’’ ابراہیمی معاہدہ‘‘ پس پردہ حقائق اور نتائج

(مفتی) محمد تقی عثمانی(صاحب)

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا

اور

درود و سلام اس کے آخری پیغمبر پر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا 

            امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ صاحب آج کل’’ ابراہیمی معاہدہ‘‘( Accords  Abrahamic) کے نام سے ایک معاہدے کی زوروشورسے تبلیغ فرما رہے ہیں، جس کا اصل مطلب تو یہ تھا کہ مسلمان، یہودی اوریہ عیسائی، تینوں چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کواپنا مقتدامانتے ہیں، اس لئےان کے درمیان باہمی تعاون ہونا چاہیے ،لیکن آج کل یہ اصطلاح صرف ایک نقطے پرمرکوز ہے، اوروہ یہ ہے کہ مسلمان اورعرب حکومتیں اسرائیل کوتسلیم کر کے اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کریں اورمشرق میں ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت ’’ چین‘‘ کے مقابلے میں امریکی بلاک کومستحکم کر کے مسلمان اورعرب حکومتوں کوامریکہ کے حریف کے مدّ مقابل لاکھڑا کریں۔ چنانچہ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اوربحرین نے پہل کر کے اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا ، بلکہ اس کے تحت متعدد میدانوں میں دوستانہ تعلقات قائم کرلیے جن میں انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ بھی شامل ہے۔

            یہ تو’’ابراہمی معاہدہ ‘‘ کا آخری نتیجہ اوراس کا سیاسی پہلو ہے ،لیکن اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے مدت سے زمین ہموار کی جارہی ہے، چناں چہ علمی سطح پریہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ مسلمانوں، یہودیوں اورعیسائیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ۔اگریہ کوشش اس مقصد سے ہوتی کہ کسی بھی معاشرے میں جب ان تینوں مذاہب کے پیروکارموجود ہوں، تو وہ امن وامان کے ساتھ رہیں، اورمذہب کی بنیاد پرایک دوسرے کے جان ومال پرحملے نہ کریں، تواس حد تک بات کچھ غلط نہ ہوتی۔

            لیکن اس کوشش کے دوران رفتہ رفتہ یہ تأثردیا گیا کہ یہ تینوں مذاہب چوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کواپنا مقتدا مانتے ہیں، اس لیے یہ ایک ہی خاندان کے افراد ہیں۔ اس کے لئے ایک تو یہ اصول اپنانے کی کوشش کی گئی کہ اگر کسی ریاست میں متعدد مذاہب کے لوگ آباد ہیں، تو وہ اُس ریاست کے شہری ہونے کے ناطے ’’ امتِ واحدہ‘‘ ہیں۔

            دوسرے ان تینوں مذاہب کے لئے ’’ ابراہیمی خاندان‘‘کی اصطلاح ایجاد کی گئی کہ مسلمان، یہودی اورنصرانی سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ، اورسب ابراہیم علیہ السلام کے پیروہیں، جس کا بالآخرنتیجہ یہ نکلنا تھا کہ ان مذاہب میں حق وباطل کا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ یہ سب حضرات ابراہیم علیہ السلام کے پیروہونے کی وجہ سے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو مذہب کی بنیاد پراپنے سےالگ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کا آخری نتیجہ یہی تھا کہ سارے ادیان برحق ہیں ، اوران میں سے کوئی بھی نجات اخروی کے لئے لازمی نہیں ہے، یعنی وہی بات جو’’ توحید ادیان‘‘ کا عقیدہ رکھنے والے کہا کرتے ہیں۔ اوراب تو’’ ابرہیمی معاہدہ‘‘ اور’’ اسرائیل کو جائز ریاست تسلیم کر کے اس سے تعلقات استوار کرنا‘‘ دونوں ہم معنی لفظ بن چکے ہیں۔

            بعض اوقات بات چھوٹی سی یاد یکھنے میں معمولی ہوتی ہے لیکن اس کے عواقب ونتائج بہت دورتک پہنچتے ہیں۔ عالم اسلام کی ایک نہایت قابلِ احترام اوربزرگ شخصیت حضرت شیخ عادل بن محفوظ بن بیہ مدظلہ العالی اصلاً موریطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے وہاں کے مشائخ سے بڑا وسیع وعمیق علم حاصل کیا، اوراپنی فقہی بصیرت اورتبحرعلمی کے اعتبار سے دنیا کے گنے چنے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ میرا ان سے نیاز مندانہ تعلق اس وقت سے ہے جب سے وہ مجمع الفقہ الاسلامی میں بطوررکن تشریف لاتے تھے ، اورمیں ان کے تبحرعلمی سے استفادہ بھی کرتا تھا ، اوربعض مسائل میں باہمی مذاکرہ اورخط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ اس وقت وہ ایک خالص علمی شخصیت کے طورپرجانے جاتے تھے جن کا عملی سیاست سے کوئی قابل ذکر تعلق نہیں تھا۔

