اسفارناظم جامعہ اکل کوا حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی(ماہ جولائی24)

جامعہ کے شب و روز:

نارتھ مہاراشٹرا یونیورسٹی، جلگاوٴں:

            ۳/جولائی بروز بدھ بعد نماز فجر حضرت مولانا حذیفہ صاحب وستانوی ”اکل کوا “سے”کاویتری بہینا بائی چودھری نارتھ مہاراشٹرا یونیورسٹی، جلگاوٴں“ کے لیے روانہ ہوئے۔ الحمد للہ !آپ بی،اے۔ایم اے اور ایل ایل بی کے بعد پی۔ایچ۔ ڈی۔ کررہے ہیں اورتمام ترمصروفیات کے باوجود آپ ازخود پڑھائی کرکے امتحان دیتے ہیں اورآپ کایہ کہنا ہے کہ جس چیزکی بھی ہم ڈگری لیں اس کے اہل بھی ہوں اوراس چیزکی معلومات بھی ہو۔ اسی سلسلہ میں نارتھ مہاراشٹرا یونیورسٹی، جلگاوٴں پہنچے۔اوراس کہاوت کے مطابق ”اسے چھٹی نہ ملی جسے سبق یاد ہوا“۔امتحان سے فارغ ہوکر جامعہ کی شاخ انوارالعلوم مہرون جل گاوٴں تشریف لے گئے۔

            (مدرسہ انوارالعلوم مہرون جل گاوٴں یہ ادارہ جامعہ کی قدیم شاخوں میں سے ایک ہے؛ جہاں شعبہٴ دینیات،حفظ اور شعبہٴ عا لمیت میں عربی چہارم تک تعلیم دی جاتی ہے)آپ نے وہاں نمازِ ظہر ادا کی اور کھانا تیارتھا کھاتے ہی نمبائتی کے لیے روانہ ہوگئے۔

مدرسہ تعلیم القرآن و اصلاح البنات نمبائتی:

            ”مدرسہ تعلیم القرآن واصلاح البنات نمبائتی سوئیگاوں ضلع اورنگ آباد“یہ جامعہ کی سب سے قدیم شاخ ہے۔ جائے وقوع کے اعتبار سے پہاڑ کے دامن میں یہ ادار ہ واقع ہے؛ جس کے آس پاس تڑوی پٹھانوں کے چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں۔ تڑوی پٹھانوں میں چوں کہ دینی وتعلیمی اعتبار سے محنت کی کافی ضرورت تھی اس لیے جامعہ نے اپنی سب سے پہلی شاخ ان کے بیچ قائم کی۔ ادارہ ہذا میں لڑکوں اورلڑکیوں کے لئے تعلیم کا بہترین نظم ہے۔ حضرت مولانا احمد صاحب بھڑکودروی نے ایک لمبے عرصے تک ادارہ کی نظامت سنبھالتے ہوئے،استقامت کے ساتھ رات دن محنت کی اور ادارے کے ساتھ ساتھ علاقے کو بھی سنبھالا۔ اللہ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے۔ لیکن پیرانہ سالی اور بیماری کی وجہ سے حضرت مولانا نے معزرت پیش فرما دی ۔اللہ آپ کی طویل خدمات کو قبول فرمائے۔ اب آپ کےبعد ادارہ کو ناظم کی ضرورت تھی، جس کے لیے اس علاقے سے مانوس اورجامعہ کے قدیم فاضل حضرت مولانا محمد فیروز اشاعتی صاحب کا انتخاب کیا گیا۔اس مناسبت سے حضرت مولانا حذیفہ صاحب کی وہاں تشریف آوری ہوئی۔ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادارے کےتحت چلنے والے تمام مکاتب کے اساتذہ اورعلاقہ کے ذمہ داران مدعو تھے، ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں عوام نے بھی شرکت کی ۔حضرت مولانا نے اپنے عمومی خطاب میں علاقہ اور تڑوی برادری کو ملحوظ رکھتے ہوئے” ایمان کی اہمیت اورآج کے دورمیں اس کی حفاظت ایک بڑا چیلنج“ کو مرکزی موضوع بنایا ا ور اس سلسلے میں تعلیم کی اہمیت لوگوں کو جتائی۔

