ابطالِ دہریت از قرآن کریم

حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ؒ

حق تعالیٰ فرماتے ہیں:{ہَلْ أَتَیٰ عَلَی الْإِنسَانِ حِینٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُن شَیْئًا مَذْکُوْرًا،  إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیهِ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیعًا بَصِیرًا}۔(سورۃ الانسان:۲)

            ترجمہ: ’’تحقیق آیا ہے انسان پرز مانہ میں سے ایک ایسا وقت کہ انسان کوئی چیز نہ تھا کہ جس کا ذکر کیا جائے، تحقیق کہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے ؛تا کہ اس کی آزمائش کریں؛ پس ہم نے اس کو شنوا اور بینا کر دیا۔‘‘

            مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ اُس وقت انسان کا کوئی وجود نہ تھا، نہ وجودِ ذہنی تھا، نہ وجودِ خارجی تھا، اور نہ وجودِ لفظی تھا۔ یعنی اس کا نام تک بھی فرشتوں اور جنوں کی زبان پر بھی نہ تھا، بالکل نیست اور نابود تھا، پھر ہم نے اپنی قدرت سے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا۔

انسانی ہستی کی ابتدا:

            اس آیتِ شریفہ سے صاف طور پر واضح ہے کہ انسان کوئی ایسی ہستی نہیں کہ جس کی خلقت اور پیدائش کی ابتدا نہ ہوئی ہو اور وہ ہمیشہ سے اسی طرح چلا آیا ہو، جیسا کہ فلاسفہ کا قول ہے کہ انسانی ہستی کی کوئی ابتدا نہیں اور وہ ہمیشہ پیدا ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی یہ سلسلہ ہمیشہ سے ہے کہ نطفہ سے انسان اور انسان سے نطفہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس سلسلے کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، اور نہ اس طریقہ کے خلاف پیدائش ہو سکتی ہے۔

            حق جل شانہ نے اس آیت میں اور دیگر آیاتِ قرآنیہ میں فلاسفہ کے اس قول کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ ان کا یہ قول بالکل غلط ہے، بل کہ ایک وقت ایسا تھا کہ انسان کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ ہم نے اپنی قدرت سے اس سلسلہ کا اس طرح آغاز فرمایا کہ سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو ایک بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، پھر اس میں روح ڈالی، اس کے بعد ان کے بائیں پہلو سے ان کی بیوی ’’حوا‘‘ کو پیدا کیا، بعد ازیں ہم نے یہ سلسلہ جاری کر دیا کہ ایک ناپاک اور گندے پانی یعنی قطرۂ منی سے انسان کو پیدا کرتے ہیں۔ یہ ہماری قدرت ہے؛ ہمارے سوا کسی میں قدرت نہیں کہ پانی کے ایک ناپاک اور بدبودار قطرہ سے ایسی زیبا شکل بنا سکے۔ کسی نے خوب کہا ہے   ؎

دہد نطفہ را صورتے چُون پَرِی

کہ کر دست بر آب صورت گری

            غرض یہ کہ انسان ابتدا میں معدوم تھا اور اس کو کسی قسم کا عقلی یا حسی وجود حاصل نہ تھا، پھر خدا ہی نے اس کو وجود کا خلعت پہنایا انسان خود بخود وجود میں نہیں آیا، جیسا کہ فلاسفہ اور دہریہ کہتے ہیں کہ نوعِ انسانی اور صورتِ انسانی کا ظہور مادہ اور نیچر اور اس کے حرکت کار ہیں منت ہے۔مسلمان یہ کہتا ہے کہ مادہ تو ایک بے شعور چیز ہے، جو علم ،ادراک ، ارادہ اور اختیار سے بالکل عاری اور کورا ہے۔ اس کی غیر شعوری، غیر ارادی اور غیر اختیاری حرکت سے یہ ذی شعور، ذی علم، اور ذی عقل انسان کس طرح وجود میں آگیا۔ اور ایک گونگے اوربہرے مادہ( ایتھر اور نیچر) سے یہ سمیع و بصیر، یعنی سننے والا اور دیکھنے والا اور بولنے والا، کیسے پیدا ہو گیا؟ جس کمال اور جمال کا وجود خود اس مادہ کی ذات میں نہیں، وہ کمال و جمال دوسروں کو کیا دے سکتا ہے؟

            کیا ایک برہنہ، نادار اور بھوکا فقیر بھی کسی کو امیر اور مالدار بنا سکتا ہے؟ مادہ پرستوں کو بھی اس کا اقرار ہے کہ مادہ میں کسی قسم کا کوئی کمال نہیں، اور کوئی فیلسوف یا کوئی حکیم آج تک اس بات کا قائل نظر نہیں آیا کہ جس نے مادہ اور عناصر میں علم اور ادراک اور ارادہ اور اختیار کو تسلیم کیا ہو۔بل کہ تمام ما دیین اس بات کو مانتے ہیں کہ جو افعال اس سے سرزد ہوتے ہیں، وہ بے شعور اور بے اختیار صادر ہوتے ہیں۔

            اب غور تو کیجیے! کہ رحمِ مادر میں جب نطفہ قرار پکڑتا ہے اور لڑکا یا لڑکی بنتا ہے، تو ماں کو بھی خبر نہیں کہ میرے پیٹ میں کیا صنعت گری ہو رہی ہے اور نقاشِ قدرت میرے شکم میں لڑکا بنا رہا ہے یا لڑکی۔ اور بیچارہ نطفہ تو ایک قطرۂ آب ہے، اسے تو کچھ بھی خبر نہیں کہ مجھ میں کیا تغیرات اور انقلابات ہو رہے ہیں۔

