انفاقِ مالی، صدقۂ جاریہ اور وقف

lمولانا افتخار احمد قاسمیؔ بستویؔ/استاذ جامعہ اکل کوا

            اللہ رب العزت کے احکام کو دل سے ماننا اورزبان سے اقرار کرنا بندے کو اہلِ ایمان کے زمرے میں داخل کردیتا ہے۔ اب زندگی کی آخری سانس تک بندہ یہ عہد کرچکا ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہرلمحہ اپنے خالق و مالک کی مرضی تلاش کرنے اور اس کو خوش کرنے کے لیے گزرے گا۔

            بندۂ مومن کا یہی کام اوراس کی یہی شان ہوتی ہے کہ شب و روز اپنے ہرعمل سے مقصود یہی ہے کہ بندہ تلاش کرے کہ مجھ سے میرا رب راضی ہوگا یا نہیں، اگررب ِکائنات اس عمل سے راضی ہوتا ہے تو وہ عمل مقبول و مطلوب ہے ورنہ وہ عمل قابلِ ترک اورلائق احتراز واجتناب ہے۔

            بندۂ مومن کے لیے خلاصہ ایمان واحکام اورخلاصہ زیست یہی ہے کہ جب بھی وہ کوئی کام کرے تو یہ ٹھان لے کہ فلاں مطلب جس طرح بن پڑے، جس طرح حاصل ہواس میں اپنا اصل مطمحِ نظر رضائے حق ہوگا اور یہی قصد رہے گا کہ رضائے خداوندی حاصل ہونا چاہیے، چاہے خود کو کامیابی ملے یا نہ ملے، اپنی تگ و دو، نشست وبرخاست اوردوا دوِش کا پورا حاصل ’’ذوق جستجوئے رضائے یار ‘‘کے علاوہ کچھ نہیں۔

نشانِ منزل جانا ملے، ملے نہ ملے

مزے کی چیز ہے یہ ذوقِ جستجو میرا

(وحشت رضا علی کلکتوی)

            رضائے حق کوترجیح وتقدیم پرحکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ خطبات حکیم الامت جلد: ۷؍ میں’’ شرائط الطاعت‘‘ نامی خطاب میں صفحہ نمبر 465 پرسلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’ سلطان صلاح الدین نے جب ملکِ شام فتح کیا تووزرا نے عرض کیا کہ حضور نے یہاں کے لیے کوئی قانون بھی تجویز فرمایا؟ اس نے کہا کہ قانونِ شرع موجود تو ہے ، قانونِ جدید کی ضرورت کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ حضور! شریعت میں نرم سزائیں ہیں، یہ عیسائیوں کا نہایت سرکش اورفسادی فرقہ ہے۔ ان کے لیے سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔ ان پراثر نہ ہوگا اس نرم قانون کا، اس واسطے حضوراپنی رائے سے کوئی نیا قانون ان کے لیے مقررکردیں ،ورنہ یہ آیا ہوا ملک ہاتھ سے جاتا رہے گا۔

             سلطان یہ سن کر بہت برہم ہوا اور کہا کہ خلافِ خدا اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی قانون ہرگز نافذ نہیں کیا جائے گا اورتم مجھے ڈراتے ہو کہ سلطنت جاتی رہے گی تو کیا مجھے کچھ سلطنت کرنی مقصود ہے؟سو و اللہ! جو کچھ میں نے کیا ہے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا ہے، سلطنت حاصل کرنے کے شوق میں نہیں کیا، اگر خدا تعالیٰ مجھے فقروفاقہ اورذلت وگدائی کی حالت میں بھی رکھیں میں اس پربھی ویسے ہی خوش ہوں؛ جیساکہ سلطنت کی حالت میں، میں کسی حالت کو ترجیح نہیں دیتا۔ بس خدا تعالیٰ راضی رہیں، نہ مجھے پرواہ سلطنت کی ہے نہ گدائی سے عار ہے اوردائمی عاشق کا تو یہی مذہب ہوتا ہے۔ مولانا جامی فرماتے ہیں  ؎

