ائمہٴ ثلاثہ کے نزدیک متفق علیہ ایامِ قربانی

مسئلہ: اکثرعلماء اورائمہ کے نزدیک قربانی کے ایام صرف ۳/دن یعنی ذی الحجہ کی ۱۰/تاریخ سے ۱۲/ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک ہیں، اس کے بعد قربانی جائز اورمعتبرنہیں ہے، حضرت امام ابو حنیفہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کامسلک یہی ہے، قربانی کے آخری وقت کے بارے میں کوئی صحیح اورمعتبر حدیث موجود نہیں ہے البتہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کے آثار سے واضح ہوتاہے کہ قربانی کے ایام صرف تین ہی ہیں، اور دِنوں کی یہ تعیین چوں کہ عقل سے نہیں ہو سکتی، اس لیے یہ آثارِ صحابہ احادیث ِ مرفوعہ کے درجہ میں ہیں، حضرت امام شافعی اوربعض تابعین رحمہم اللہ نے ایام تشریق سے متعلق حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہوے۱۳/ذی الحجہ کو بھی قربانی کے ایام میں شامل کیا ہے، مگر وہ روایت سند کے اعتبار سے نہایت کمزور ہے، اور احتیاط اس میں ہے کہ جو ایام سب ائمہ کے نزدیک متفق علیہ طور پر قربانی میں شامل ہیں انہیں میں قربانی کی جائے، مشکوک دن میں قربانی کرکے عبادت کو مشکوک نہ بنایا جائے، افسوس ہے کہ آج کل کچھ لوگ مشکوک دن میں قربانی کی باقاعدہ تحریک چلاکر امت میں انتشار برپا کر رہے ہیں، ایسے نادان خیر خواہوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

مفتی محمد جعفر صاحب ملی رحمانی

صدر دار الافتاء-جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا


الحجّة علی ما قلنا:

 ما في ” إعلاء السنن “ : قال الشوکاني في نیل الأوطار: قال النووي: وروي ہذا عن عمر بن الخطاب وعلي وابن عمر وأنس، وحکی ابن القیم عن أحمد أنه قول غیر واحد من أصحاب رسول اللہﷺ، ورواہ الأثرم عن ابن عباس، وکذاحکاہ عنه في”البحر“وہو قول أبيحنیفة وأحمد ومالک․ (۲۵۴/۱۷، کتاب الأضاحی، باب أن الأضحیة یومان بعد یوم الأضحی)

ما في ” الہدایة “ : وہيجائزة فيثلثة أیام: یوم النحرویومان بعدہ، وقال الشافعي: ثلثة أیام بعدہ، لقوله علیه السلام: أیام التشریق کلہا أیام ذبح، ولنا مارويعن عمروعلي وابن عباس رضيالله عنهم، قالوا: أیام النحرثلثة أیام أفضلہا أوّلہا وقد قالوا سماعاً لأن الرأي لایہتدی إلی المقادیر، وفيالأخبار تعارض فأخذنا بالمتیقن وہوالأقل․(۴۴۶/۴، کتاب الأضحیة)

ما في ” موسوعة تکملة فتح الملہم “ : وأما آخروقت الأضحیة فالثاني عشرمن ذي الحجة وہومذہب أبي حنیفة ومالک وأحمد، وأماالشافعي فقال: آخر أیام التشریق وہو الثالث عشرمن ذی الحجة ، وحکاہ النوويعن الأوزاعي وداود ومکحول أیضاً، وہو اختیارابن القیم في زاد المعاد، واستدل الجمہور بما أخرجه مالک فيالموطا أن عبدالله بن عمر قال: الأضحی یومان بعد یوم الأضحی، وقال مالک: أنه بلغه عن عليّ بن أبي طالب مثله وقد ذکرشیخنا التھانوي رحمه اللہ عدة آثارعن عمر بن الخطاب وابن عباس وابن عمر وعلي وأبي ہریرة وأنس رضي اللہ عنہم، والآثارالموقوفة في ہذا في قوة المرفوع، لأن أوقات العبادة لاتثبت بالقیاس، ویدل علیه حدیث النہي عن ادخارلحوم الأضاحي فوق ثلاثة أیام أیضاً، وأما الشافعي رحمه اللہ فقد استدل بماروي عن النبيﷺ من قوله : لکل فجاج مکة منحر وکل أیام التشریق ذبح ، أخرجه أحمد والدارقطنی وابن حبان والبیہقي کما في نیل الأوطار، ولکن ذکرشیخنا التھانوی رحمه اللہ في إعلاء السنن أن في إسنادہ مغامز لا تقوم معہا الحجة، ولاشک أن مذہب الجمہورأحوط․واللہ سبحانه وتعالی أعلم․۔(۴۵۸/۹، کتاب الأضاحي، وقت الأضحیة)

ما في ” إعلاء السنن “ : عن ابن أبی شیبة ناجریرعن منصورعن مجاہد عن ماعز بن مالک بن ماعز الثقفي أن أباہ سمع عمربن الخطاب یقول: إنماالنحرفي ہذہ الثلاثةالأیام․ (۲۵۶/۱۷،کتاب الأضاحی،باب أن الأضحیة یومان بعد یوم الأضحی)

وفیه أیضاً: عن علي قال: النحرثلاثة أیام أفضلہا أولہا․(۲۵۶/۱۷)