            معدے میں غذا ہضم ہو رہی ہے اور کیا کیا ہو رہا ہے، مگر معدے کو کچھ خبر نہیں۔ اب حیرت کا مقام ہے کہ انسان میں تو حسن و جمال بھی ہے اور فضل و کمال بھی، اور عقل و ادراک بھی، اور وہ چیز یعنی مادہ، جس کو منکرینِ خدا اس انسان کا بل کہ سارے عالم کا خالق سمجھتے ہیں، اس میں یہ تمام صفات و کمال بالکلیہ نیست و نابود ہوں کیا عقلِ سلیم اس اقرار کو تسلیم کرتی ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو ایسی چیز عطا کر دے جس کا خود اس کی ذات میں نام و نشان نہ ہو؟ ہر گز نہیں۔

            معلو م ہوا کہ کسی زبردست اور بااختیار، حکیم و علیم نے انسان کو یہ کمالات عطا کیے ہیں۔ وہی خدا اور واجب الوجود ہے، اور وہی ذات ِبا برکات واہب الوجود ہے، جس نے انسان کو وجود عطا کیا ہے، اور وہی اس کے وجود کا رب اور مربی ہے، جس کی عنایت اور رحمت کا ہر لمحہ اور ہر گھڑی یہ انسان محتاج ہے۔ اسی کو ہم ’’اَللّٰہ‘‘ اور’’خُدَا‘‘ کہتے ہیں۔

            افسوس، اور صد افسوس ہے ان کم عقلوں پر جو یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی واجب الوجود اور واہب الوجود نہیں، بل کہ اس بے شعور مادہ کے طبعی تاثیرات سے تمام کارخانۂ عالم چل رہا ہے۔ جس طرح بُت پرست بے جان پتھروں کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں، اسی طرح یہ مادہ پرست ایک بے جان اور بے شعور مادہ کو اپنا صانع اور مربی سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ کیا رونے کا مقام نہیں؟ برین عقل و دانش بیاید گریست۔

{لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ}(التین:۴)

            ’’تحقیق کہ ہم نے بنایا انسان کو نہایت عمدہ صورت اور بہترین انداز پر۔‘‘

            (۱)…اول، اس کی پیدائش پر نظر کرو کہ ایک قطرہ ٔآب عورت کے رحم میں پہنچ کر کس طرح چکر کھاتا ہے اور کس طرح بتدریج اُس کے اعضا اور گوشت و پوست، رگ اور پٹھے بنتے رہتے ہیں۔ اور نو مہینہ تک بطنِ مادر میں دمِ حیض سے اس کو غذا ملتی رہتی ہے، اور ایک زندانِ تاریک میں اس کی خلقت مکمل ہوتی ہے، اور اسی تاریک جیل خانہ میں اس کی غذا اور تنفس کا سامان مہیا ہوتا رہتا ہے۔بڑے سے بڑا عاقل اور زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے سائنس دان اور فیلسوف بھی اس کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں۔

            (۲)… پھر نو ماہ کے بعد اس کی ولادت ہوتی ہے۔ رحم مادر سے باہر آتے ہی ماں کا دودھ چوسنا شروع کر دیتا ہے۔ بچہ یہ علم کس مدرسہ سے حاصل کر کے آیا ہے؟ یہاں تک کہ وہ نشو و نما کی منازل و مدارج طے کرتا ہوا ایک معین حد پر آ کر ٹھہر جاتا ہے۔

            (۳)…پھر اس مولود کے سراپا کو دیکھو، اس کی شکل زیبا اور اعضا کے تناسب کو سر سے لے کر پیروں تک دیکھو اور بتلاؤ کہ کیا یہ دل ربائی اور دل فریبی انسان کے علاوہ کسی اور حیوان کو بھی نصیب ہوئی ہے؟

             یہ تو اس کی ظاہری صورت کا مختصر سا حال تھا۔ اب ایک نظر اس کے باطنی اور معنوی کمالات پر ڈالو تو اس کی کوئی انتہا نہیں۔ خلاق علیم نے اس کو وہ عقل و کیاست(دانائی) علم و درایت، اور فہم و فراست عطا فرمائی ،جس کی حیرت انگیز کاریگری نے عالم کو حیران کر دیا۔ اور اپنی عقل سے بر اور بحر کو چھان ڈالا اور اپنی ضرورت کی چیزیں نکال لایا۔ اور طرح طرح کے اسبابِ معاش اپنے لیے فراہم کر لیے، اور ہوائی جہاز چلائے اورتار و بجلی کا جال بچھا دیا۔

            منکرینِ خدا بتلائیں کہ انسانی ولادت کے یہ تمام مراحل و منازل، اور پھر اس کی عقل و دانائی کی یہ حیرت انگیز کرشمے، کیا یہ سب مادہ اور اس کی حرکت کا نتیجہ ہیں، یا کسی خلّاقِ علیم کی قدرت و حکمت کے کرشمے ہیں؟ بلی، وَہُوَ الْخَلَّاقُ الْعَظِیمُ۔ ولَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ مَوْلَنَا الْکَرِیمُ۔

(ماخوذ از:اثبات صانع عالم اورابطال مادیت وماہیت :صفحہ۳۶تا۴۰)