حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ
۱ ۔ایمان وعمل صالح
دینداری کا جذبہ انسان کی ایک طبعی تحریک ہے، جس طرح انسان اپنے جسم کی تربیت اوراس کے دوام وبقا کے متعلق طبیعی طورپرچند ’’ضرورتوں‘‘ کا احساس کرتا ہے، اسی طرح یہ بھی اس کا طبیعی وجدان ہے کہ اس کائنات سے بالاترایک قوت موجود ہے، جس کی قدرت وطاقت کے سامنے کائنات کی تمام قوتیں سرنگوں ہیں۔ گردو پیش کی موجودات، ان کے باہمی ربط، اور خاصیتوں کو دیکھ کراپنے اپنےعلم وشعور کے مطابق انسانوں کو یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ طاقت محض ایک بے علم بے ارادہ قوت ہی نہیں ہے، بل کہ علم وحکمت، ارادہ واختیار اورتصرف کی صفات کی بھی مالک ہے، جس نے اشیاء اوران کی خاصیتوں کے درمیان، اسباب اوران کے نتائج کے درمیان ربط قائم کیا ہے اورایک ایسے حکیمانہ طریقہ پرموجودات کوایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا ہے جوانسانی عقل وشعور کے لیے ہمیشہ حیرت اور تعجب کا سبب رہا ہے۔
تدیُّن کے محرکات:
ایک علیم وحکیم، قادروتوانا، صاحبِ ارادہ اورفاعلِ مختار ہستی کے متعلق انسان کے اس شعور ووِجدان ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ جب بھی وہ کائنات کی قوتوں کے سامنے اپنی بے بسی کو محسوس کرتا ہے یا سلسلۂ اسباب وروابط کے مقابلہ میں خود کو عاجز ومجبور پاتا ہے اورخود اس کی اپنی ہستی خطرات میں گھرجاتی ہے تو اس کی غفلتوں کے وہ تمام پردے اُٹھ جاتے ہیں جو نفسانی خواہشات اورجسمانی ضرورتوں کے تقاضوں نے اس کے اس فطری وجدان پرڈال دیئے تھے، وہ ان خوفناک قوتوں کے مقابلہ میں اپنے وجود وبقا کے لیے اُسی قادروتوانا ذات کی طرف متوجہ ہوجاتاہے، اُس کے سامنے اپنی مجبوری وعاجزی کا اظہار کرتاہے اوراسی کواپنی مدد کے لیے پکارتا ہے۔ قرآن حکیم نے اسی فطرتِ انسانی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاہے:
’’جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اوروہ خوشگوارہوا کے جھونکوں کے ساتھ لوگوں کولے کر چلتی ہیں اوروہ اس پرخوش ہوجاتے ہیں تو اچانک تیزوتند ہوائیں ان کشتیوں کوگھیر لیتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ہرطرف سے سمندر کی موجیں بھی اُن کو گھیر لیتی ہیں اور وہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ اب وہ گھر گئے تو ’’اللہ‘‘ کو پکارتے ہیں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے کہ اے اللہ! اگراس مصیبت سے آپ نے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر گزار بندوں میں شامل ہوجائیں گے۔‘‘ (سورۂ یونس:۲۲)
دینداری کی اس طبعی تحریک نے ایک طرف کبھی انسان کو نہروں، پہاڑوں، دریاؤں اوردرختوں کے سامنے سرجھکانے کی طرف مائل کیا اور کبھی حیوانات کی طرف اور کبھی غیر معمولی طاقتوں کے مالک انسانوں اور ارواح میں اس قدرتِ مطلق کی جستجو کے لیے اُبھارا، جس کو وہ اپنا اوراپنے گرد وپیش کی چیزوں کا خالق ومربی سمجھتا تھا۔ دوسری طرف مذاہب اس کو خدا، رسول، آسمانی کتابوں پرایمان لانے کی دعوت دیتے رہے، روزِ حساب، جزا وسزا اور موت کے بعد کی زندگی کا یقین دلاتے رہے، لیکن انسانیت اپنے تاریک دوروں میں عقل وتجربہ کی انہی متضاد راہوں میں بھٹکتی رہی جو ہردورمیں اپنی سمت بدل لیتی تھیں۔
ایک طرف انسان تجربہ اور مشاہدہ کے تحت بدلتے ہوئے نظریات اورنتائج کے درمیان اپنے علم وعمل کی راہ بنانے کی کوشش کررہا تھا اوردوسری طرف نام نہاد مذہبی نمائندوں نے اس کے گرد خود ساختہ آہنی دیواریں قائم کردی تھیں۔ جسمانی ضروریات اورخواہشات کی تنظیم کے نام پر صرف حکومت اورسیاست ہی نے اس کی مادی زندگی کی آزادیوں کو نہیں چھینا، بلکہ مذہب کے جھوٹے دعویداروں نے بھی انسان اوراس کی وِجدانی حقیقت یعنی بندے اوراس کے معبود کے درمیان مداخلت جاری رکھی۔ وہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایسے واسطہ بن بیٹھے، جو چاہتے تو لوگوں کے لیے خدا کی طرف لوٹنے کا دروازہ کھولتے اورچاہتے تو اس وقت تک اس دروازہ کو بند رکھتے جب تک وہ خدا تک پہنچانے کی قیمت وصول نہ کرلیں۔
دینی وفکری آزادی:
اسلام نے انسان کی اس کھوئی ہوئی آزادی کوواپس دلایا۔ بدلتے ہوئے نظریات اورغیریقینی نتیجوں کی بھول بھلیاں سے اُسے نکالا۔ مذہبی توہمات اورمذہبی اجارہ داروں کی خودساختہ اِجارہ داری کو ختم کیا۔ خدا اور بندوں کے درمیان اِن جھوٹے واسطوں کو رد کیا، اس نے انسانیت کو ایک صاف ستھرے اور روشن علم ویقین کا سرمایہ دیا، اس نے صاف صاف اس حقیقت کا اعلان کیا:خدا اپنے بندوں سے قریب ہے، وہ پکارنے والوں کی پکار سنتا ہے، اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے، اوران کی لغزشوں سے درگزر کرتاہے۔ گناہوں سے توبہ اورعبادت کی قبولیت کے لیے کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہے۔
اس عقیدہ ویقین نے انسان کی عزت وشرف کی حفاظت کی اوراس کوغیراللہ کے سامنے بندگی وعاجزی سے بچایا، اس کی عقل وفکر کو بلند اور روشن کیا، اورعمل کے لیے علم ویقین کی مضبوط بنیادیں قائم کیں۔ اس کے مستقبل کے لیے امید وآرزو کے دروازے کھلے۔
