، حکمت، طبیعیات، فلکیات، ہندسہ، حساب وغیرہ وغیرہ تمام فنونِ ضروریہ کو حد کمال تک پہنچایا، مگرعلومِ الٰہیہ میں اُن کو صحنِ خانہ توکجا دروازہ اوردہلیزپربھی بھی قدم رکھنا نصیب نہ ہوا؛ چناں چہ ان میں سے کوئی خداوند ِعالم کے وجود کا منکر ہے، اورکوئی قِدَمِ عالم کا معتقد ہے، اورحشرونشراوربعث بعد الموت کو ناممکن سمجھتا ہے،افلاک کوقدیم مانتا ہے، اورکوئی وجودِ جنات کامنکروغیرذلک من انحرافات۔

            یہ لوگ عقلااورحکما کے نام سے مشہور ہیں اورعلم وحکمت کے مدعی ہیں، مگرخوب سمجھ لو: ع

علمے کہ راہ حق نماید جہالت ست

             جس علم سے حق جل شانہ کی صحیح معرفت حاصل نہ ہو، وہ علم اورمعرفت نہیں، بل کہ جہالت وسفاہت ہے، کما قال تعالی: {وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِلّةِ اِبْرَاھِیمَ الَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ}۔(البقرۃ:۱۳۰)

            دہری اورفلسفی میں فرق یہ ہے کہ دہری مطلقاً صانعِ عالم کا منکر ہے اورفلسفی صانعِ مختار کامنکر ہے۔

            عارف رومی قدس سرہ السامی نے مثنوی کے دفترچہارم ص:۸ ۲۲ پرحدوث عالم کے بارے میں سنی اورفلسفی اوردہری کی ایک بحث نقل کی، جس کا سلسلۂ کلام دورتک چلا گیا۔ اس میں فرماتے ہیں:

آن یکی می گفت عالم حادث است

 فانی است این چرخ حقش وارث است

            ایک (سنّی) کہتا تھا کہ یہ جہاں حادث ہےاورآسمان اورجواس کے نیچے ہے وہ ایک دن فنا ہونے والا ہے، اوراس کی فنا کے بعد صرف ایک خداوند ذوالجلال باقی رہ جائے گا۔

            {کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ، وَّ یَبْقٰی وَجْهُ رَبِّکَ ذُوْالْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ}۔(الرحمن:۲۶-۲۷)

            مورث مرجائے گا اوراس کا وارث حق تعالیٰ باقی رہے گا پھرچند اشعار کے بعد فرماتے ہیں :

آن یکے می گفت گردوں فانی است

بے گمانے ایں بنا را بانی است

            وہ مسلمان یہ کہتا تھاکہ یہ آسمان فناہونے والا ہےاوربلاشبہ اس عمارت کا کوئی بنانے والا ضرور ہے ۔ کوئی عمارت بغیربانی اورمعمار کے خود بخود نہیں بن کرکھڑی ہوجاتی۔

وآن دگر گفت ایں قدیم بے کیست

نیستش بانی یابانی ویست

            اوردوسرے نے یعنی دہری نے کہا کہ یہ جہان قدیم ہےاس کی نہ کوئی ابتدا ہے اورنہ انتہااورنہ کوئی اس کا بنانے والا ہے اوراگر کوئی اس کابانی ہےتووہ خود ہی اپنا بانی ہے، اس لیے کہ عالم تغیرات وتبدلات مادہ کی حرکت اور اس کے ذاتی خواص نتیجہ میں اس عالم کا مادہ ہی خود اس کی علت اولیٰ ہے، کسی خارجی وجود کوان تغیرات میں کوئی دخل نہیں اورمثنوی کےدفتراول ص:۱۸۱؍میں فرماتے ہیں:

منکران گویند خودہست ایں قدیم

ایں چرا بندیم بر رب کریم

            منکرین خدا یہ کہتے ہیں کہ یہ عالم قدیم ہے، خود بخود وجود میں آیا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیاضرورت ہے کہ خواہ مخواہ حوادثِ عالم کوایک رب کریم کی طرف منسوب کریں۔