            ایک عرصے کے بعد انہوں نے عالمی سطح پرایک علمی ادارہ قائم کیا جو’’ تعزیر السلم‘‘ یعنی’’ امن کے فروغ ‘‘ کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت مختلف مسلمان ممالک میں’’ نفاذ شریعت‘‘کے نام پرمسلح بغاوتوں کا دوردورہ تھا۔ اوراس کی وجہ سے بہت سے بے گناہ مسلمانوں کا ناحق خون بہہ رہا تھا۔ اس لئے اس ماحول میں’’ امن کے فروغ‘‘ کی بات فی الجملہ ایک مستحسن بات تھی ، اس مقصد کے تحت شیخ عبد اللہ بن بیہ حفظہ اللہ تعالی نے کئی عالمی کانفرنسیں منعقد کیں جن میں راقم الحروف اورمیرے برادر معظم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی شریک ہوئے، ایک ایسی ہی کا نفرنس میں راقم الحروف نے اپنی تقریر میں اس طرف بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی کہ جو لوگ مسلمان حکومتوں کے خلاف مسلح کارروائیاں کررہے ہیں، اوران کی وجہ سے بدامنی کے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، اس کے جواب میں صرف کا نفرنسیں منعقد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ ایک طرف مسلمان ملکوں میں جو کام کھلم کھلا شریعت کے خلاف ہورہے ہیں، ایک توان پرروک عائد کی جائے، تا کہ یہ مسلح بغاوتیں اس صورت حال کو اپنی کارروائیوں کا جواز بنا کر پیش نہ کر سکیں۔ دوسری طرف جو لوگ نادانی اورخلوص کے ساتھ ان تحریکوں کے ساتھ ہوئے ہیں، ان تک اس سلسلے میں قرآن وسنت کے صحیح احکام پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

            بہر حال! اس موضوع پرمتعدد کا نفرنسیں منعقد ہوئیں۔ پھرایک کا نفرنس مراکش کے شہرمیں بلائی گئی، جس کا موضوع یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں یہودیوں کے ساتھ جومعاہدہ فرمایا تھا اورجو’’ میثاق مدینہ‘‘ کے نام سے معروف ہے، مسلمان اس طرز کا ایک معاہدہ غیرمسلم شہریوں کے ساتھ کریں۔

            جب بندہ اس کا نفرنس میں شرکت کے لئے پہنچا او’’ تعزیرالسلم‘‘(فروغ امن) کے ادارے کے ایک ذمہ دار جب استقبال کرنے کے لئے تشریف لائےتوانہوں نے مجھ سے کہا کہ’’ میثاق مدینہ‘‘ میں ایک جملہ ایسا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ میں رہنے والے مسلمان اوریہودی دونوں ایک ہی’’ امت‘‘ہیں، اس لئے اس کا نفرنس کا مقصود یہ ہے کہ ہر مسلمان ملک میں اس تصورکو فروغ دیا جائے کہ مسلمان اورغیرمسلم دونوں ایک ملک کے باشندے ہونے کی بنا پرایک ہی’’ امت ‘‘ ہیں۔

            یہ بات سن کر بندہ کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہوا، اورمیں نے ’’ میثاق مدینہ‘‘ کاغورسے مطالعہ کیا، اوراس نتیجے پرپہنچا کہ ’’میثاق مدینہ‘‘کی عبارت سے مسلمان اورغیرمسلم دونوں کے ایک امت ہونے پراستدلال درست نہیں ہے۔

            چنانچہ کا نفرنس شروع ہونے سے پہلے میں شیخ عبد اللہ بن بی حفظہ اللہ تعالی سے تنہائی میں ملا، اوران سےعرض کیا کہ فلاں صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی ہے، حالانکہ’’ میثاق مدینہ‘‘ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ مسلمان اور یہودی مل کر’’ امت واحدہ‘‘ ہیں ۔ میں نے ’’میثاق مدینہ‘‘کی متعلقہ عبارت دکھا کران سے عرض کیا کہ یہ بات اس سے نہیں نکلتی ۔ حضرت شیخ حفظہ اللہ نے مجھ سے اتفاق فرمایا اورکہا کہ واقعی یہ بات درست ہے۔

            اس کے بعد جب کانفرنس کی نشستیں شروع ہوئیں ، اوربعض تقریروں میں یہ بات آئی کہ ایک ملک کے باشندے خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم سب مل کر ایک’’ امت ‘‘ہیں اور یہ میثاق مدینہ کا تقاضا ہے۔ توان پرتنقید کرتے ہوئے میں نے کھڑے ہو کر ’’ھذہ امتکم امة واحدۃ‘‘۔(سورۃ المومنون:۵۲)