اسلام نے بتلایا کہ آخری اور واقعی حقیقت پرایمان اوراس کے صحیح علم ویقین ہی پر صحیح عمل کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں اورصحیح عمل ہی پرانسان کی عظمت وکرامت اوراس کی زندگی کی کامیابی اوراس کے مستقبل کی فلاح موقوف ہے۔ یہ ایمان یا علمِ صحیح ‘عقل وشعور کی تجربہ گاہوں کی پیداوار نہیں، اس کا سرچشمہ اس خالقِ کائنات کی آسمانی تعلیم ہے ،جس نے کائنات کو لامحدود اَسرار کا خزانہ بنایا ہے۔ تجربات ومشاہداتِ عقل کا وہ طویل سفر جو انسان نے زمانہ کے ساتھ طے کیا ہے اوران تجربوں کے ناپائیدار نتیجے، نورِ یقین سے محروم، عقل وفکر کی نامرادی کا سب سے زیادہ روشن ثبوت ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
’’زمانہ کی قسم! انسان خسارہ ہی میں رہا ہے، بجز ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان قبول کیا اور(ایمانی تقاضے کے مطابق)نیک کام کیے۔‘‘ (سورۂ عصر)
ایمان وعمل کے متعلق اسلام کے ان عقیدوں نے صرف مسلمانوں ہی کو متاثر نہیں کیا، مجموعی طور پر پورا انسانی ذہن وفکر ان سے متاثر ہوا۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں نے بھی اپنے بہت سے مذہبی توہمات، مذہبی اجارہ داروں کی گرفت، راہبوں، پاپاؤں اور اوتاروں کی غلامی سے آزادی حاصل کی، اس طرح علم اور یقینِ محکم کی روشنی میں انسانی فکر وعمل کی ترقی کے لیے نئی اور کشادہ راہیں پیدا ہوئیں۔
۲۔توحید ومساوات
عمل کا مدار اورمرکزیت:
انسانی افراد اورجماعتوں کی نفسیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی اعمال کے صدور کا مدار قوتِ اِرادی پرہوتاہے اوراِرادہ بہت بڑی حد تک عقل کے تابع ہے۔ جب عقل کسی چیز کو قبول کر لیتی ہے اوراس کو یقین حاصل ہوجاتاہے تو انسان کا ارادہ اس چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ یقین ہی دراصل وہ تحریکِ عمل ہے جس کی وجہ سے عمل ظہور میں آتا ہے اور کسی چیز کو موجود یا باقی رکھتاہے۔
عمل کے مفید اورنتیجہ بخش ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یقین میں مرکزیت اوراس کے نتیجہ میں اعمال کے اندر یکسانیت موجود ہو، یقین کی لامرکزیت اوراعمال کے انتشار کی صورت میں زندگی کے اندر تنظیم ہرگز پیدا نہیں ہوتی، نہ اعمال کے پائیداراورمؤثر نتائج مرتب ہوتے ہیں اور نہ زندگی کی آسائشوں سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔
طبیعت اوراس کے تقاضے چوں کہ وقت، جگہ اورحالات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے طبیعی تقاضے نہ انفرادی عمل میں مرکزیت اوریکسانیت پیدا کرسکتے ہیں اور نہ اجتماعی اعمال میں تنظیم پیدا کرسکتے ہیں۔فرد اور جماعتوں کے اعمال میں اسی مرکزیت کو پیدا کرنے کے لیے اسلام نے انسان کو توحید کا عقیدہ دیا ہے۔ توحید سے ایمان ویقین میں مرکزیت پیدا ہوتی ہے اور یہ مرکزیت ہی اس کے اعمال میں تنظیم، یک جہتی اوریکسانیت کا سبب بنتی ہے۔
توحید:
توحید کا عقیدہ اگرچہ آسمانی مذاہب کا ایک مشترک عقیدہ تھا، لیکن ان مذاہب کی پیروی کرنے والوں کے ذہن میں اس عقیدہ نے عجیب وغریب اورمتضاد شکلیں اختیار کرلی تھیں۔ توحید کی تفسیروتشریح کرتے ہوئے کبھی اُس ایک ذات کو تمام صفات سے خالی اورمعرا ومعطل بتایاگیا اورکبھی اس کی صفات کو یا اُن صفات کی صورتِ ظہور کومستقل آلہہ (معبود)بنادیا گیا۔ کبھی اس ایک ذات کو متعدد اجزاء وحصص میں تقسیم کردیاگیا اورکبھی متعدد حصص واجزاء کو ملا کرایک مرکب ذات تیار کی گئی جو کبھی باپ، ماں اوربیٹا قرار دی گئی اورکبھی باپ، بیٹا اورروح القدس۔ خاتمِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام نے ’’عقیدۂ توحید‘‘ کو توحید کی ان پریشان تعبیروں سے یکسر پاک کیا اور انسانی ذہن سے وہ تمام توہمات دور کیے جو اہلِ مذاہب کے روحانی علماء اورمذہبی پیشواؤں نے پیدا کردیئے تھے، قرآن نے اعلان کیا کہ:
’’اللہ کی جامع الصفات ذات ایک(اور اکیلی) ہے، اللہ کی ذات ہرچیز سے بے نیاز ہے، نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوئی، اورنہ ہی اس کا کوئی ہمسرہے۔‘‘(سورۂ اِخلاص)
یہی توحیدِ خالص،درحقیقت انسانی اعمال کی بنیاد بن سکتی ہے اوریہی اس کی موت اورزندگی کا نصب العین۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے:
’’آپ اعلان کر دیجئے کہ میری نماز اورمیری عبادت، میرا جینا اورمیرا مرنا صرف اللہ ہی کے لیے ہے جوسارے جہانوں کا مالک اور پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا حکم مجھے دیاگیا ہے اورمیں سب سے پہلا سرجھکانے والا یعنی مسلمان ہوں۔‘‘(سورۃ الانعام :۱۶۱،۱۶۲)
اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرتے ہوئے قرآن کریم کا فرمان ہے:
’’میں نے اپنا رخ ٹھیک ٹھیک اس ذات کی طرف پھیرلیا ہے، جس نے آسمانوں اورزمین کو پیدا کیا ہے، میں کسی طرح بھی مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘
اسلامی عقیدۂ توحید کا مفہوم صرف یہی نہیں ہے کہ اللہ کی ایک اوراکیلی ذات کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، بل کہ اس عقیدہ کا مقصد یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا ئے نفع اورنقصان پہنچانے کی طاقت بھی کسی کوحاصل نہیں ہے۔ عزت وعظمت، دولت وحکومت، موت وزندگی اورنفع وضررکی مالک بھی وہی ایک ذات ہے۔