دلارا مے کہ داری دل درو بند

و گر چشم ازہمہ عالم فرو بند

            (عاشق کا کام یہ ہے کہ محبوب کے ساتھ دل کو وابستہ رکھے اورباقی سارے عالم سے نظر ہٹا لے۔)

            حضرت عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مصلحت دید من آنست کہ یاراں ہمہ کار

بگذارند وخم طرۂ یارے گیرند

            (میں تو اسی میں مصلحت سمجھتا ہوں کہ سب کے کاموں سے نظرہٹا کرصرف محبوب کے کاموں میں لگ جاؤں) بس یہی مصلحت ہے ایک خدا کی خوشنودی کو لے کرباقی سب مصلحتوں پرخاک ڈال دو، تو طریقہ یہی ہے کہ جو کام بھی دین کا یا دنیا کا کرنا چاہو اسی طرح کرو۔‘‘ (خطبات حکیم الامت : ۷/۴۶۶-۴۶۵)

            اسی لیے مومن بندہ جو بھی عمل کرتا ہے اس میں اللہ رب العزت کی رضا جوئی اس کا مطمح نظر ہوتی ہے، نماز، روزہ، حج اورزکوٰۃ ہرعمل اللہ رب العالمین کی خاطرانجام دیتا ہے۔ {اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ} (الانعام :۱۶۲) ’’میری نماز، میری قربانی، میرا مرنا، جینا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔‘‘

            مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو بھی خداوند ذوالجلال کی مرضی تلاش کرنے کے لیے، جان فدا کرتا ہے تو کہتا ہے کہ

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

            اسی جذبۂ دینی کے پیش نظر مسلمانوں نے منقولہ وغیرہ منقولہ تمام قسم کی جائیدادیں اللہ کے راستے میں خرچ کیں اوردل کھول کرخرچ کیں۔

            یہ ملک ہندوستان میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق انڈین ریلوے اورفوج کی جائیدادوں کے بعد اللہ کے راستے میں دی ہوئی، اللہ کی ملکیت میں وقف کی ہوئی وقف بورڈ کے پاس 9 لاکھ 40 ہزارایکڑپرپھیلی ہوئی 8 لاکھ 70 ہزار وقف کی جائیدادیں موجود ہیں، جس کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ روپے ہے۔یہ اسی جذبۂ دینی کی مرہونِ منت ہے کہ دنیا سے جانا ہے تو خدا کی مرضی تلاش کر کے خدا کی راہ میں کچھ کر کے مرو، مرنا جینا تو سب اللہ ہی کے لیے ہے۔

            وقف کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے ایک موقع پرارشاد فرمایا:کہ’’ وقف مثل زکوٰۃ کے بل کہ زکوٰۃ سے بھی زیادہ خالص عبادت ہے، اوراس میں کسی خرابی کا ہونا ایسا ہے جیسے زکوٰۃ میں کسی خرابی کا ہونا، اوراس خرابی کی اصلاح کے لیے گورنمنٹ کا دخل دینا ایسا ہے جیسے زکوٰۃ کی خرابی کی اصلاح کے لیے گورنمنٹ کا دخل دینا۔ اورزکوٰۃ میں ایسا دخل دینا یقینا ’’دخل فی المذہب‘‘ ہے۔ باقی یہ سوال کہ پھر وقف کی خرابیوں کا کیا انسداد ہو؟ ایسا ہے جیسے یہ سوال کیا جائے کہ اگر کوئی شخص نمازروزہ یا زکوۃ میں کوتاہی کرے تو اس کا کیا انسداد ہے؟ کیا اس کے جواب میں کوئی شخص یہ تجویزکر سکتا ہے کہ گورنمنٹ کو اس کوتاہی پرجرمانہ وغیرہ مقرر کرنے کا حق ہے؟ ہرگز نہیں، بل کہ اس کا انتظام مسلمان بطور خود کر سکتے ہیں، خواہ اس کو افہام و تفہیم کریں، اس کو تولیت سے معزول کریں، جب کہ واقف نے ان کو اس قسم کے اختیار دیے ہوں، خواہ اس سے قطع تعلق کریں، اوراگر ایسا نہ کرے تو ان کی کوتاہی ہوگی، گورنمنٹ کو پھر بھی دخل دینے کا حق نہیں ہوگا۔‘‘(اشرف السوانح)