جملہ پندارند کیں خود دائم است

وز قدیم ایں جملہ عالم قائم است

            ان دہریوں اورمادہ پرستوں کا گمان یہ ہے کہ یہ جہاں ہمیشہ سے ہے اوراسی طرح ہمیشہ قائم ودائم رہے گا۔

منکرینِ خدا کی تردید:

            عارف رومی منکرین خدا کا قول نقل کرکےاب اس کی تردید فرماتے ہیں :

کوری ایشان درون دوستان

حق برویانید باغ وبوستان

            یہ عقیدۂ باطلہ۔ ان کی باطنی کوری اوراندھے پن سے پیدا ہوا ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو یہ نظر نہ آیا کہ تغیراتِ عالم ہرلمحہ اپنے فنا اور زوال کی خبر دے رہے ہیں، اوردم بدم {کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ، لَہٗ الْحَکْمُ وَاِلیِْہِ تُرْجَعُوْنَ}۔(القصص: ۸۸)کا مشاہدہ ہورہا ہے، بخلاف اس کےاللہ تعالیٰ نےاپنے دوستوں کے دل میں حقائق ومعارف کے باغ  بوستان اگا دیے ہیں۔

ہر گلے کا ندر درون بو یا بود

آن گل از اسرار کل گو یا بود

            اس معنوی باغ وبوستان میں ہرپھول اپنی خوشبو دے رہا ہے اوراسرارکل سے گویا ہورہا ہو، اوربزبانِ حال یہ بتلا رہا ہے کہ یہ تمام تغیرات، جذبات رحمانیہ اورتجلیات ربانیہ سے رونما ہو رہے ہیں۔

بوئے ایشان رغم انف منکران

گرد عالم می رود پردہ دران

            اوربوستانِ معرفت کے ہرپھول کی خوشبو تمام عالم کے گرد چکرلگار ہی ہے اورمنکرینِ خدا گرچہ ناک رگڑ کرمرجائیں،مگروہ حقائق ومعارف کے پھول ان کی پردہ دری کررہے ہیں اورحق تعالیٰ کی خوشبوکوتمام عالم میں پھیلا رہے ہیں۔

منکران ہم چون جُعَل زان بوئے گل

 یا چو نازک مغز از بانگ دھل

            اوریہ منکرین خداجعل یعنی گندگی کےکیڑے کی طرح، حق کے پھولوں کی خوشبو سے مرجاتے ہیں یا کسی ضعیف الدماغ شخص کی طرح بانگِ دہل سے ان کا سر پھٹا جاتا ہے۔

             مطلب یہ ہے کہ جس طرح گندگی کا کیڑا خوشبو کی تاب نہیں لا سکتا، اورایک ضعیف الدماغ شخص بانگِ طبل کوبرداشت نہیں کرسکتا، اسی طرح یہ منکرین خدا حق کی خوشبواوراس کی آواز کوبر داشت نہیں کرسکتے۔

خویشتن مشغول می سازند و غرق

چشم می دوزند از لمعان برق

            یہ منکرین خدا اپنے جہل مرکب یا لذاتِ دنیویہ میں مشغول اورغرق ہیں، اوردلائلِ حقہ کی چمک سے دل کی آنکھوں کو بند کرلیتے ہیں{یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْ آذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حََذَرَ الْمَوْتِ وَاللّٰہُ مُحِیْطٌ بِالْکَافِرِیْنَ}۔(البقرۃ:۱۹)

چشم می دو زند و آنجا چشم نے

چشم آن باشد کہ بیند مامنے

            یہ لوگ ظاہرمیں اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آنکھ ہی نہیں، کیوں کہ آنکھ تووہ ہے جس کو اپنا مامن(جائے امن) نظر آتا ہو، اوریہ لوگ دل کے نابینا ہیں، کما قال تعالیٰ:{وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لَجھنمْ کَثِیرًا مِنَ الْجِنِّ وَالاِنسِ، لَھُمْ قُلُوبٌ لا یَفْقھُونَ بِھا وَلَھُمْ أَعیُنٌ لایُبْصِرُونَ بِھَا وَلھُمْ آذَانٌ لا یَسْمَعُونَ بِھَا، أُولَئکَ کَالْأَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اضلّ، أولٰئک ھم الْغَافِلُونَ}۔(اعراف:۱۷۹)