مساوات:نوعِ انسانی کے درمیان اعتقادی وحدت اورمرکزیت پیدا کرنے کے ساتھ ہی اسلام نے ان میں حقوق کی یکسانیت اورمساوات کے اعلان کے ذریعہ جماعتی تنظیم اوریک جہتی کی بنیاد بھی قائم کی، تاکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ مذہبی رہنماؤں اورحکمرانوں نے جو مادی قوت واختیار کے مالک ہوتے تھے، نوعِ انسانی کو مختلف طبقات اورگروہوں میں تقسیم کردیا تھا۔ رنگ، نسل اورخون کے فرق پراُن کے حقوق تقسیم کر دیئے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ رنگ ونسل کی وجہ سے خود کو خدا کی طرف سے قوت وحکومت کا مالک سمجھتا تھا اوردوسرے لوگ اس کی غلامی ومحکومی کی مبارک میراث کے نسلی طور پروارث چلے آتے تھے۔ مذہبی رہنما مذہبی احکام کے مالک سمجھے جاتے تھے، اپنی خواہش سے جس چیز کو چاہتے حلال کرتے اور جس کو چاہتے حرام قرار دے دیتے، اوراپنی مرضی سے خدا کے غضب اوررضامندی کو تقسیم کرتے رہتے تھے۔ اسلام نے اس فکری اورعملی شرک کا خاتمہ کیا، اس نے انسانوں کے درمیان مساوات کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی کہ:
’’اے انسانو! ہم نے تم کو مرد اورعورت سے پیدا کیا اورتم کوصرف اس لیے قبیلہ اورگروہوں میں بنایاہے، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، تم میں سے زیادہ شریف اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔‘‘ (حجرات :۱۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا: ’’لوگو! تمہارا پروردگار بھی ایک ہے اورتمہارا (پہلا) باپ بھی ایک ہے۔ تم سب آدم کی نسل سے ہواورآدم مٹی سے بنا ہے۔ کسی بھی عربی کوعجمی پرفضیلت نہیں ہے، ہاں! پرہیزگاری کی وجہ سے فضیلت ہے، (جو جتنا زیادہ پرہیزگارہے اتنا ہی افضل ہے)۔‘‘(کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال:جـ:۲ص:۴۲)
ایک اورموقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’انسان کنگھی کے دانتوں کی طرح سب برابر ہیں۔‘‘(کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال:ج:۹ص:۳۸،الباب الثانی فی آداب الصحبة۔۔۔،محظورات الصحبة،مؤسسه الرساله)
انسانی حقوق کی اس مساوات نے جو’’ایک پروردگار‘‘ کی مخلوق اور’’ایک باپ کی‘‘ نسل ہونے کے عقیدہ کا نتیجہ تھی، انسانوں کے درمیان ربط اورتعلق کوزیادہ مستحکم اورمساوی بنیادوں پرقائم کیا اوران کے فرائض وواجبات میں یکسانیت پیدا کرکے ان میں ایک محکم وحدت ومرکزیت اورتنظیم قائم کی۔
مساواتِ حقوق کے نتائج:
عقیدۂ توحید اورفرائض وحقوق کی تحدید ومساوات نے انسانی عظمت ورفعت تک پہنچنے کے لیے راہ ہموارکردی۔ نسلی اورطبقاتی تقسیموں کو مٹاکر روحانی اورعملی قدروں کوعزت وشرف کا معیار ٹھہرایا، اورکسی امتیاز کے بغیرہرفرد کے دل میں اس کمالِ انسانی کو حاصل کرنے کی تحریک اورعزم وولولہ پیدا کردیا، جو انسانی زندگی اوراس کی جد وجہد کا حقیقی نصب العین ہے۔ اسلام کے اعلان کیے ہوئے اس عقیدہ نے کہ: ’’حکم خدا کے سوا کسی کا نہیں ہے،اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو۔‘‘ ایک طرف حکومت اورقانون پرانسانوں کے غیر مسئول اختیار کومحدود کیا اوردوسری طرف مذہبی علما سے حلال وحرام کے اختیار کوچھین کران کواللہ اوررسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے احکام کا محض مبلغ اورشارح قراردیا۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اسلام کے سب سے پہلے خلیفہ نے حکومت کا اختیارسنبھالنے کے بعد ہی اعلان کیاکہ:
’’مجھے تم پروالی بنایاگیا ہے، مگر میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگرمیں اچھے کام کروں توتم میری مدد کرو اوراگر برے کام کروں تو مجھے راہِ راست پرلاؤ۔‘‘ (کنز العمال:ج:۵ص:۶۰۱)
اوراسی کا نتیجہ تھا کہ اللہ کی کتاب اوررسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ارشادات سے احکام کی تشریح کرنے والوں نے مذہبی احکام کی تعبیر وتشریح کے سلسلہ میں اپنے کسی شخصی اختیار کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ علمِ کتاب وسنت اوراستخراجِ احکام واجتہاد کے باوجود ان کا یہ عقیدہ تھا کہ احکام کی تفصیل وتشریح میں غلطی ناممکن نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے علم اورجد وجہد کا تعلق ہے وہ صحیح نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان اجتہادی وتشریحی مسائل کو کتاب وسنت کے صریح احکام کی سی قطعیت حاصل نہیں ہے۔اسلامی توحید ومساوات کی یہ واضح شاہراہ تھی، جس نے نہ صرف مسلمانوں بل کہ روئے زمین کے انسانوں کواس تنگ دائرہ سے نجات دی، جومذہب وحکومت کی جابرقوتوں نے ان کے گرد قائم کردیا تھا۔ اس شاہراہ پرچل کرنہ صرف مسلمانوں نے دنیا کی نئی اورترقی پذیرتنظیم قائم کی، بلکہ دنیا کی تمام قوموں اورآنے والی نسلوں کے لیے کمال اورترقی تک پہنچنے کی راہیں کھول دیں۔
کیا یہ وحدتِ یقین اورعملی مساوات کی مرکزیت آج بھی نوعِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ نہیں ہے؟ قوموں کے باہمی تعاون اوربقائے باہمی کے لیے کیا اس سے زیادہ بہتراورپائیدارکوئی اوربنیاد ہوسکتی ہے؟
۳۔حریت واستقلال
انسانی آزادی اوراس کی حدود:
حریت واستقلال یعنی انسانی آزادی اوراس کے مستقل ہونے پردوحیثیتوں سے بحث کی جاتی ہے: ایک انسان کے ارادہ اورفعل کی آزادی، یعنی یہ کہ انسان اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے آزاد اورمختارپیدا کیا گیا ہے یا وہ کسی بالا ترطاقت اوراس کی قدرت کے تحت اپنے ارادہ وافعال میں مسلوب الاختیار اورمجبورِمحض ہے۔ علوم وفنون کی اصطلاح میں یہ بحث مسئلہ ’’تقدیر‘‘ یا ’’جبر واختیار‘‘ کی بحث کہی جاتی ہے اورعلمِ عقائد وکلام کی مشکل ترین بحثوں میں شمارکی جاتی ہے۔ اس مسئلہ میں اسلام کا نقطۂ نظر بالکل واضح ہے۔ قرآنِ حکیم اوراحادیثِ نبویہ میں صاف طورپراعلان کیاگیاہے: اللہ تعالیٰ ہرچیزپرقادرومختارِ مطلق ہے، انسانی ارادہ اورافعال بھی اسی کی قدرت کے تحت داخل اوراسی کی مشیت کے تابع ہیں۔ کوئی چیزاللہ کی مشیت کے بغیرحرکت نہیں کرسکتی، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انسان بھی نباتات وجمادات اوردوسری بے جان چیزوں کی طرح بے اختیارومجبورِ محض ہے، بلکہ ایک محدود دائرہ میں جو ’’اختیار‘‘ اس کو دیاگیاہے اس میں اورجتنی قوتیں اس کو دی گئی ہیں ان کے استعمال میں کوئی مداخلت عموماً نہیں ہوتی۔ خیروشراورطاعت ومعصیت کی دوراہوں میں سے جب وہ کسی ایک راہ کو-خواہ خیر ہوخواہ شر- اپنی خواہش وارادہ کے تحت اختیار کرلیتاہے تواس کی قدرت اس کو دے دی جاتی ہے اوراسباب اس کےارادہ کے موافق کر دیئے جاتے ہیں اوراس کےمطابق افعال اس سے سرزد ہوتے ہیں اوراسی اختیار پردنیوی واُخروی جزا وسزا کا مدار ہے۔
غرض انسان کی اسی محدود آزادی اوردیئے ہوئے اختیارپراس کی تمام ذمہ داریاں موقوف ہیں۔ اسی دائرہ میں اس کی آزمائش ہوتی ہے، اس پرذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں، مکلف بنایاجاتاہے اوراس سے مطالبات کیے جاتے ہیں۔ اسی محدود اختیاروارادہ کی وجہ سے اس کی ہدایت ورہنمائی کے لیے دین وشریعت، کتابیں اورپیغمبر بھیجے گئے ہیں۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ:
’’اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰه سَمِیْعًا بَصِیْرًا اِنَّا ہَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا‘‘۔(سورۃ الانسان:۲)
’’ہم نے انسان کوایک مخلوط (اور مرد وعورت کے مرکب) پانی سے پیدا کیا، تاکہ ہم اس کوآزمائیں (اسی لیے) ہم نے اس کو سننے اوردیکھنے (سوچنے اور سمجھنے) والا بنایا، ہم ہی نے اس کوراستہ دکھایا، اب وہ شکرگزار بنے چاہے ناشکرا۔‘‘
اور فرمایا: ’’اَلَمْ نَجْعَلْ لَّه‘ عَیْنَیْنِ وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ وَہَدَیْنٰه‘ النَّجْدَیْنِ ۔‘‘(سورۃ البلد:۸)
’’کیا ہم نے اس کے دوآنکھیں (ایک) زبان اوردوہونٹ نہیں بنائے؟ اورہم نے اس کو دونوں کھلے ہوئے راستے (اچھائی اوربرائی) بتلادیئے۔‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’وَنَفْسٍ وَّمَاسَوّٰہَافَاَلْہَمَہَافُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا‘‘۔(سورۃ الشمس:۷)
’’ نفس انسانی کی قسم اوراس کو ٹھیک ٹھیک (موزوں) بنانے کی قسم! پھراس کواس کی بدکاری اورپرہیزگاری سمجھادی۔‘‘
غرض اپنی فطری قوتوں کے لحاظ سے انسان کی اسی محدود آزادی اوراختیار پردین، شریعت اورقانون کی ذمہ داری اورجزا وسزا کا مدار ہے۔ اس کی ارادی اوراختیاری زندگی کا تمام ڈھانچہ ’’اسی حریت‘‘ اور’’استقلال‘‘ کی بنیادوں پرقائم ہے۔ حریت اوراستقلال کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ فرد کی شہری یا جماعتی آزادی کی حدیں کیا ہیں؟ جماعت کوافراد پرکس حد تک اختیار حاصل ہے؟ اورافراد اپنے افعال میں کس حد تک آزاد ومختار ہیں؟ اس لحاظ سے سوال علم الاجتماع اورعلم السیاست کا ایک علمی وعملی مسئلہ بن جاتاہے اورنئے دور کے تمام نزاعی مسائل پراس کا بڑا گہرا اثر ہے۔
تاریخی سوال:
انسان کی مجلس اورسیاسی آزادی کی یہ بحث کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اتناہی پرانا سوال ہے جتنی کہ انسان کی تمدنی اوراجتماعی تاریخ قدیم ہے۔ انسان اپنی نفسیاتی اورطبعی ساخت اورضروریات کی وجہ سے اپنی نوع کے بہت سے افراد کے ساتھ مل کررہنے پرمجبور ہے۔ یہ ’’ضرورت‘‘ ایک ایسے نظام کی محتاج ہے، جس میں افراد کی عملی حدیں مقررہوں اورایک ایسی قوت بھی موجود ہو، جو افراد کوان مقررہ حدوں سے نہ گزرنے دے۔
آزادی اوراقتدار کی یہ کش مکش ہی دراصل اس اہم سوال کا منشا ہے کہ فرد اورجماعت کے باہمی تعلقات کن خطوط پر قائم ہوں۔ افراد کے حقوق اورجماعتی اختیار کی حدیں کیا مقرر کی جائیں؟ انسانی تمدن واجتماع کی تاریخ قدیم ترین زمانہ سے انہیں منصفانہ حدود کو تلاش کررہی ہے۔ کبھی حکمراں قوت کو اختیارات کا سرچشمہ سمجھ کر افرادکو اس کے ظلم اورزیادتی سے بچانے کے لیے افراد کے حقوق مقرر کیے جاتے ہیں اور کبھی افراد یعنی جمہور کو اختیارات کا مالک بناکر حکمراں طاقت کی نوعیت، تنظیم اورساخت اوراس کے اختیارات کی صورتیں اورحدیں مقرر کی جاتی ہیں۔ انہیں تجربات نے انسان کو ’’حکومتِ خود اختیاری‘‘ کے نظریہ تک پہنچایا ہے، یعنی افراد کی اپنی مرضی سے خود اپنے اوپرحکومت۔
حدود وحقوق کا تحفظ:
اس نظریہ کے تحت افراد اور حکومت یا جماعت کے درمیان حد بندی کے مسئلہ کو ختم ہوجانا چاہیے تھا، لیکن یہ تجربہ بھی اس مشکل کا حل تلاش نہ کرسکا۔ اختیارات کواستعمال کرنے والے ادارے اورزیرِاختیارافراد کے مفاد چوں کہ ہمیشہ متصادم ہوتے ہیں، اس لیے افراد کی آزادی اورحقوق کا مسئلہ پھرکھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ حکمراں اکثریت اوراقلیت کا سوال بھی سامنے آتاہے۔ اکثریت کی صرف عملی زیادتیوں کے خلاف ہی نہیں، اس کے ذہنی اور فکری استبداد کے خلاف بھی تحفظ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جیساکہ دنیا کے متعدد حصوں میں آج یہ ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ آج بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ انفرادی آزادی اورجماعت کے اختیارات کے درمیان کس طرح مطابقت پیدا کی جائے؟ اورکہاں ان کی حدیں مقررکی جائیں؟ اورکمزورلوگوں کو کس طرح طاقتور لوگوں کے سیاسی اورفکری استبداد سے محفوظ رکھا جائے؟