            آپ نے خطاب کرتے ہوئے ان پہلووٴں پر خاص توجہ دلائی۔

  •          گناہوں کی کثرت کی وجہ سے آج لوگوں کے دلوں سے ایمان اوراسلام کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے۔
  •          دین ِاسلام کے بغیر کامیاب زندگی گزارنا ناممکن ہے۔
  •             ہرایک کو موت آنی ہے؛ لہٰذا اس فانی دنیا کے فریب سے نکل کرلافانی زندگی کی تیاری کرنی چاہیے۔
  •           گھروں میں دین اس وقت آئے گا، جب ہم مدارس،مکاتب سے مربوط ہوں گے اورعلما و بزرگان دین سے ہمارا تعلق مضبوط ہوگا۔
  •      مرتے وقت انسان کی زبان پروہی بات آتی ہے،جو اسے زندگی میں محبوب ہوتی ہے۔اسے ڈاکٹر نور محمد صاحب نے اپنی کتاب ”کیا آپ موت کے لیے تیار ہیں“ میں بہت سے واقعات اوراپنے مشاہدے کی روشنی میں نقل کیا ہے۔
  •  انسان جس حالت میں مرے گا؛ اسی حالت میں آخرت میں اٹھایا جائے گا۔
  • حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسلام کا انقلابی عقیدہ، ”عقیدہٴ آخرت“ ہے۔ اس عقیدے کی وجہ سے نیکی کرنا اوربرائی سے رکنا آسان ہو جاتا ہے۔
  •           علما فرماتے ہیں: فتنے کے زمانے میں اگرآپ کے پاس دین کا علم ہوگا، تب ہی آپ اپنے ایمان و دین کو بچا سکتے ہیں ورنہ نہیں۔
  •        مدارس، مکاتب،دعوت و تبلیغ وغیرہ کا نظام ہمارے علما نے انگریزوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے شروع کیا۔
  •    اپنے بچوں کواچھا بنانے کے لیے پہلے ہمیں خوداچھا بننا پڑے گا۔
  •         اگریہ مدارس و مکاتب نہ ہوتے تواج ہماری زندگیوں میں دین نہ ہوتا۔

            ماشاء اللہ مجمع نے دل کے کانوں سے، ان حکیمانہ ومخلصانہ گفتگو کوسنا اورانقلابی عزم کے ساتھ گھرلوٹے۔

 دارالعلوم بھڑگاوں:

            نمبائتی سے واپسی میں جامعہ کی شاخ ”مدرسہ دارالعلوم بھڑگاوٴں، ضلع جل گاوٴں“، پہنچے،عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا،نمازِعصر ادا کی۔ ادارہ ہذا میں اسٹاف کواٹر زکا کام جاری ہے، اس کا معاینہ کیا۔ اوراساتذہ کے ساتھ مختصر سی گفتگوفرمائی،جس میں انہیں تعلیم کے ساتھ تربیت پر خاص توجہ دینے کی تلقین کی۔

مدرسہ علی بن ابی طالب بھامرواڑی:

            13، جولائی 2024 بروز ہفتہ دفتر کے ضروری امور کی انجام دہی کے بعد، دوپہر تین بجے اکل کوا سے روانہ ہوئے۔درمیان ِراہ عصر کی نماز کے لیے، چالیس گاوٴں کے گھاٹ کے انتہا پرایک چھوٹا سا ادارہ”مدرسہ علی بن ابی طالب بھامرواڑی“ ہے،وہاں نماز ِعصر ادا کی۔ نماز سے فارغ ہونے تک ادارہ کے احباب حافظ مستقیم صاحب اوران کے بھائی نے چائے کا انتظام کرلیاتھا؛ لہذا چائے نوشی کرنے لگے،گاوٴں کے ذمے داروں کو خبر لگ گئی تھی،اسی دوران وہ لوگ بھی حاضر ہوگئے،علاقے اور مدرسہ کے حالات پر بات چیت ہوئی۔ آپ نے ضروری مشورے سے ان کو نوازا، جس پروہ لوگ بڑے ممنون ہوئے۔

جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات اڈول:

            یہاں سے روانہ ہوکر”جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات اڈول ضلع اورنگ آباد“ پہنچے۔مدرسة البنات اڈول جامعہ کے ان اداروں میں سے ایک ہے، جو خادم القرآن حضرت غلام محمد وستانوی صاحب دامت برکاتہم نے چھوٹی بچیوں کی ایمانی مضبوطی اورتعلیم و تربیت کے لیے قائم کیا ہے۔ادارہ ہذا بھی ملک بھر میں جامعہ کے قائم کردہ تیس مدارس میں سے ایک ہے، جہاں جامعہ کے جاری کردہ خاص نصاب”مومنہ کورس برائے بنات“ کے تحت تعلیم دی جاتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس نصاب اوراس کے تحت چلنے والے اداروں کے انتہائی مفید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعددرسگاہوں کا سرسری جائزہ لیا،جہاں طالبات اپنی اپنی درسگاہوں میں اساتذہٴ کرام کی نگرانی میں اسباق یاد کررہی تھیں۔حضرت کے حکم پرتمام بچیوں کو جمع کیا گیا،اور حضرت کا طالبات کے درمیان خطاب ہوا، جس میں تعلیم کی اہمیت اورضرورت پرروشنی ڈالی، طالبات کوتاکید کے ساتھ کہا کہ فتنوں کے اس تاریک دورمیں دین کی تعلیم ناگزیرہے، اوراللہ کی نگاہ میں یہ سب سے افضل کام ہے، خاص طور پر کہا کہ بیٹیوں کی تعلیم نسلوں میں ایمان کے زندہ رہنے کا اہم ترین ذریعہ ہے؛ لہٰذا خوب محنت سے علم ِدین کے حصول پرتوجہ دیں۔ بچیوں کے خطاب کے بعد اساتذہ کی خصوصی مجلس میں طالبات کی تعلیمی وتربیتی کارکردگی سے متعلق رپورٹ لی۔ ادارہ ہذا میں الحمد للہ ۳۱۰/طالبات ”مومنہ کورس“ کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

جامعہ ابوہریرہ اور النور ہاسپٹل بدناپور:

             اڈول سے آپ روانہ ہوئے اورجامعہ ابوہریرہ بدنا پور پہنچے،ادارہ اوراس سے متصل ایم، بی،بی ایس کالج کے زیرنگرانی چلنے والے النور ہاسپٹل کا پہنچتے ہی جائزہ لیا،مریضوں کی عیادت کرتے ہوئے انہیں دعائیں دیں اور نفسیاتی طورپرحوصلہ افزائی فرمائی۔اس ہسپتال میں روزانہ ہزاروں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، حال ہی میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہائی ورزن سونوگرافی مشین خریدی گئی ہے، جس سے علاج میں تیزی اوربہتری آئی ہے۔

نظماحضرات سے میٹنگ:

            14جولائی 2024 اگلے دن بدنا پور سے قریب جامعہ کی شاخوں کے نظمائے کرام آئے ہوئے تھے،ان کے ساتھ میٹینگ ہوئی، بہت سارے مسائل پرتبادلہٴ خیال ہوا اوردرپیش مسائل کا عمدہ حل پیش کیا۔ میٹنگ کے بعدجامعہ ابوہریرہ کا گاڑی سے وزٹ کیا، اور مدرسہ ہذا کے اساتذہ ٴکرام کے درمیان مجلس ہوئی، جس میں علاقہ کے دینی،تعلیمی،تربیتی حالات معلوم کیے،جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جالنہ اوراس کے اطراف میں مڈر(قتل) نشہ اور موبائل گیم جیسے سنگین جرائم نوجوانوں میں سرایت کرتے جارہے ہیں،اس سے نوجوانوں کو کیسے روکا جائے۔ حضرت نے اساتذہٴ کرام سے گذارش کی کہ طلبہ کی صحیح تربیت کریں اورعلاقہ میں جاکر بیانات کریں اوراصلاحِ معاشرہ کے پروگرام منعقد کریں۔ ادارے میں الحمدللہ 750 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