             اور دوسری قرآنی آیات کے حوالے سے عرض کیا کہ یہ قرآنی اصطلاح ایک دین کے پیرووں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اور اسے ایک قومی حکومت (National State) کے لیے استعمال کرنے سے کئی معاملات میں خلط مبحث لازم آئے گا، اس لیے اس سے پرہیزہی کرنا چاہیے۔

            لیکن جب کانفرنس کا اختتامی اجلاس ہوا جس میں’’ اعلان مراکش‘‘ کا اعلان ہوتا تھا،اس وقت حضرت شیخ عبد اللہ بن بیّہ حفظہ اللہ تعالیٰ میری نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ دیرکے اورمجھ سے فرمایا کہ’’ میثاق مدینہ‘‘ کی جس عبارت پرمیری آپ سے بات ہوئی تھی، اس پرغورکرنے سے معلوم ہوا کہ اس سے قومی حکومت کے ’’امة واحدہ‘‘ ہونے کا تصورنکل رہا ہے، اوریہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اُس وقت وہ اتنی جلدی میں تھے کہ بات آگے بڑھانے کا موقع نہیں تھا، اور’’ اعلان مراکش ‘‘ پڑھ کرسنا دیا گیا اوراس کے بعد کسی کی تقریرکا کوئی موقع نہیں تھا۔ جب وہ اعلان بعد میں میرے پاس دستخط کے لئے آیا تو میں نے اس پراپنی تقریروں سے مشروط دستخط کئے، اوراس طرح اس پر اختلافی نوٹ کا اشارہ دیا۔

            اس کے بعد شیخ نے ایک اورکانفرنس بلائی اوراس میں ایک نئی اصطلاح کا تعارف کرایا گیا۔ وہ تھی ’’ابراہیمی خاندان‘‘ کی اصطلاح۔ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ کسی ایک ملک میں مسلمان، عیسائی، یہودی اگرامن وامان کے معاہدے کے ساتھ رہیں تواس میں کوئی اشکال کی بات نہیں ہے۔ لیکن ان کو ’’ ابرا ہیمی خاندان‘‘ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ سب واقعۃً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکارہیں، اورجو نسبت ابراہیم علیہ السلام سے مسلمانوں کو ہے، یہودیوں اورعیسائیوں کو بھی وہی نسبت ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کے مطابق یہودی اورعیسائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین حنیف کوچھوڑ چکے، اوراب ان کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی حقیقی تعلق نہیں رہا، قرآنی آیات کریمہ اس پرصریح ہیں ، اس کے باوجود ان تینوں مذاہب کے پیشواؤں کو کانفرنس میں جمع کر کے انہیں ابراہیمی خاندان کہا گیا اورکانفرنس میں ہرایک کی عبادت گاہ الگ بنائی گئی۔

            اس موقع پر میں نے ضروری سمجھا کہ میں اس اصطلاح میں چھپے ہوئے مقاصد سے شیخ عبداللہ بن بیہ حفظہ اللہ کوآگاہ کرنے کی کوشش کروں۔ مجھے ان کی حسن نیت پرشبہ نہیں تھا، لیکن میں سمجھتا تھا کہ بعض ناعاقبت اندیش لوگ ان کے ساتھ لگ کرانہیں اصطلاحات کے پھیرمیں الجھا رہے ہیں، پھر ان سے کوئی اورمقاصد حاصل کریں گے ، چنانچہ اس موقع پر میں نے انہیں ادب کے ساتھ ایک خط لکھا، اب تک میں نے وہ خط شائع نہیں کیا کیونکہ یہ ایک نجی خط تھا ، لیکن اب جبکہ ’’ابراہیمی خاندان‘‘ کی اصطلاح کے نتیجے میں امریکہ کے زیراہتمام۲۰۲۰ ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مسلمان حکومتوں کو’’ ابراہیمی معاہدہ‘‘ میں شامل کرلیا جن میں متحدہ عرب امارات اور بحرین سر فہرست تھے، اوراس معاہدے کا جزو ِاعظم یہ تھا کہ فلسطین کو تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے، اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے ، اوراس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون اوراس کے ساتھ کام کرنے کے معاہدات کرلیے جائیں ، اس وقت واضح ہوا کہ اس موضوع پرسیاسی کام جوکچھ بھی ہوا ہو ، اس کوعلمی امداد ان کا نفرنسوں نے پہنچائی جن میں لوگوں کے ذہن کو قریب لانے کے لیے’’ ایک امت ‘‘ اور’’ ابراہیمی خاندان ‘‘ کی اصطلاحات قائم کر کے اس کی راہ ہموار کی گئی ۔ اس لیے میں اب مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنا وہ خط شائع کردوں جو میں نے اس خطرے کے پیش نظر حضرت عبداللہ بن بیہ حفظہ اللہ کو بھیجا تھا لیکن اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ذیل میں وہ خط پیش خدمت ہے؛