ان مشکلات کے حل کے لیے ’’نئے مفکرین‘‘ اس بات پرزوردیتے ہیں کہ لوگوں کے افعال پرچند قواعد وضوابط کے ذریعہ پابندیاں عائد کرنا ضروری ہے۔ یہ قواعد وضوابط قانون کے تحت اوررائے عامہ کے ذریعہ بنائے جائیں۔ بالفاظِ دیگرچند بنیادی اصول کے ذریعہ افراد کے فکراورعمل کو ایک خاص رخ پرموڑنا اورقانون یا رائے عامہ کے ذریعہ ان پرپابندیاں عائد کرنا اجتماع اورنظم کی بنیادی ضرورت ہے اورافراد کی آزادی اورجماعت یا حکومت کے اختیارات کے درمیان حدیں قائم کرنے کے لیے یہی رہنما اصول ہے۔
یہ بنیادی اصول کیوں کروضع کیے جائیں؟ ان کی نوعیت کیا ہو؟ شخصی اورطبقاتی رائے، جذبات وخواہشات، پسندناپسند اوران مقامی رسم ورواج سے بلند ہوکر (جو لوگوں کی فطرتِ ثانیہ بن جاتے ہیں) محض عادلانہ انسانی منافع اور منصفانہ مصالح کو ان اصول میں کس طرح پیش نظررکھا جائے؟ کون ان کو وضع کرے؟ اور ’’حکمراں ادارہ‘‘ کی تشکیل سے پہلے کونسی قوت ان کو عمل میں لائے؟ ان سوالات کاکوئی محفوظ اورقابلِ اطمینان حل ابھی تک دریافت نہیں کیا جاسکا۔
اسلامی حل:
اسلام نے اجتماعِ انسانی کی اس مشکل کو نہایت حکیمانہ انداز میں حل کیا ہے۔ اس نے افراد کے اس حق کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ خود اپنی پسند سے اپنی فکری اورعملی رہنمائی کے لیے بنیادی اصول مقررکریں یا خود اپنی آزاد مرضی سے جس طرح چاہیں اپنے اوپرحکومت قائم کریں اورجہاں چاہیں فرد اورجماعت کے باہمی تعلق کی حدیں قائم کریں، اس لیے کہ انسان اپنی ذاتیات سے الگ نہیں ہوسکتا۔ اپنی پسند، اپنی شخصیت اورگردوپیش کے اثرات سے آزاد نہیں ہوسکتا۔ اپنی اصل فطرت کے تنوع کے لحاظ سے بھی اور شخصی خواہشات ومفادات کے اختلاف وتضاد کی بنا پر بھی وہ ایسے اصول وضع کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ موزوں نہیں ہے، جو پوری انسانی وحدت کے لیے یکساں فائدہ مندہوں، بل کہ یہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے کہ اپنی شخصیت سے کبھی الگ نہیں ہوسکتا۔اسلام نے انسانی اجتماع کے لیے چند بنیادی اصول ’’مالک الملک‘‘ اور ’’احکم الحاکمین‘‘ کے بتلائے ہوئے مقرر کیے جوان تمام نقائص سے پاک وبرتر ہیں۔ اسی خالقِ کائنات کی رہنمائی سے افراد کے فکروعمل کی سمتیں مقرر کیں۔ ایمان ویقین کی قوت کوان اصول اورپابندیوں کا نگران بنایا۔ افراد کے حقوق اورفرد وجماعت کے باہمی تعلق کی حد بندی کی اوراس کے بعد اعلان کردیا کہ:
’’جو کوئی اللہ کی مقررکی ہوئی ان حدوں سے تجاوزکرتاہے وہ ظالم ہے۔‘‘(البقرة:۲۲۹)
’’بنیادی اصول‘‘ کی اس ایک بالادستی کوتسلیم کرانے کے بعد اسلام نے نہ کسی نبی کو یہ حق دیا کہ وہ اللہ کے علاوہ اپنی خواہش اورمرضی کا لوگوں کو پابند بنائے، نہ کسی حکمراں قوت کو۔ اس نے افراد کی اس آزادی کا صاف صاف اعلان کیا کہ : ’’اللہ کی نافرمانی کرنے کے لیے کسی مخلوق کی فرمانبرداری نہیں کی جاسکتی۔‘‘
حکومت اورجماعت کی فکری اورعملی زبردستی سے کمزوروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس نے ضمانت دی کہ: ’’دین میں زبردستی نہیں ہے۔‘‘ اس نے جماعت کو متنبہ کیا کہ: ’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں ناانصافی کا مجرم نہ بنادے۔‘‘ اسلام کی دی ہوئی انفرادی آزادی کی ایک شاندار مثال ہی ہے، جس نے نہ صرف حکومت اورفرد یا جماعت اورفرد کے باہمی تعلق کی راہ میں سنگِ میل نصب کیا ہے، بل کہ جمہوری اورعوامی تصورِ زندگی کے لیے بھی وہ ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ مصر کے ایک مسلمان ’’گورنر‘‘ کے خلاف محکوم اورکمزورقبطی کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا تھاکہ:
’’متٰی استعبدتم عبادَ اللّٰہ؟ وقد ولدتہم أُمہاتُہم أحرارا؟‘‘
’’ تم نے اللہ کے بندوں کو کب سے اپنا غلام سمجھ لیا ہے؟ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد پیدا کیا تھا۔‘‘
یہ ہے حریت واستقلال کا وہ اسلامی تصور جس نے موجودہ دور کے تصورِ آزادی کی رہنمائی کی ہے، اورجس کو آج بھی انسانی آزادی کی راہ میں ایک مثال اورنصب العین کی حیثیت حاصل ہے۔
تحفظ کے وسائل:
انسانی آزادی اورحدود وحقوق کی ان حد بندیوں کے درمیان کسی نظام کوقائم کرنے اورباقی رکھنے کے لیے عموماً طاقت کے مادی سہارے یعنی ’’حکومت‘‘ کو کافی سمجھاجاتاہے اوراس حکمراں طاقت کو حاصل کرنے کے اسباب اور ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں اورجب یہ طاقت حاصل ہوجاتی ہے تو ایک نظام یا اصول قائم اورجاری کردیا جاتا ہے، خواہ لوگوں کے ذہن اس انتظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔ اس طاقت کے سہارے قائم ہونے والے نظام کا انجام عموماً یہ ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں قوم کے دلوں میں جگہ نہیں پکڑتیں اورجیسے ہی قوت کا سہارا کمزور ہوتا ہے، اس نظام کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اورزندگی کی ساری تعمیرزمین پرآرہتی ہے۔