            اللہ رب العزت نے اپنی مرضیات کی تحصیل کے لیے مالی وبدنی دونوں طرح کے عبادتوں کی تلقین بندۂ مومن کو فرمائی ہے۔ بدنی ومالی دونوں عبادتوں کی تلقین{اَقِیْمُوْا الصَّلاَۃَ،وَآتُوا الزَّکوٰۃَ} جیسی بے شمارقرآنی آیات میں موجود ہے، صرف مالی عبادت کے لیے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کا چوتھا پارہ اس طرح شروع ہوتا ہے۔{لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}

            شاعر کہتا ہے  ؎

ہر چہ داری صرف تن درراہِ او

درلن تنالوا البر حتی تنفقوا

            انفاقِ مالی اورمالی عبادت کے ذریعے کمال درجے کی نیکی تم حاصل ہی نہیں کرسکتے، جب تک کہ تم راہِ خدا میں اپنا بہترین مال نچھاور کرنے کے لیے دل سے تیار نہ ہو جاؤ۔ انفاقِ مالی میں وہ انفاق درجے میں اورزیادہ بڑھا ہوا ہے جو صدقۂ جاریہ اوروقف جائیداد کی شکل میں ہو۔ سنن ابن ماجه میں باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم رقم الحدیث:۲۴۱؍ کے تحت یہ حدیث نقل فرمائی ہے :  ’’خیر ما یخلف الرجل من بعدہ ثلاث: ولد صالح یدعو له صدقة تجري یبلغه أجرہا وعلم یعمل به من بعدہ ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۴۱)

            اپنے مرنے کے بعد بہترین چیزیں جو آدمی چھوڑکرجاتا ہے وہ تین چیزیں ہیں: (۱) نیک صالح اولاد جو آدمی کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعاؤں کا تحفہ بھیجنے کے لیے ہمہ وقت تیاررہتی ہے۔ (۲) صدقۂ جاریہ جس کا اجر و ثواب بندے کو ملتا رہتا ہے۔ (۳) ایسا علم کتاب وغیرہ کی شکل میں چھوڑا جس پرعمل کرنے کی وجہ سے ثواب مرنے والے کو ملنا جاری رہتا ہے۔

            اس حدیث شریف کے پیشِ نظر بندۂ مومن دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے لیے اجروثواب کا ذخیرہ وقف اراضی کی شکل میں چھوڑ جاتا ہے جو اسے تسلسل و دوام کے ساتھ ملتا رہتا ہے۔

            انفاق فی سبیل اللہ اور خداوند قدوس کی مرضی کی تلاش میں جائدادوں کو وقف کرنے کا عمل خیرالقرون سے متواترومسلسل چلا آرہا ہے۔ اہلِ اسلام کا یہ عمل اوریہ جذبہ ایسا خواب ہے جو تسلسل سے پورا ہوتا آرہا ہے، کوئی ایسا خواب نہیں ہے جو ابھی وجود میں آیا ہواورملک کی زمینوں پراپنا قبضہ جمانے کے ارادے سے آیا ہو۔

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

جو آج تو ہوتے ہیں، مگر کل نہیں ہوتے

(احمد فراز )

            اسلامی تاریخ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ انفاق سنہرے حروف سے لکھا ہوا ہے کہ جب رسولِ کائنات، سر تاجِ دو جہاں کی طرف سے راہِ حق میں مال لٹانے کی ترغیب آئی تو اپنا کل اثاثہ لے کر حاضرِ دربارِ رسالت ہوئے، سرکارِ دو جہاں کی طرف سے پوچھے جانے پرکہ گھرکیا چھوڑا؟ تو جواب دیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اوراس کے رسول کافی ہیں ۔