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

            الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسوله الکریم وعلی آله وأصحابه أجمعین، وعلی کل من تبعھم باحسان الی یوم الدین ۔

            سماحة العلامة المحقق الداعیة الکبیر الشیخ عبد اللّٰہ بن بیه حفظه اللّٰہ تعالی وأبقاہ ذخراللاسلام والمسلمين

            السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته

            میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے آپ کی پُرشفقت رفاقت اورعزت افزائی سے نوازا، جو مجھے آپ کی جانب سے ہرملاقات میں حاصل ہوئی، خصوصاً جب سے میں نے آپ کو پہلی باربین الاقوامی فقہ اکیڈمی کی نشستوں میں پایا، پھرمختلف علمی مجالس، سیمینارزاورخاص طور پر’’تعزیز السِّلم‘‘(فروغ امن وسلامتی )کی کانفرنسوں میں، جن میں شرکت کی دعوت دے کرآپ نے مجھے عزت بخشی۔

             میں آپ کی ان کوششوں کوقدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں جوآپ ظلم، جبر، جنگوں اوردہشت گردی سے بھری ہوئی اِس دنیا میں امن کے قیام اوراس کے فروغ کے لیے انجام دے رہے ہیں اورجس کے لئے آپ عمر کے اس حصہ میں بھی کوشاں ہیں، جب عام آدمی راحت اورسکون کا متلاشی ہوتا ہے۔ فجزا کم اللّٰہ احسن الجزاء.

            اس میں کوئی شک نہیں کہ قیام امن کے جس کام کے لئے آپ کو شاں ہیں، وہ ایک عظیم مقصد اورنہایت بلند ہدف ہے۔ تاہم، کچھ باتیں ایسی ہیں جوعرصے سے میرے دل میں کھٹک رہی تھیں، جنہیں کئی بارآپ کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ کیا لیکن یہ سوچ کر رک گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں لقمان کو حکمت سکھانے کی جسارت کربیٹھوں یا’’مبضع تمر الی ھجر‘‘ (’’ ہجر‘‘ کو کھجور بھیجنے والی بات کا مصداق) بن جاؤں ۔ مگرآج میں نے حسنِ نیت اورآپ کی شفقت و کرم نوازی پراعتماد کرتے ہوئے، ان خیالات کوآپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلی بات :

            یہ حقیقت ہے کہ جو جنگیں اوردہشت گردی کی تحریکیں آج دنیا کولپیٹ میں لیے ہوئے ہیں، اُن پرصرف کا نفرنسوں اورسمیناروں کے فیصلے کوئی خاص اثرنہیں ڈالتے ، خاص طورپرایسے وقت میں جب مسلمان فلسطین، کشمیر، بھارت ، عراق، شام، برما، یمن اوردنیا کے دیگر حصوں میں بدترین مظالم اورانتقامی کارروائیوں کا شکار ہورہے ہیں۔ اگرآج ان کا نفرنسوں پر ہونے والے اخراجات کوباہمی مسلم مصالحت، مظلوموں کی مدد اور بے سہارا انسانوں(خواہ کسی بھی مذہب سے ہوں) کی دادرسی پرصرف کیا جائے ، یا ان بنیادی وجوہ کے خاتمے پرلگایا جائے جن کی وجہ سے دنیا میں پر تشد دتحریکیں پیدا ہوئیں، تو اس سے نسبتاً زیادہ مفید اورمؤثر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

دوسری بات:

            اس میں شک نہیں کہ یہ کانفرنسیں کم از کم نظری اورعملی سطح پرمفید ضرور ہیں۔ لیکن اگر ان کا مجموعی رخ دیکھا جائے ، تواکثران کا لب ولہجہ ایسا ہوتا ہے جیسے یہ مسلمانوں پردہشت گردی اورعدم برداشت کے الزام لگانے والوں کے مقابلے میں، اسلام اورمسلمانوں کی طرف سے ایک دفاعی موقف اختیار کررہی ہوں، گو یا دنیا میں صرف مسلمان ہی ہیں جو انسانی خاندان کے درمیان عدمِ برداشت اورتشدد کے بیج بوتے ہیں، اورانہی کی وجہ سے جنگیں بھڑکتی ہیں اوردہشت گردی کی تحریکات جنم لیتی ہیں۔

            ہم دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے سامنے یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں، بری الذمہ ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم، تشدد زدہ اورتعصب کا نشانہ بننے والی قوم مسلمان ہے۔

            اس کے باوجود ہماری کانفرنسوں کی موضوعاتی ترجیحات میں زیادہ زورغیرمسلم اقلیتوں کے ساتھ رواداری اوران کے حقوق کی بحالی پررہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی دنیامیں کوئی غیرمسلم اقلیت ایسی ہے جسے اجتماعی طور پر ویسا ظلم وستم برداشت کرنا پڑتا ہوجیساکہ مسلمانوں کوروزانہ فلسطین، کشمیربرما اوربھارت میں سہنا پڑتا ہے؟ کیا ان مظلوم مسلمانوں کے درمیان امن کا قیام زیادہ اہم ترجیح نہیں ہونا چاہیے؟