اسلام نے اپنے نظام کو قائم کرنے کے لیے محض مادی قوت اور حکمراں طاقت کے سہارے کو ہی استعمال نہیں کیا، بلکہ اس نے اپنے جامع نظام کو قائم اوردیرپا رکھنے کے لیے ایک جامع اورمحکم روحانی اسکیم تیار کی۔ اس نے قوت کے ظاہری اسباب سے زیادہ داخلی قوتوں کی تنظیم پرزوردیا اورمادی طاقت کودوسرے درجہ کی اہمیت دی، اس نے سب سے پہلے چند حقیقتوں پرایمان ویقین کی دعوت دی۔ ان حقیقتوں پرایمان کے ذریعہ خود انسان کے ضمیر میں اپنے اعمال کی ’’جوابدہی‘‘ کا احساس پیدا کیا اوراس احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ’’ایمان ویقین‘‘ کے پیدا کیے ہوئے ’’عمل‘‘ کو انسانی شرف اوربندگی کا معیارقراردیا۔
اسی ’’عمل‘‘ پران کریمانہ اخلاق کی بنیاد قائم ہوئی جو کسی نظام کوبرقراررکھنے کے لیے ایک اہم معنوی قوت ثابت ہوتی ہے۔
عقیدہ وعمل میں مرکزیت قائم کرنے کے لیے اسلام نے توحید کا عقیدہ دیا جوانسانوں میں ذہنی یک جہتی اوروحدت قائم کرنے کی ایک داخلی اورذہنی قوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’’انسانی مساوات ‘‘ کا اصول پیش کیا جوعملی مرکزیت باقی رکھنے کے لیے ذہنی اوراعتقادی قوت ہونے کے علاوہ مشترک ’’عمل‘‘ اورمشترک ’’فائدہ‘‘ حاصل کرنے کے لیے ایک پرکشش عملی تحریک بھی ہے جو ’’اجتماعی عمل‘‘ کے لیے اُبھارتی ہے۔
زندگی کے لیے یقین وعمل کی بنیادیں، توحید ومساوات کے زریں اصول اوراعتقادی وعملی تحریکیں استوار کرنے کے بعد اجتماعی جد وجہد اورتعاون کو منظم کرنے کے لیے اسلام نے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک اورسلسلہ قائم کیا ہے، جو اپنے نتائج اوراثرات کے لحاظ سے ایک خارجی تنظیم اورقوت پیدا کرتاہے اورکسی نظام کو قائم کرنے اوراس کو باقی رکھنے میں ایک اہم ’’مؤثر‘‘ کی حیثیت رکھتاہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر:
ان فرائض میں امربالمعروف اورنہی عن المنکر ایک اہم فریضہ ہے۔
امربالمعروف کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے جن امورکوانسانی زندگی کی خیروخوبی اورنیکی قراردیا ہے ان کی ترغیب دی جائے۔ نہی عن المنکر کے معنی یہ ہیں کہ جن چیزوں کوانسانی زندگی کے لیے ناپسندیدہ، ضرررساں اور ’’برائی‘‘ بتایا گیا ہے، اس سے روکا جائے۔ قرآن کا حکم ہے کہ:
’’اللہ انسانوں کوعدل وانصاف قائم کرنے، احسان کرنے اورقرابت داروں کو ان کے حقوق دینے کا امرفرماتا ہے، فحش اورناپسندیدہ باتوں سے روکتاہے۔‘‘
قرآن کی تعلیم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد اللہ تعالیٰ کے اُنہیں احکام کو پہنچانا اورجاری کرناہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ:
’’جو لوگ اُس رسول اور نبی امی کی پیروی کرتے ہیں، جس کے آنے کی بشارت ان کے پاس توریت اورانجیل میں لکھی ہوئی موجود ہے اورجوان لوگوں کو اچھے کاموں کاحکم دیتا ہے اوربرائیوں سے ان کو روکتا ہے۔ پاک چیزوں کوان کے لیے حلال کرتاہے اورگندی چیزوں کو ان پرحرام کرتا ہے۔
ان کے سروں سے وہ ’’بوجھ‘‘(اورظلم واستبداد کی ان بیڑیوں کو) دور کرتا ہے جو ظالم اورجابر طاقتوں نے ان پرلگا دی تھیں۔ اب جو لوگ اس رسول پرایمان لے آئے اوراس کی نصرت وحمایت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے اوراس نورِ ہدایت یعنی قرآن کی پیروی کرنے لگے، جو اس رسول کے ساتھ بھیجا گیا تھا، وہی لوگ درحقیقت فلاح اورکامیابی پانے والے ہیں۔‘‘
پھر یہ امر بالمعروف، امرِ الٰہی اورمقصدِ رسالت ہی نہیں، یعنی صرف اللہ اوراس کے رسول کا کام ہی نہیں ہے، بلکہ مومنوں کا بھی ایک ’’فرضِ عام‘‘ ہے، جو اسلام کے نظامِ اخلاق ومعاشرت قائم کرنے میں اللہ اوررسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قائم مقام اوران کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اس فرضِ عام کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے قرآن نے فرمایاکہ:
’’اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ۔‘‘
’’مسلمان وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں صاحبِ اقتدار واختیاربنادیں تووہ نمازکو قائم کریں، مال کی زکوٰۃ دیں اورامر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فرض انجام دیں۔‘‘
ایک اورموقع پرمومنین کی امتیازی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’مومن مرد اورمومن عورتیں ایک دوسرے کی ساتھی ہیں۔ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اوربرائیوں سے روکتے ہیں، نمازکو قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اوراس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پراللہ عنقریب رحم فرمائے گا۔‘‘
قرآن ِحکیم کی ان ہدایات سے واضح ہے کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر مسلمانوں کا ایک اہم اورعام فرض ہے اور صرف ایسی حالت ہی کے لیے مخصوص نہیں، جب کہ مسلمانوں کو بحیثیت جماعت کسی حصۂ زمین میں قوت اورطاقت حاصل ہو، بلکہ ایسا فرض ہے جو ہرزمانہ میں اورہرحالت میں ہرفردپرعائد ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
’’تم میں سے ہرشخص راعی اور نگراں ہے اور اپنی زیرِنگرانی رعیت کے متعلق جوابدہ ہے۔‘‘
یہ فریضہ اسلام کی حقیقی روح اُخوت ومساوات کا تقاضا ہے اوراسلامی نظام کی اُس عظیم الشان رحمت وبرکت کا براہِ راست نتیجہ ہے جو انسانی اوراسلامی برادری کے لیے عام کی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’دین خیرخواہی اورہمدردی کا نام ہے۔‘‘