            مثنوی دفتراول ج:۱ص:۱۸۱؍اوردفتر دوم ص:۲۰۷؍ ج ۲ ؍میں فرماتے ہیں:

اے فلک در فتنۂ آخر زمان

 تیز می گردی بدہ آخر امان

            اے فلک! تو آخری زمانہ کے فتنوں میں بہت تیز گھوم رہا ہے اورہم کوپریشان کررکھا ہے، آخر کچھ توامن دے۔

خنجر تیز تو اندر قصد ما

نیش زہر آلودۂ در فصد ما

            تیرا تیز خنجر ہمارے قتل کی فکرمیں ہے، اورتیرازہرآلود نشترہماری فصد کی قصد میں ہے۔

اے فلک ازرحم حق آموز رحم

بردل موران مزن چون مار زخم

            اے فلک، توحق تعالیٰ کے رحم وکرم سے رحم کرنا سیکھ، اورہم چیونٹیوں کے دل پرسانپ کی طرح زخم نہ لگا۔

حق آنکہ چرخۂ چرخ ترا

گرد گرداں بر فراز این سرا

کہ دگرگوں گردی و رحمت کنی

پیش ازاں کز ببیخ مارا برکنی

            تجھے قسم ہےاس ذات برحق کی جس نے تیرے کرہ کے چرخہ کواس دنیا کے سرپرگھمایا ہے، اپنے چکرکودگرگوں کردے یعنی دوسری طرح پھیردے، اورتوہم پررحم کر، قبل اس کے کہ توہم کوجڑسے اکھاڑ کرپھینک دے۔

حق آنکہ دایگی کردی نخست

تانہال ما ز خاک و آب و رست

            قسم ہے تجھ کواس حق تربیت کی جوپیشترتوکرچکا ہے، جس سے ہمارابوٹا خاک اورآب سے اُگا ہے۔

حق آں شہ کہ ترا صاف آفرید

کرد چنداں مشعلہ در تو پدید

            قسم ہے تجھے اس بادشاہ حقیقی کی جس نےتجھ کوصاف پیدا کیا اورکواکب ونجوم کی مشعلیں تیرےاندرظاہرکیں، کما قال تعالی: {اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَائَ الدُّنْیَا بِزینَةِ الْکَوَاکِبِ}۔(صافات:۶) وقال تعالی: {وَلَقَدْ زیّنّا السَّمَائَ الدُّنیَا مُصَابِیحَ}۔(الملک:۵)

آنچنان معمور و باقی داشتت

تاکہ دہری از ازل پنداشتت

            اے آسمان حق تعالیٰ نےتجھ کواس طرح پیدا کیا کہ تیراوجود ایک عرصہ دراز تک باقی رہے، اس لیے دہری تجھ کوقدیم اوردائم سمجھنےلگا۔ حق تعالیٰ نےاپنی قدرتِ کاملہ سے تجھ کوایک پائداراوردیرپا وجودعطا کیا، اس لیے دہری یہ سمجھ گیا کہ یہ عالم قدیم ہےاورنا قابلِ فنا ہے۔ چوں کہ دہری کوآسمان وزمین کی بنا اورعمارت کا وقت اورزمانہ معلوم نہ تھا اورقرنہا قرن سے اس کا وجود سنتا چلا آیا، اس لیے اس نے اس بنا کا بانی خود اسی کو سمجھ لیا اور یہ گمان کربیٹھا کہ اس عمارت کا معماریہ خود عمارت ہی ہے کہ اپنے مادہ کی حرکت سے وجود میں آئی ہے، اس کوکسی بانی اورمعمارکی حاجت نہیں۔