مدرسہ ابو ایوب انصاری ناندی:

             عنبڑشاہراہ پرواقع ناندی ایک قصبہ ہے،”جہاں مدرسہ ابوایوب انصاری ناندی ضلع جالنہ بدناپور“ واقع ہے۔ تقریباً ۵/ سال قبل حاجی پاشا صاحب مرحوم نے پانچ ایکڑ زمین پرمدرسہ مسجد کی تعمیر کراکر جامعہ اکل کوا کے نام کیا،تب سے جامعہ کی نگرانی میں ادارہ چل رہا ہے،جہاں معیاری تعلیم ہے۔ آج حاجی صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن یہ ادارہ ان کے لئے صدقہٴ جاریہ ہے۔ ادارہ میں۱۱۰/ طلبہ حاضر تھے۔علاقہ کے ذمہ داران بھی ملاقات کے لئے تشریف لائے، مدرسہ اورعلاقہ کے حالات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے۔

مدرسہ ابوبکر صدیق و مدرسہ فاطمہ للبنات عنبڑ:

             ناندی سے روانہ ہو کر”مدرسہ ابوبکر صدیق و مدرسہ فاطمہ للبنات عنبڑ ضلع جالنہ“ پہنچے۔ مدرسہ کی تعلیم ہونے کے بعد، طلبہ اسکول کی اسمبلی کے لیے میدان میں جمع تھے۔ طلبہ کو سلام اوردعائیں دینے کے بعد اساتذہ سے میٹنگ کے لیے دفتر تشریف لے گئے، اساتذہٴ کرام کو تعلیم وتربیت کی بہتری کے لیے مفید تجربات بتائے اورادارے کی مزید ترقی کے لیے پوری محنت کی تلقین فرمائی اوراسکول کے نظام کو مزیدبہتراورمضبوط کرنے کے ساتھ بارہویں تک اسکول قائم کرنے کا حکم دیا۔

مدرسہ ابی بن کعب آشٹی ضلع جالنہ:

             مدرسہ ابی بن کعب آشٹی ضلع جالنہ: اس ادارے کا افتتاح 2018 میں عمل میں آیاتھا، ایک سال بھی نہیں ہو پائے تھے کہ پوری دنیا کروناجیسی وبا کا شکار ہوگئی، جہاں دنیا کا سارا نظام متاثرہوا،وہیں تعلیمی ادارے بھی بری طرح اس کے چپیٹ میں آئے۔ تاہم بہت ہی کم وقت میں اس ادارے نے ماشاء اللہ بہت ترقی کی۔ حضرت کی آمد کی اطلاع پر گاوٴں سے ذمہ دار احباب حضرت کے استقبال کے لیے پہنچے۔

             ادارے کے ناظم قاری وسیم الدین اشاعتی جو بڑے محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ،انتظامی صلاحیت میں بڑے لائق وفائق ہیں،آپ کو مدرسہ انصار العلوم پاتھری،(جو جامعہ کی قدیم اور بڑی شاخ ہے، جس میں تقریباً 1000 لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں اور بارہویں تک اسکول کی تعلیم ہے) کی نظامت سپرد کی گئی۔ اورآشٹی میں اڈول کے ناظم قاری شمس الدین اشاعتی کو ناظم بنایا گیا۔ مولانا نے اس اہم فیصلے کے بعد گاوٴں کے ذمہ داروں اور اساتذہ کو اپنی قیمتی نصائح سے نوازا اور ظہر کی نماز ادا فرما کر پاتھری کے لیے روانہ ہوگئے۔

مدرسہ انصار العلوم پاتھری:

            مدرسہ انصار العلوم پاتھری یہ ضلع پربھنی کا سب سے بڑا ادارہ ہے، جہاں شعبہٴ دینیات، حفظ، عا لمیت عربی سوم، مدرسةالبنات، اوراسکول کی تعلیم بارہویں جماعت تک ہے۔کمیٹی کے ذمہ داروں سے اوراساتذہ کرام سے ادارے کے متعلق تفصیلی گفتگو کے بعد حضرت نے اساتذہٴ کرام کو تعلیم اورتربیت پر خصوصی توجہ دلائی اور جن چیزوں میں خامیاں تھیں، اس کو دور کرنے کی ہدایت دی۔ ادارہ کی ۱۷/ایکڑ زمین ہے، ذمہ داروں کے ساتھ مکمل زمین کا معائینہ کیا۔

مدرسہ عنایت العلوم پربھنی:

            جامعہ اکل کوا کے سابق استاذ مولانا عبدالوہاب مدنی صاحب کی دعوت پرپربھنی پہنچے۔ پربھنی” مسجدِ ِعنایت“ میں عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد مدرسہ عنایت العلوم میں حاضرہوئے ادارے کے ذمہ داروں کی حوصلہ افزائی کی اوردعاوٴں سے نوازا۔ بعد ازاں مولانا عبدالوہاب مدنی کے گھر پر مختصر عصرانہ رہا، اس دوران حضرت نے شہر کے تعلیمی، سماجی، سیاسی حالات کا جائزہ لیا اور یہاں کی دینی درسگاہوں اورعصری تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اورمزید دعاوٴں سے نوازا۔ مختصر تبادلہٴ خیال کے بعد ہنگولی کے لیے روانہ ہوگئے۔

مدرسہ معراج العلوم ہنگولی: 

             بعد نماز مغرب ”مدرسہ معراج الموٴمنات“ کے سنگ ِبنیاد کے موقع سے، حضرت مدعوتھے اوراسی ضمن میں مدرسہ معراج العلوم کے احاطہ میں بڑا جلسہ عام رکھا گیا تھا،جس کی صدارت حضرت نے فرمائی،اس جلسے میں بطور ِمہمانِ خصوصی مولانا نعیم صاحب قاسمی ناظم مدرسہ منہاج العلوم رنجنی اورمولانا جاوید صاحب اشاعتی ناظم مکاتب ومراکز جامعہ اکل کوا مدعو تھے۔ جلسہ کے آغاز سے قبل مولانا نے ادارے کے ذمہ داروں اورمدرسہ کے اساتذہ سے دفتر میں ملاقات کی، جس میں ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا اورسابق ناظم مولانا ریاض صاحب اشاعتی،جو گذشتہ سال ادارے کے کام سے جاتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں شہید ہوگئے تھے، ان کے لئے دعا کی گئی اوران کی جگہ مولانا کریم الدین اشاعتی کو نظامت کی ذمہ داری دی گئی۔ اس کے بعد مدرسة البنات کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔جناب حاجی ہارون صاحب کے مکان پرکھانے سے فارغ ہوکر جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔ اور حضرت نے عوام کے درمیان خطاب فرمایا؟ جس کا خلاصہ اور نکات پیشِ خدمت ہے:

خلاصہٴ خطاب:

            (الف)…اللہ تبارک و تعالی کا ہمیں مسلمان بنانا اورایمان دینا، یہ ہمارے اوپر سب سے بڑا احسان ہے اور سب سے بڑی نعمت ہے۔

            (ب)…جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے، اس کی اتنی ہی زیادہ حفاظت کی جاتی ہے؛ لہذا ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت خوب اچھی طرح کرنی چاہیے، صحابہ نے ایمان ودین کی حفاظت کی خاطر اپنی جان و مال عزت ہرچیزقربان کر دی۔

            (ج)…ایمان نام ہے اللہ کی وحدانیت، عظمت اوراللہ کی محبت کا دل کی گہرائیوں میں اترجانے کا ۔