اہلیتِ امر ونہی:
دوسرے فرائض کی طرح امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے بھی صرف انفرادی صلاحیت ہی ضروری شرط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
’’تم میں سے کوئی شخص اگر کسی برائی کو دیکھے تواس کو اپنے ہاتھوں سے (یعنی طاقت کے ذریعہ)بدل دے۔ جس کو ہاتھوں سے بدلنے کی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اس کو بدل دے، یعنی قوتِ بیان اورافہام وتفہیم کے ذریعہ اوراگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو اپنے دل سے تواس کو ضروربرا سمجھے (یعنی اپنے طرزِ عمل سے اپنی بیزاری کا اظہار کرے)اوریہ توایمان کا کمزور سے کمزور درجہ ہے۔‘‘
امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے اس اہم اصول نے (جو اسلامی عقائد کا نتیجہ اورمسلمانوں کاایک عملی فریضہ ہے) نہ صرف اسلامی نظام کے قائم کرنے اوراس کے باقی رکھنے میں اہم حصہ لیا ہے اورسیاسی طاقت (حکومت)کی کمزوری کی حالت میں اس نظام کواورمعاشرہ کواندرونی اوربیرونی تخریبی قوتوں اوربرائیوں سے بچایا ہے، بلکہ اس نے پرانی دنیا کو جو محض ایک اندھی اور بے رحم مادی طاقت پریقین رکھتی تھی ترقی کی ایک نئی راہ دکھائی ہے۔
اس اصول نے انسانی معاشرہ کی تعمیر میں طاقت اورقوت پراعتماد کرنے کی بجائے عوام کو اپنے اعتماد میں لینے اوران کے علم ویقین کو تعمیر کرنے اورکارفرما بنانے کی طرف رہنمائی کی ہے اوراس طرح انسان کے روحانی اور مادی ارتقا میں ایک اہم اورنمایاں خدمت انجام دی ہے۔ مخلوق کو نیکی اوربھلائی کی طرف بلانے اوربرائیوں سے روکنے کے فرض سے غفلت ہی نے ہماری معاشرتی تنظیم میں تمام تر رخنے ڈالے ہیں اور اس کو تباہ کیا ہے اور اندرونی وبیرونی تخریبی قوتوں کو سَر اُبھارنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
تعلیم وتبلیغ:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا توعلم ہی کے ذریعہ اس کو اپنی دوسری مخلوق پرحتیٰ کہ فرشتوں پر بھی فضیلت اوربرتری عطا فرمائی اورفرشتوں کی مقدس مخلوق کے سامنے اس کی اس فضیلت کا اظہار فرمایا اوراسی فضیلتِ علم کی وجہ سے اس کو خلافتِ الٰہیہ کا مستحق ٹھہرایا اورتمام کائنات پراقتداراورتصرف کی قوت سے سرفراز فرمایا، اس لیے علم ہی درحقیقت انسانی فضل وشرف کی بنیاد ہے۔
انسانی طبیعت میں علم ومعرفت اورحقائقِ اشیاء کے معلوم کرنے کی تڑپ پیدا کرنے کے بعد اللہ نے اس کوزندگی کی راہوں میں بھٹکنے کے لیے تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی رہنمائی کے لیے انہیں میں سے کچھ ایسے افراد بھیجنے کا سلسلہ قائم کیا، جواپنی اصل فطرت کے لحاظ سے کمالِ انسانی کےدرجات پرفائز ہوتے اوراللہ کے دیے ہوئے علم ومعرفت اورحکمت وہدایت کوعام انسانوں تک پہنچاتے تھے اوران کی رہنمائی کی خدمت انجام دیتے تھے۔
کمالِ انسانی حاصل کرنے کے لیے لوگوں کوتعلیم دینا اوراللہ کے احکام کواس کے بندوں تک پہنچانا ان مقدس افراد کا فریضہ تھا جودینی اورمذہبی اصطلاح میں ’’پیغمبر‘‘ کہلاتے ہیں۔
نوعِ انسانی کے قافلے نبیوں اوررسولوں کی رہنمائی میں اپنی اپنی منزلوں تک سفر کرتے رہے اورقوموں اورگروہوں کی صورت میں اس آخری سفر کے لیے تیارہوتے رہے جو انہیں اجتماعی طورپرایک ’’نبی ٔکامل‘‘ کی رہنمائی میں تکمیلِ انسانیت کے لیے کرنا تھا ۔ جب انسانیت کا وہ آخری رہنما آیا جس کے بعد کوئی نبی اوررسول آنے والا نہ تھا تواس نے اعلان کیا کہ:
’’میں معلمِ انسانیت بناکر بھیجا گیا ہوں اورمیرے آنے کا مقصد یہ ہے کہ اخلاقی بزرگیوں کی تکمیل کروں۔‘‘
اوراللہ تعالیٰ نے اس کے اس دعوے کی شہادت دیتے ہوئے بندوں پراپنے اس مخصوص کرم واحسان کا اظہار فرمایا۔ اللہ وہ ہے جس نے بے پڑھے لکھے (علم ومعرفت سے ناآشنا) لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں کتاب وحکمت اورشریعتِ الٰہیہ کی تعلیم دیتاہے اوران میں پاکیزگی پیدا کرتاہے۔ سچائی کی تعلیم اس نبیِ کامل کی سب سے نمایاں خصوصیت تھی اوراس سچائی کودوسروں تک پہنچانا اس کے منصب کا سب سے اہم فریضہ تھا۔ اللہ نے اس فرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ:
’’اے نبی! تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پرجوکچھ اُتاراگیا ہےاس کودوسروں تک پہنچادو، اگرتم نے ایسا نہ کیا توگویا اس کے پیغام کونہیں پہنچایا (یعنی رسول کی حیثیت سے فرضِ تبلیغ انجام نہیں دیا)۔‘‘
تعلیم وتبلیغ کی اسی اہمیت کی وجہ سے اسلام نے اپنی تعلیمات میں علم حاصل کرنے اوراس علم کو دوسروں تک پہنچانے پرخاص طورپرزوردیا ہے۔ قرآن نے اولین خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم کی طرف متوجہ کیا اورانسان کے سامنے سب سے پہلے اللہ کی اس نعمتِ عظیم کا اظہارفرمایاکہ:
’’(اے نبی!) اپنے اس پروردگار کا نام لے کر(خدا کا کلام) پڑھو، جس نے (تمام کائنات کو) پیدا کیا ہے۔ (خاص کر) جس نے انسان کو گوشت کے ایک ٹکڑے سے پیدا کردیا۔(اس کا کلام)پڑھو! اورتمہارا بزرگ ترین پروردگار تو وہ ہے، جس نے قلم کے ذریعہ(لکھنے پڑھنے کی) تعلیم دی اورانسان کو وہ کچھ سکھایا، جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