تیسری بات:

            مسلمانوں اورغیرمسلموں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ایک اہم ضرورت ہے، اورہمیں اس پرزوردینا چاہیے۔ لیکن کیا اس مقصد کے لیے ایسے الفاظ اوراصطلاحات اختیارکرنا ضروری ہے جواس تأثر کو جنم دیں کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم سب ایک ہی قوم (امت واحدہ) ہیں، جیسا کہ’’ مراکش‘‘ کی غیر مسلم اقلیات سے متعلق منعقدہ کانفرس میں یہ رویہ اختیارکیا گیا۔ حالانکہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو کفار سے الگ مستقل امت قراردیا ہے، ارشادخداوندی ہے:

(۱)       اِنَّ ھَذِہِ أُمّتُکُمْ أُمةٌ وَاحِدَۃً وَأَنَارَبّکُمْ فَاعْبُدُونِ(سورۃالأنبیاء:۹۲)

            ترجمہ:(لوگو) یقین رکھو کہ یہ( دین جس کی یہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں) تمہارا دین ہے جوایک ہی دین ہے، اورمیں تمہاراپروردگارہوں ۔ لہذا تم میری عبادت کرو۔

(۲)       واِنَّ ھَذِہِ أُمّتُکُمْ أُمةً وَاحِدَۃً وَأَنَارَبّکُمْ فَاتَّقوْن(سورۃ المومنون:۵۲)

             ترجمہ: اورحقیقت یہ ہے کہ یہی تمہارا دین ہے (سب کے لئے )ایک ہی دین ، اورمیں تمہارا پروردگار ہوں ، اس لئے دل میں (صرف) میرا رعب رکھو ۔

(۳)       وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّا أُمَّةً وَاحِدۃً فَاخْتَلَفُوا وَلَوْلًا کَلِمةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبّکَ لَقُضِيَ بَیْنَھُمْ فِيمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُونَ(یونس: ۱۹)

            ترجمہ: اور(شروع میں ) تمام انسان کسی اوردین کے نہیں صرف ایک ہی دین کے قائل تھے ، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کر کے الگ الگ ہوئے ۔ اوراگرتمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں ) کر دیا جاتا۔

(۴)       وَلَوْ شَائَ اللّٰہُ لَجَعَلکُمْ أُمةً وَاحِدَۃً وَلٰکِن یُضِلُّ مَنْ یَّشَائُ وَیھْدِي مَنْ یَّشَاء۔(سورۃالنحل : ۹۳)

            ترجمہ: اوراگراللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت(یعنی ایک ہی دین کا پیرو) بنا دیتا لیکن وہ جس کوچاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے ) گمراہی میں ڈال دیتا ہے ، اورجس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔

(۵)       وَلَوْ شَائَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَۃً وَلَا یَزَالُونَ مُخْتَلِفِینَ اِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبّکَ وَلِذَلِکَ خَلَقھُمْ وَتَمَّتْ کَلِمةُ رَبّکَ لَأَمْلَأَنَّ جَھنَّمَ مِنَ الْجِنّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعینَ۔ (سورۃھود: ۱۱۸ و ۱۱۹)

            ترجمہ: اوراگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کوایک ہی طریقے کا پیروبنادیتا،( مگر کسی کوزبردستی کسی دین پرمجبورکرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لئے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اوراب وہ ہمیشہ مختلف راستوں پرہی رہیں گے۔ البتہ جن پرتمہارا پروردگاررحم فرمائے گا ، ان کی بات اورہے ( کہ اللہ انہیں حق پرقائم رکھے گا) اوراس (امتحان) کے لئے اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اورتمہارے رب کی وہ بات پوری ہوگی جو اس نے کہی تھی کہ : میں جہنم کوجنات اورانسانوں دونوں سے بھردوں گا۔

(۶)       کَانَ النَّاسُ أُمةً وَاحِدَۃً فَبَعثَ اللّٰہُ النَّبیّینَ مُبَشِّرینَ وَمُنْذِرینَ وَأَنزَلَ مَعھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لیَحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِیهِ وَمَا اخْتَلَفَ فیْهِ اِلَّا الَّذینَ أُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ تھُمُ الْبیِّنٰتُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللّٰہُ الَّذینَ آمَنُوا لمَا اخْتَلَفُوا فیهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنهِ وَاللّٰہُ یھْدِي مَن یَشَائُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقیمٍ (سورۃالبقرۃ :۲۱۳)

