بزمِ وستانوی مراٹھی کا سالانہ پروگرام اور اس کا اہم پیغام

            جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل میں بزمِ وستانوی مراٹھی انجمن کا سالانہ پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔

            یہ پروگرام جامعہ کے بانی ورئیس حضرت مولانا غلام محمد وستانوی (حفظه اللہ و رعاہ و ادام اللہ ظله علینا بالصحة والعافیة) کی سرپرستی میں اور مولانا حذیفہ وستانوی صاحب کے مارگ درشن میں منعقد ہوا۔

            ہم بزمِ وستانوی مراٹھی کی جانب سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہیں، اوررئیس حضرت مولانا غلام محمد وستانوی (حفظه اللہ و رعاہ و ادام اللہ ظله علینا بالصحة والعافیة) کا اور مولانا حذیفہ وستانوی صاحب کا بھی شکر ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہراعتبار سے ہماری اعانت کی اور رہنمائی فرمائی۔

            اسی طرح پروگرام میں حاضر سبھی اساتذہ کرام و ٹیچر حضرات و عزیز طلباء کے بھی ہم شکر گزار ہیں۔

            اس تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی (راشٹریہ وشوگامی پترکار سنگھ (صحافتی تنظیم) کے ضلع صدر یوگیشور بُوا، پروفیسر آشیش وساوے، عبدالوحید سر اور جامعہ کے مختلف شعبہ جات کے پرنسپل، ٹیچر اورعلمائے کرام شریک رہے۔

            تقریب کے مہمانِ خصوصی یوگیشور بُوا نے مراٹھی زبان کی تاریخ، اس کی ترقی، اور اسے دیے گئے ”ابھیزات بھاشا کا درجہ“ اس پرتفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے آئندہ مراٹھی زبان کی مزید ترقی کے امکانات پربھی گفتگو کی۔

            پروگرام کی نظامت بزبان مراٹھی مولانا مجیب صاحب بابل گاؤں اشاعتی نے کی۔ اس موقع پرطلبہ نے مراٹھی زبان میں نہایت شانداروجاندارانداز میں پروگرام پیش کیا۔ اس دوران مختلف مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جن میں تقریری مقابلہ، نعت خوانی، ڈرامے وغیرہ شامل تھے۔

            مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔ پہلا انعام محمد سہیل، دوسرا انعام عبدالمتین، اور تیسرا انعام محمد سہیل نے حاصل کیا۔ انعامات مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں تقسیم کیے گئے۔

خصوصی جھلک:

             جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم کے زیراہتمام منعقدہ بزمِ وستانوی مراٹھی کے سالانہ پروگرام میں طلبہ نے سماجی برائیوں پرمبنی ڈرامے پیش کیے۔ ان ڈراموں کے ذریعے جہیز کی لعنت، خواتین کے قتلِ جنین اوردیگر معاشرتی مسائل پرشعوربیدار کیا گیا۔