پھر یہ صرف رسول ہی کا فریضہ نہیں تھا کہ وہ حق وصداقت کے اس الہامی علم کے پھیلانے کی جدوجہد کریں جو اُن کو دیاگیا تھا اورجس کوعام کرنا اُن کی رسالت کا مقصد قراردیا گیا تھا، بلکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے والوں کے لیے بھی علم حاصل کرنا اوراس علم کو دوسروں تک پہنچانا فرض قراردیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’علم کی طلب ہرمسلمان پر فرض ہے، علم حاصل کرو چاہے وہ چین (ماچین) میں ہو۔ جو علم کی طلب میں نکلا وہ اللہ کی راہ کا مجاہد ہے۔‘‘
اسی طرح اوربہت سی احادیث میں آپ نے علم اورعلما کی فضیلت بیان فرماکر مسلمانوں کو ’’پیغمبروں کی میراث‘‘ یعنی علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اورعلم حاصل کرنے کے بعد اس کو دوسروں تک منتقل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
’’مجھ سے(سنی ہوئی آیات واحادیث) دوسروں کو پہنچاؤ، چاہے ایک ہی آیت (یا حدیث) ہو۔‘‘
ان لوگوں کے لیے آپ نے خاص طورپردعا فرمائی ہے، جوعلومِ نبوی کودوسروں تک پہنچائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:
’’خدا اس کوسرسبز رکھے، جس نے ہم سے جو کچھ سنا اس کو جیسا سنا ویساہی دوسروں تک پہنچادیا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوراُمت کے اس فرضِ ’’تعلیم وتبلیغ‘‘ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حجۃ الوداع کے آخری خطبۂ نبوت میں اپنا فرضِ تعلیم وتبلیغ انجام دینے پراُمت کو گواہ بنایا اوران کو اس فریضہ کے انجام دینے کی تاکید فرمائی کہ:
’’جولوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں تک (دینِ الٰہی) پہنچادیں جوموجود نہیں ہیں (یعنی ہرنسل دوسری نسل کو اوراگلے پچھلوں کو قیامت تک اسی طرح دینِ الٰہی پہنچاتے رہیں)۔‘‘
اسلامی علوم:
اسلام نے جن علوم کو حاصل کرنے اوران کو دوسروں تک پہنچانے پرزوردیا ہے، ان میں قرآن وحدیث اوران کے مددگارعلوم کے ساتھ ساتھ وہ تمام علوم بھی شامل ہیں جن کوحاصل کرنے کی اوران میں غوروفکر کرنے کی قرآن وحدیث میں دعوت دی گئی ہے۔
بعض علما نے ایسے علوم کی ایک طویل فہرست مرتب کی ہے جن کا سرچشمہ خود قرآنی آیات ہیں اوربعض اہلِ تحقیق کا خیال ہے کہ دنیا کا کوئی علم بھی قرآن کے اس وسیع دائرۂ علم سے باہر نہیں ہے۔ ان میں سے بعض علم ضروری ہیں اور بعض زائد ازضرورت۔
ضروری علوم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: علم تین ہیں: آیت محکم یعنی قرآن حکیم سے متعلق علوم۔سنتِ قائمہ یعنی صحیح احادیث سے متعلق علوم اورفریضۂ عادلہ یعنی زندگی کے صحیح فرائض سے متعلق علوم، جن کی مدد سے انسانی زندگی کے لیے صحیح راہ متعین کی جاسکے۔ اس آخری قسم میں تمام اِفادی علوم شامل ہیں۔
علوم کی ان تین صنفوں کے علاوہ تمام علوم کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’فضل‘‘ یعنی زائد ازضرورت قرار دیا ہے اوران میں وہ تمام فنون شامل ہیں جوانسان کو اپنے مقصدِ زندگی سے غافل کردیں۔
اسلام نے اپنے اصولِ دعوت میں ’’تعلیم وتبلیغ‘‘ کو جو اہمیت دی تھی، اسی کا نتیجہ تھا کہ مسلمان بحیثیت ایک قوم کے دنیا کی تمام قوموں میں تعلیم اورتبلیغ کےعلمبردار بنے، یہی قرآن حکیم کا منشا تھا، ارشاد ہے:
’’تم بہترین امت ہوجس کولوگوں(یعنی دنیا کی قوموں کی رہنمائی)کے لیے پیدا کیاگیاہے، تمہارا کام(خدا رسول کے نزدیک)معروف اچھے امور کا حکم دینا اور منکر (برے کاموں) سے منع کرنا۔‘‘
مسلمانوں نے نہ صرف دینی علوم کی نشرواشاعت کی، بل کہ ان ’’روایتی‘‘ علوم کے ساتھ ’’عقلی‘‘ علوم کو بھی کافی اہمیت دی۔ انسانیت کے لیے مفید اور کار آمد نئے نئے علوم ایجاد کیے اوردنیا کوان علوم کی روشنی سے فائدہ پہنچایا۔
نوعِ انسانی اپنے علم اورتجربہ کے محدود سرمایہ کو گمراہ کن خواہشوں کے انبار میں چھپائے ہوئے بھٹک رہی تھی۔
مسلمانوں نے انسانیت کے اس سرمایہ کو قوموں اور گروہوں کی اجارہ داری سے نکالا اورپوری انسانیت کے لیے عام کردیا۔ وہ علم جو طبقات اورگروہوں کی میراث بن چکا تھا اورجس کو نسل ومقام کی قیدوں میں محصوررکھاگیا تھا، اب وہ تمام انسانوں کے لیے عام ہوگیا اوراسلامی درس گاہیں دنیا کی قوموں کو تحصیلِ علوم وفنون کی صدائے عام دینے لگیں۔
مسلمان ہی تھے جو اس عالم گیرعلمی تحریک کے بانی بنے، جس نے موجودہ دنیا کوعلم وتحقیق اورایجاد واختراع کا ذوق بخشا اورعلمی ترقیات کی طرف رہنمائی کی۔
افسوس! آج علم پھر جغرافیائی حدود میں محصور کیا جارہاہے۔ تجربات اورایجادات چھپائے جارہے ہیں، تاکہ وہ خاص نسلوں اورمخصوص قوموں کی محفوظ اورمخصوص میراث بن جائیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آج علم نوعِ انسانی کے لیے زندگی کی مستقیم شاہراہ متعین کرنے کی بجائے نسلی اورقومی برتری قائم کرنے کا ایک ذریعہ بنالیا گیاہے، اوراس لیے اب وہ روشنی اورسکون واطمینان پیدا کرنے کی بجائے عام دنیا کے لیے تاریکی اورخوف وہراس پیدا کرنے کا سبب اورعالمگیر بدامنی اورسرد وگرم لڑائیوں کا ذریعہ بن گیا ہے۔
خوف اوردہشت کی اس دنیا میں اپنی تعلیمی اورتبلیغی جد وجہد کے ذریعہ کیا مسلمان ایک مرتبہ پھرعلم ومعرفت کا چراغ روشن کریںگے؟ اورنوعِ انسانی کو امن واطمینان کی دولت فراہم کریں گے؟
خدا کرے مسلمانوں کو اپنا بھولا ہوا سبق اورچھوڑا ہوا فرض یاد آجائے اوروہ اس کو انجام دینے کے لیے کمربستہ ہوجائیں!!’’لن یصلح آخرُ ہٰذہ الأمۃ اِلا بما صلح أولہا۔‘‘ اس امت کے آخر کوسدھارنے والی صرف وہی چیزیں وتدبیریں ہوں گی جنہوں نے اس کے اول کو سدھارا ہے۔(بشکریہ ماہنامہ بینات:مئ۲۰۲۴)