             ترجمہ:( شروع میں ) سارے انسان ایک ہی دین کے پیرو تھے، پھر( جب ان میں اختلاف ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے جو (حق والوں کو) خوشخبری سناتے ، اور(باطل والوں کو )ڈراتے تھے، اوران کے ساتھ حق پرمشتمل کتاب نازل کی، تا کہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں ان کا اختلاف تھا۔ اور (افسوس کی بات یہ ہے کہ) کسی اور نے نہیں بلکہ خود انہوں نے جن کو وہ کتاب دی گئی تھی، روشن دلائل آجانے کے بعد بھی، صرف باہمی ضد کی وجہ سے اسی(کتاب) میں اختلاف نکال لیا، پھرجو لوگ ایمان لائے اللہ نے انہیں اپنے حکم سے حق کی ان باتوں میں راہ راست تک پہنچایا جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا، اوراللہ جسے چاہتا ہے راہ راست تک پہنچا دیتا ہے۔

(۷)       وَلَوْ شَائَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّةً وَاحِدَۃً وَلَکِنْ لیَبْلُوَکُمْ فِي مَا آتَاکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ(سورۃالمائدہ: ۴۸)

            ترجمہ: اوراگراللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن(الگ شریعتیں اس لیے دیں)تا کہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے ۔ لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کرجاتا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

(۸)       وَلَوْ شَائَ اللّٰہُ لَجَعَلَھُمْ أُمةً وَاحِدَۃً وَلکِنْ یُدْخِلُ مَنْ یَّشَائُ فِي رَحْمَتِهِ وَالظَّالِمُونَ مَا لَھُمْ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِیرٍ۔(سورۃالشوری : ۸)

            ترجمہ: اوراگراللہ چاہتا توان سب کوایک ہی جماعت بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اورجو ظالم لوگ ہیں ان کا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ کوئی مدگار ہے۔

(۹)       وَلَوْلَا أَن یکُونَ النَّاسُ أُمةً وَاحِدَۃً لَجَعَلْنَا لِمَنْ یَکْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُیُوتِھِمْ سُقُفًا مِنْ فِضّةٍوَمَعَارِجَ عَلَیھَا یَظْھَرُونَ۔ (سورۃالزخرف:۳۳)

            ترجمہ: اوراگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر)ہو جائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔

(۱۰)    فَکیْفَ اِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أُمّةٍ بِشَھیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَھیدًا۔(سورۃالنساء: ۴۱)

            ترجمہ: پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہو گا جب ہم ہرامت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور(اے پیغمبر !) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طورپرپیش کریں گے؟

            یہ آیات صراحت کے ساتھ اس بات پردلالت کررہی ہیں کہ مسلمان اورغیرمسلم دونوں ’’ ایک امت‘‘نہیں ہیں۔

            جہاں تک ’’ میثاق مدینہ‘‘ کا تعلق ہے، جسے’’ اعلان ِمراکش‘‘ نے اپنی بنیاد بنایا ہے تو۔۔ اس کی عبارت مختلف مفاہیم کا احتمال رکھتی ہے۔

            اسی طرح ’’ ابراہیمی خاندان‘‘(العائلۃ الابراھیمیۃ)کی اصطلاح، جس میں مسلمان، عیسائی اوریہودی تینوں شامل کیے جاتے ہیں، متعدد مواقع پراستعمال کی گئی ہے، خاص طورپرحالیہ دنوں میں ابو ظہبی کانفرنس سے جاری ہونے والے ’’نئے حلف الفضول‘‘ میں اس اصطلاح کو نمایاں طورپراختیار کیا گیا۔ مگر یہ اصطلاح اس گمان کو جنم دیتی ہے کہ گویا یہ تمام ادیان ( مذاہب) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ دعوی قرآن کریم کی صریح تعلیمات کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(۱)       وَقَالُوا کُونُوا ھُودًا أَوْ نَصَاری تَھْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّة اِبْرَاھیمَ حَنیفًا وَمَاکان من المشرکین۔ (سورۃالبقرہ : ۱۴۰)

            ترجمہ: اور یہ(یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے ) کہتے ہیں کہ : تم یہودی یا عیسائی ہوجاؤ راہ راست پرآجاؤ گے۔ کہہ دو کہ نہیں بلکہ (ہم تو) ابراہیم کے دین کی پیروی کریں گے جوٹھیک ٹھیک سیدھی راہ پرتھے، اوروہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جواللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

(۲)       أَمْ تَقُولُونَ اِنَّ اِبْرَاھیمَ وَاِسْمَاعِیلَ واِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ کَانُوا ھُودًا أَوْ نَصَارَی قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللّٰہُ وَمَنْ أَظْلَمُ ممَّنْ کَتَمَ شَھَادۃً عِندہُ مِنَ اللّٰہِ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ۔(سورۃالبقرہ: ۱۴۰)