            اور یہ کہنے لگا:{ وَمَا یُھْلِکُنَااِلَّا الدَّھْرُ}۔(الجاثیة: ۲۴) نہیں ہلاک کرتاہم کومگرزمانہ کی گردش اورفلک الافلاک کی حرکت، {ماَلَھُم ْبِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ}۔(الجاثیۃ: ۲۴)  ان کوکچھ خبرنہیں۔ اپنی جہالت سے حوادثِ عالم اورتغیرات کوزمانہ کی گردش اور فلک کی حرکت کی طرف نسبت کرتے ہیں،{اِنْ ھُمْ اِلَّایَظُنُّوْنَ}۔(الجاثیة: ۲۴) یہ ان کا محض گمان ہے، دلیل ان کے پاس کچھ نہیں۔

            عمارت کی پائداری اورپختگی کودیکھ کریہ سمجھ لینا کہ یہ عمارت قدیم ہے اوربغیر کسی معمار کے خود بخود بن گئی، سراسر حماقت ہے۔ ایک پختہ اورپائدارعمارت کو دیکھ کریہ گمان کرلینا کہ یہ بناء بانی سے بے نیازہے اور یہ عمارت معمارسے مستغنی ہے، سراسر خلاف عقل ہے؛ حالاں کہ یہ امر بدیہی ہے کہ کوئی عمارت بدونِ معمار کے وجود میں نہیں آسکتی۔

            اور کسی مرکب اورمؤلف شئ کے بے شمار اجزائے ترکیبیہ، بدونِ کسی تالیف کنندہ اوربدونِ کسی ترکیب دہندہ کے، خود بخود مرکب نہیں ہو سکتے۔

            حق جل شانہ نے اپنی قدرتِ کاملہ سےآسمان وزمین اورشمس وقمرکوایک پائداراوردیرپا وجودعطا کیا، اس لیے دہری یہ سمجھ بیٹھا کہ یہ عالم قدیم ہے اوریہ خیال نہ کیا کہ آسمان اورزمین قسم قسم کے مختلف اجزا سے مرکب ہے اور کوئی ترکیب بدونِ ترکیب دہندہ کے وجود میں نہیں آسکتی، اورکوئی عمارت اپنے معمار سے، اور کوئی بنا اپنے بانی سے مستغنی اوربے نیازنہیں ہو سکتی۔

            مشہور ہے کہ کرگس (گدھ )کی عمر ساڑھے تین ہزاربرس کی ہوتی ہے اورکبوترکی عمربہت تھوڑی ہوتی ہے؛ پس اگرلمبی عمر کی وجہ سے کوئی کرگس کو قدیم اورغیر فانی سمجھنے لگے، تو یہ اس کی نادانی ہے۔

            اسی طرح دہری نے آسمان وزمین کے پائداراوردیرپا وجودکودیکھ کراس کو قدیم اورغیر فانی سمجھا ایک حماقت تویہ ہوئی اوردوسری حماقت یہ کہ اس عظیم الشان عمارت اوربناء کو بانی اورصنّاع سے مستغنی اور بے نیاز سمجھا۔

شکر دانستیم آغازِ ترا

انبیا گفتند آں رازِ ترا

            خدا کا شکر ہےکہ اے آسمان! ہم نے تیرے آغازکومعلوم کرلیا، حضرات انبیائے کرام نے ہم کو تیرے اس راز سے آگاہ کیا کہ اے آسمان!تیری اصل دخان (دھواں) ہےتودھنوے پیدا ہوا، کما قال تعالی: {ثُمَّ اسْتَوَیٰ إِلَی السَّمَائِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا أَوْ کَرْہًا قَالَتَا أَتَیْنَا طَائِعِینَ } (فصلت:۱۱) ورنہ دہری کی طرح ہم بھی تجھ کوازلی سمجھ جاتے، مگرانبیائےکرام کے بتلانے سے معلوم ہوا کہ توحادث ہے۔