بولے حضور کہ چاہیے فکرِ عیال بھی

کہنے لگا وہ عشق ومحبت کا رازدار

پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے خدا کا رسول بس

(اقبال )

            ادھر خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کرداروعمل اوقاف وانفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں دیکھتے چلیے، آپ کو خیبر میں ایک زمین ملی، زمین واقعتا بڑی مہنگی اورقیمتی تھی، آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا کہ بڑی قیمتی زمین ہاتھ آئی ہے، اس کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر چاہو تو اصل زمین کو روک دو، اوراس کی پیداوارکو صدقہ کردو‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ زمین وقف کر دی۔

            یہ اللہ کے رسول کا فرمان اورانفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کا عمل دیکھیے اورخیر القرون میں یہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خداکی راہ میں زمین کووقف کرنا دیکھ لیجیے کہ یہ دینی عمل ہے یا کچھ اورخدا کوراضی کرنے کے لیے ہے یا کسی اوردنیوی جذبے سے!

            آج فرزندانِ زمانہ کتنی دیدہ دلیری اور بے خوفی سے کہتے جا رہے ہیں اورعدالتوں میں کہتے ہیں کہ ’’وقف کوئی مذہبی عمل نہیں۔‘‘ اگرجہالت ونادانی، اس درجے ہٹ دھرمی کی منزل میں داخل ہو جائے گی تو ملک و قوم کی حفاظت کا مسئلہ بڑا مشکل ہو جائے گا۔

            انفاق فی سبیل اللہ مذہبِ اسلام کا ایسا جزء لا ینفک رہا ہے، جس پرعمل اسلام کی ابتدائی تاریخ سے جاری ہے۔

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

(کلیم عاجز ٹینوی )

            انفاق فی سبیل اللہ اورجائیداد کو وقف کرنے کے عمل کا سفر قرونِ مشہود لہا بالخیر سے لے کراب تک جاری ہے اورنزولِ عیسیٰ اوراختتامِ جہاں تک ان شاء اللہ جاری رہے گا۔

گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہر وو!

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر

            خلیفۂ ثالث حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کا عمل بھی جائیداد کو وقف کرنے میں ہمارے لیے مشعلِ راہ اوردین کا جزء لا ینفک بتانے کے لیے کافی ہے۔ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے لیے میٹھے پانی کی بڑی پریشانی تھی، صرف ایک کنواں ایسا تھا کہ جس کا پانی شیریں تھا، لیکن وہ کنواں ایک یہودی کا تھا، وہ یہودی پانی کوفروخت کرتا تھا، وہ زمانۂ فراوانی اورخوش عیشی کا زمانہ نہ تھا، عسرت وہ تنگ دامانی کا زمانہ تھا، ہر کسی کے بس میں نہ تھا کہ خرید کر میٹھا پانی فراہم کر لے اورنوشِ جاں کرلے، ایک دن حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

            ’’ جو شخص بیئر رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردے اس کے لیے جنت ہے۔‘‘

            حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے سنا، اللہ تعالیٰ نے مال کی فراوانی عطا فرمائی تھی اورسخی دل سے نوازا تھا، فوراً وہ میٹھا کنواں خرید کرمسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔

            جنت کی بشارت مذہبی عمل پرملتی ہے۔ دینِ اسلام کا یہ اٹوٹ حصہ ہے، انفاقِ مال میں زکوٰۃ کا حکم ایسا ہے کہ اگر کوئی اس کو دینے سے رکا تو اسلام کے جیالوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں علَمِ جہاد بلند کیا۔ اس لیے زمانے کے افراد کو آج بھی یہ ذہن صاف کرلینا چاہیے کہ اوقاف مسلمانوں کا خالص دینی و مذہبی معاملہ ہے اوراس میں دخل اندازی خدا کے دین میں دخل اندازی کے مترادف ہے اور اس طرح خدا سے براہِ راست اعلانِ جنگ کا دعویٰ ہے، مسلمان رضائے الٰہی کو اپنی ہرچیزپرمقدم رکھتا ہے۔