            (د)… انسان کا سب سے بڑا کمال صفت ِتواضع سے متصف ہونا ہے۔

            (ھ)…فتنوں کے اس تاریک دور میں ادعیہٴ ماثورہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہرموقعہ کے اذکار اوردعائیں جیسے صبح و شام کے اذکار وغیرہ)کا اہتمام کریں۔نمازمیں درود شریف کے بعد پڑھی جانے والی دعا درحقیقت ترجمانی ہے آدم علیہ السلام کی اس دعا کی، جس کی برکت سے آپ کی توبہ قبول ہوئی اور دوبارہ جنت کاراستہ اللہ نے ہموار کردیا۔

            (و)…ماں کے پیٹ میں روح پھوکنے سے پہلے فرشتہ تین سوال کرتا ہے:

            (1) اس کی موت کب واقع ہوگی؟

            (2) نیک بخت ہو گا یابدبخت؟

            (3) اس کا رزق کیسا ہوگا؟ کشادہ یا تنگ۔

             (ز)…ہم سب انسانوں کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے۔

            (ح)…ہمیں اپنے بچوں کو وقت اور محبت دینا چاہیے اوران کواچھی طرح دین سکھانا چاہیے؛ اسی میں دنیا وآخرت کی کامیابی ہے۔

             (ط)…مسلمان کی زندگی سراپا عبادت و حسن اخلاق کا پیکر ہونی چاہیے، اطاعت ِخداوندی کے ساتھ، اس طرح زندگی گزاری جائے کہ گھر والے، خاندان والے، پڑوسی اور بستی کے لوگ سب راضی ہوں اورآپ کے حسنِ اخلاق کی گواہی دیں۔

            (ی)…علما کاآپسی اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ علما، مبلغین اورمتصوفین (خانقاہ والوں)یعنی دین کا کام کرنے والے ہرطبقہ میں اتفاق ہونا چاہیے؛ اگرفتنوں کا صحیح طریقہ سے مقابلہ کرنا ہے اورایمان کو بچانا ہے تو اتفاق قائم کرنا ناگزیر ہے۔

            (ک)… دین کی سربلندی کو چھوڑ کراپنے ذاتی مفاد کے لیے،اگرکوئی دین کو ڈھال بناتا ہے اوراللہ اکبر کا نعرہ بھی لگاتا ہے، تو یہ بھی فتنہ ہے۔

            (ل)… ہم جواپنی ذات میں خرچ کریں گے کھائیں اور کھلائیں گے، آخرت میں اس کا حساب دینا ہو گا؛ لیکن جو اللہ کے راستے میں اخلاص کے ساتھ خرچ کریں گے، اس کا کوئی حساب نہیں،بس اجرہی اجر ہوگا۔

            الحمدللہ مولانا نے اپنے خطاب میں امت کی دکھتی رگ نہ صرف پکڑی،بل کہ اس کا مفید وموٴثر مداوا پیش کیا۔جس سے عوام کو گم گذشتہ راہ مل گئی۔چوں کہ یہ جلسہ مدرسہ کی تعمیرکے سلسلے میں تھا،آپ نے بیان میں انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت تو بتائی ہی تھی،بیان کے بعد دعا سے پہلے اس پرمزید توجہ دلائی آپ کی دلسوزی رنگ لائی اورمجمع نے 24 لاکھ سے زائد رقم لکھوائی۔

 فضلائے جامعہ سے ملاقات:

            پروگرام کے بعد فضلائے جامعہ سے ملاقات ہوئی، ہرایک نے اپنی مصروفیات اور خدمات کے بارے میں حضرت کو بتایا،اپنےفضلا کی دینی خدمات کو سن کرمولانا بہت خوش ہوئے اور انہیں بہت دعائیں دیں۔آخرمیں نکلتے ہوئے مدنی مکتب، جس کا تعمیری کام جاری ہے، وہاں پہنچے اوردعا کی۔اوروہاں سے اکل کوا کے لیے واپسی ہوگئی۔