            ترجمہ: بھلا کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اوران کی اولادیں یہودی یا نصرانی تھیں؟( مسلمانو! ان سے) کہو: کیا تم زیادہ جانتے ہویا اللہ ؟ اوراس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے پہنچی ہو؟ اورجو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبرنہیں ہے۔

(۳)       یَا أھْلَ الْکِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي اِبْرَاھیمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرۃُ وَالْانجِیلُ اِلَّامِنْ بَعْدہِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۔(سورۃآل عمران : ۶۵)

            ترجمہ: اے اہل کتاب !تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو حالانکہ تورات اورانجیل ان کے بعد ہی تو نازل ہوئی تھیں، کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے؟

(۴)       ھَا أَنْتُمْ ھٰؤُلَائِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَکُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِیمَالیْسَ لَکُمْ بِهِ عِلْمٌ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔(سورۃآل عمران :۶۶)

            ترجمہ: دیکھو! یہ تم ہی تو ہوجنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کر لی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے؟ اللہ جانتا ہے، اورتم نہیں جانتے۔

(۵)       مَا کَانَ اِبْرَاھیمُ یھُودِیا وَلَا نَصْرَانیًّا وَلٰکِنْ کَانَ حَنِیفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ من المشرکین (سورۃآل عمران : ۶۷)

            ترجمہ: ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سیدھے مسلمان تھے، اورشرک کرنے والوں میں بھی شامل نہیں ہوئے۔

(۶)       قَدْ کَانَتْ لکُمْ أُسْوۃٌ حَسَنَةً فِي اِبْرَاھیمَ وَالَّذینَ مَعَهُ اِذْ قَالُوا لِقَوْمھِمْ اِنَّا بُراء مِنکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَابَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوۃُ وَالْبَغْضَائُ أَبَدًا حَتی تُؤْمِنُوا بِاللّٰہِ وَحْدَہُ۔ (سورۃالممتحنۃ : ۴)

            ترجمہ: تمہارے لیے ابراہیم اوران کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے (عقائد کے )منکر ہیں، اورہمارے اورتمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اوربغض پیدا ہو گیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پرایمان نہ لاؤ۔

            یہ محض الفاظ کی بحث نہیں ہے۔ جب’’ وحدت امت‘‘یا ’’ ابراہیمی خاندان‘‘ جیسی اصطلاحات ایسی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں کہ ان میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر مذاہب والے بھی شامل ہو جائیں، تو یہ بات ان لوگوں کے لیے تقویت کا ذریعہ بن سکتی ہے ، یا کم ازکم ان کے لیے غلط استعمال کا موقع بن سکتی ہے ، جو’’ وحدت ِادیان‘‘کے نظریے کو مانتے ہیں، یعنی (جو یہ کہتے ہیں ) کہ تمام مذاہب برحق ہیں، ان کے درمیان حق وباطل کا کوئی فرق نہیں، اور نجات صرف اسلام میں منحصر نہیں۔

            اسی طرح ان اصطلاحات کا استعمال’’قومی ریاست‘‘( State  National)کے تصور کو بھی تقویت دیتا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ریاست کی بنیاد قومیت پرہو، نہ کہ مذہب پر۔ اس تصورمیں خالص اسلامی ریاست کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ سیکولر ازم (یعنی لا مذہبی اصول ) ہی قومی ریاست کا بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔  اس خطرے کو مزید تقویت اُس بات سے ملتی ہے جو ’’اعلان مراکش ‘‘کی تصویری دستاویز میں لکھی گئی ہے:’’جدید تہذیبی سیاق میں’’ صحیفۂ مدینہ ‘‘مسلمانوں کے لیے شہریت کا ایک مستند ماڈل پیش کرتا ہے۔ یہ ماڈل اسلامی ممالک میں اقلیتوں کے حالات کے لیے موزوں ہے۔ یہ معاہدہ تاریخی اعتبار سے نیاضرور ہے مگر اسلامی تجربے میں گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں انفرادی شخص کا احترام کیا جاتا ہے ،اقلیتوں کواپنے دین پرعمل کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، اور سب لوگ مل کر دنیاوی معاملات کو با ہمی ہم آہنگی سے چلاتے ہیں، ایسی ذمہ داریوں اور حقوق کی بنیاد پر جو’’ عقلی دستور‘‘ کے ذریعے متعین کیے گئے ہوں، جوتوازن، خوشگوار بقائے باہمی، قانون کی حکمرانی، اور سیاسی اختلافات کے منصفانہ حل کو یقینی بناتا ہے۔‘‘

            یہاں خاص طور پر’’ عقلی دستور( constitution  rational )‘‘کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی اسلامی ممالک کے سیاق میں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا مطلب ’’ سیکولر دستور‘‘ ہی ہے؟ اور سوال یہ ہے کہ جب سب لوگ مل کر دنیاوی معاملات چلا سکتے ہیں تو وہ’’ اسلامی دستور‘‘ کی روشنی میں ایسا کیوں نہ کریں؟ پھر کیوں ’’عقل‘‘یا’’ سیکولر‘‘ دستور کی بات کی گئی؟

            میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ایک عظیم مقصد اورشاندار نصب العین ہے، جس کا انکار صرف کوئی ضدی اور تنگ نظر شخص ہی کر سکتا ہے۔ مگر یہ بقائے باہمی ایسے حدود کے دائرہ میں رہ کر ہونی چاہیے جو معقول ہوں، ایسا نہ ہو کہ کہیں اس کی وجہ سے مذاہب کے درمیان فرق ہی مٹ جائے اورعقائد کے بنیادی اختلافات نظر انداز ہو جائیں، جس کے نتیجے میں حق و باطل خلط ملط ہو جائیں۔

            مجھے اندیشہ ہے کہ ایسی اصطلاحات اور ان پراس قدر زور دینے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ رفتہ رفتہ ہم’’ وحدت ادیان ‘‘ یا’’ قومی ریاست‘‘ یا ’’سیکولرازم‘‘کے نظریے کو قبول کرنے لگیں، اور یوں بارش سے بچنے کی کوشش میں ہم پر نالے کے نیچے جا بیٹھیں۔

            یہ چند عاجزانہ گزارشات ہیں جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں، اس امید پر کہ آپ ان پر توجہ فرمائیں گے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اپنی حد سے تجاوز نہ کر گیا ہوں، مگر آپ کی ہمیشہ کی شفقت نے مجھے ہمت دی کہ یہ باتیں آپ کے سامنے رکھ سکوں ۔ اگر کوئی بات دل کو ناگوار گزری ہو تو مجھے معاف فرمادیجیے۔ اللہ تعالی آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے، آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمرعطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنی رضا کے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا قدرداں

محمد تقی عثمانی

            آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان کا نفرنسوں میں نئی اصطلاحات متعارف کروا کر پہلے علمی سطح پر ’’ابراہیمی معاہدے‘‘ کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش ہوئی، اور ۲۰۲۰ ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سر براہی میں’’ ابراہیمی معاہدہ‘‘ وجود میں آگیا جو متعدد ایگریمنٹس پر مشتمل ہے، جن میں معاہدے میں شامل ممالک(بشمول اسرائیل) کے ساتھ تجارتی، تزویراتی اشتراک کے احکام موجود ہیں، اور اب اگر آپ ’’ابراہیمی معاہدے‘‘کا لفظ گوگل میں ڈال کر یا وکی پیڈیا میں دیکھیں تو اس کا واحد مطلب یہ لکھا ہوا ہوگا کہ معاہدے میں شامل تمام ممالک اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کریں۔ نتیجہ یہ کہ مزعومہ’’ ابراہیمی خاندان‘‘ کا صرف ایک ملک یعنی اسرائیل اس بات کا حقدار ہے کہ وہ اپنی حیثیت منوائے جو اس نے دھو کے، فریب اورمعصوموں کے قتل عام کی بنیاد پر قائم کی ہے، اور اسی’’ ابراہیمی خاندان‘‘کے وہ لوگ جو فلسطین کے اصل باشندے ہیں ان کا معاملہ کم از کم اس وقت تک معلق رکھا جائے جب تک اسرائیل چاہے۔

            اس معاہدے پر کئی عرب ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین ، مراکش اور سوڈان نے دستخط کیے ہیں۔ سعودی عرب نے دستخط نہیں کئے اوریہ منصفانہ موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک بیت المقدس کودارالحکومت بنا کر فلسطین کی ریاست قائم نہ ہو، وہ اس معاہدے میں شریک نہیں ہوگا۔

            اب آپ تصور فرمائیے کہ’’ ابراہیمی خاندان‘‘کی اصطلاح سے کس طرح صرف ایک ایسی نا جائز ریاست کو تحفظ دیا جارہا ہے جو ایک وحشی درندے کی طرح کبھی فلسطین کے باشندوں کا قتل عام کرتی ہے کبھی ایران پر، کبھی لبنان پر اور کبھی شام پر بے خوف و خطر چڑھ دوڑتی ہے، اور جسے نہ کسی بین الاقوامی قانون کاپاس ہے، نہ اخلاقی روایات کا ،نہ کسی معاہدے کی پابندی اس کی لغت میں کوئی معنی رکھتی ہے۔

            امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’’امن‘‘ کے پرفریب نعرے کے ساتھ اس معاہدے کی طرف مسلمان ملکوں کو دعوت دے رہے ہیں، تاکہ سارے مسلمانوں کو اسرائیل کی خواہشات کا غلام بنا کر انہیں اپنے حریف’’ چین‘‘ کے مد مقابل کھڑا کر دیں۔

            ع

ترے نشتر کی زد شریان ِقیس ناتواں تک ہے