             لوگو! یہ تمہاری مملکت خدا کی مملکت ہے جب چاہے تم سے لے کر دوسروں کو سونپ دے، تم تو ملک کیا اپنی ذات اوراپنے سائے کے بھی مالک نہیں ہو۔    ؎

میرا سایہ میرے بس میں نہیں ہے

مگردنیا پہ دعویٰ کررہا ہوں

اور دیکھیے ذرا حال یہ ہے کہ   ؎

ڈبو کے سارے سفینے قریب ساحل کے

ہے ان کو پھر بھی یہ دعویٰ کہ نا خدا ہم ہیں

            یہی عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفۂ ثالث اورمسلمانوں کے امیر ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ تبوک کی تیاری کا حکم دیا، جس میں مال کی اشد ضرورت تھی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے تین سواونٹ اور ایک ہزاردیناراوردیگر ضروری اشیا جنگِ تبوک کے لیے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں لا کر پیش کردی، جس کی قیمت موجودہ زمانے میں پانچ کروڑ سے بھی زیادہ پہنچتی ہے۔

            یہی وہ انفاق فی سبیل اللہ اورجائیداد کو اللہ کے نام کرنا ہے جو خیر القرون سے چلا آ رہا ہے، جب 1400 سال سے اس پرعمل ہوتا چلا آ رہا ہے، تو ظاہر ہے دنیا کے ہرگوشے، ہرعلاقے اورکہنا چاہیے کہ کائنات کے چپے چپے میں خدا کی زمین، خدا کا مال علامتی طورپردوسروں کی ملکیت سے نکال کرحقیقی طورپرخدائی ملکیت میں دینے کا رواج چل رہا ہے، اس عقیدہ وعمل پربندش لگانے کی کوشش سعیٔ لاحاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ اسلام کو دبائیں تو وہ اور زیادہ ابھرتا ہے   ؎

اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبادیں گے

(صفی لکھنوی)

            لہٰذا اگرآج انسانیت کے دائرے میں آنا ہے تو اللہ کے حکموں کو ماننا چاہیے، انسانیت سے بڑھ کراللہ کا حکم ہے اللہ کے حکموں کو ماننے سے ہی انسانیت آتی ہے، اس میں سعی وکوشش اورمحنت کی زیادتی درکار ہے، اپنی جدوجہد کو خدا کی مساجد اوقاف کی چھینا جھپٹی اوردوسروں کی زمینوں کی لوٹ مارپرخرچ کرنے کے بجائے کچھ زیادہ محنت کر کے انسانیت اورانسان بننے میں لگانا چاہیے۔ خواجہ الطاف حسین حالیؔ ؒ کیا خوب کہہ کرچلے گئے   ؎ 

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

            خیر القرون میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بھی آتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ نے تو سات سواونٹوں سے لدا ہوا پورا قافلہ مع سازوسامان اللہ کی راہ میں وقف کردیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خوبصورت اورگراں قدر باغ کووقف کردیا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی اوقاف میں سے کسی سے پیچھے نہ رہے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو اپنا ایک باغ حد درجے محبوب تھا،{ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} والی آیت اتری کہ تم اپنی پسندیدہ ترین چیز کو اللہ کی راہ میں دے کرہی اصل نیکی پا سکتے ہو، توانہوں نے فوراً اپنا باغ راہِ خدا میں وقف کردیا۔ زمانہ تو اب سمیٹنے کے چکر میں اور جمع کرنے کے فراق میں بے چین ہے اور ہمارے اسلاف خرچ کرنے کی راہ سے دل میں راہ بناتے تھے ۔

تم زمانے کی راہ سے آئے

ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

            اللہ سے دعا ہے کہ ہماری نیکیاں قبول فرمائے اورجنت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

24 ذیقعدہ 1446 ہجری-23 مئی 2025ء ،  بروز جمعہ بوقت: 10 بجے صبح تقریباً۔