آدمی داند کہ خانہ حادث است

 عنکبوتے نے کہ دروے عابث است

            آدمی جوصاحبِ عقل ہے وہ جانتا ہے کہ یہ مکان اورگھرحادث ہے، مگرمکڑی کہ جوعقل سے بے بہرہ ہے، وہ کیا جانے کہ یہ مکان کب بنا ہے۔ مکڑی جواس مکان کے اندرکھیل رہی ہے اورلہو ولعب میں منہمک ہے، وہ مکان کے حدوث کوکیا سمجھے؟ مکڑی تو یہ سمجھتی ہے کہ یہ مکان ازلی اورابدی ہے۔ اورانسان یہ خوب جانتا ہے کہ یہ مکان کبھی نہ کبھی بنایا گیا ہےاوریہ مکان حادث ہے، اگرچہ یہ مکان میری پیدائش سے پہلے کا بنا ہوا ہےاورمیرے مرنے کے بعد بھی باقی رہے گا، مگرکسی حال میں یہ مکان قدیم اورازلی نہیں ہوسکتا، اورصانع اورکاریگر سے مستغنی اوربے نیازنہیں ہوسکتا، کیوں کہ کوئی عمارت بغیر معمار کے وجود میں نہیں آسکتی اورنہ بانی اورمعمار سے مستغنی ہو سکتی ہے۔

پشہ کے داند کہ این باغ از کیست

کو بہاران زاد و مرگش دروے است

            مچھرکیا جانے کہ یہ باغ کب سے ہے۔ ایام بہارمیں وہ مچھر پیدا ہوتاہے، اورموسم خزاں میں اُس کی موت ہے۔ اُس کو باغ کے ابتدا اورانتہا کی کیا خبر؟

             مطلب یہ ہے کہ اول تو مچھر ایک بے خبر جانور ہے، وہ حدوث اورقدم کو کیا سمجھے؟ دوم یہ کہ مچھر کی عمراتنی تھوڑی اور کم ہے کہ وہ اس کا اندازہ کر ہی نہیں سکتا کہ یہ باغ کب سے ہے۔

            (دیکھو! المنھج القوی :ج:۲ص:۴۷۷، و کلید مثنوی دفتر دوم،حصہ سوم ص:۹۶)

کِرْم کاندر چوب زاید سست حال

کے بداند چوب را وقت نہال

            جو کیڑا لکڑی میں سست حال پیدا ہوا ہے اورعقل سے عاری ہے، وہ لکڑی کے حال کو کیا جانے جواس کے تازہ ہونے کے وقت تھا۔(مثنوی طبع کا نپوری دفتر اول ص۲۰۸)

خلاصۂ کلام:

            یہ کہ سارا جہان حادث ہے اورعدم سے وجود میں آیا ہے۔ کرگس کی طرح آسمان کی عمرطویل ہے۔ لوگوں میں مشہور ہے کہ گِدھ کی عمر تین ہزار برس کی ہوتی ہے۔

جملہ پندا رند کرگس باقی است

نے غَلَط کردند یک کس باقی است

            سب فلاسفہ یہ سمجھتے ہیں کہ کرگس(یعنی آسمان) قدیم ہے، ہمیشہ باقی رہے گا۔ نہیں، غلط سمجھے ہوئے ہیں، صرف ایک خدا باقی رہے گا۔

چوںکہ ظاہر بین شد نداندر جہدخویش

می نہ بینند از عمی نہ پس نہ پیش

            چوں کہ اپنی کوشش سے ظاہر پرست بنے ہیں، ان لوگوں کواپنا آگا پیچھا نظرنہیں آتا۔

می نماند درجہان یک تار مو

کل شیٔ ھالک الأوجہہ

            اس جہان میں ایک بال بھی باقی نہ رہے گا۔ تمام عالم کی ہرچیز فنا کے گھاٹ اترنے والی ہے، سوائے ذاتِ خداوندی کے، کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔

(ماخوذ از:اثبات صانع عالم اورابطال مادیت وماہیت :صفحہ۶۷تا۷۹)