قرآنِ کریم کا بنیادی پیغام  توحید و رسالت اور آخرت

حضرت مولانا افتخاراحمد بستوی

                اللہ رب العزت نے اس دنیا میں تمام جنات و انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، ارشاد ہے:  ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ﴾

           ترجمہ: ”میں نے تمام جن وانس کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“

                 عبادت کیسے کی جائے گی؟ اس کا تمام ترانحصارقرآنِ کریم پر ہے، اللہ رب العزت نے وحی کا نزول فرماکرقرآنِ کریم کی شکل میں چھ ہزاردو سوچھتیس آیات میں پوری زندگی کوعبادت وامتثالِ امرِ خداوندی میں گزارنے کا طریقہ بتلا دیا۔ اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ارشاد کے مطابق پوری نبوی زندگی قرآنِ کریم کا عملی نمونہ ہے، جن کو دیکھنا ہوکہ قرآن کریم میں کیا ہے؟ اسے حضورکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ وہ پورا قرآنِ کریم مجسم شکل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پا لے گا اور جس کو نبی کی پوری سیرت کی علمی دلیل چاہیے، وہ قرآن کریم کے الفاظ و معانی اور نصوص کو دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی علمی جستجو کا مرکز قرآن کریم ہی کو پا لے گا۔

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول، وہی آخر

 وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یاسین، وہی طہ

                اللہ رب العزت کی آخری کتاب قرآن کریم میں بنیادی طور پر تین مضامین کو پورے بسط و تفصیل کے ساتھ اصولی انداز میں، فصاحت و بلاغت کے نت نئے پرایے میں، خوب موٴثر اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔

                پہلا مضمون ”توحید“ ہے ۔ دوسرا” رسالت“ اور تیسرا مضمون” معاد اورآخرت“ سے متعلق ہے۔

توحید خداوندی:

                اللہ رب العزت نے اپنی وحدانیت اوراوریکتائی کوثابت کرنے کے لیے قرآنِ کریم میں جہاں بے شمار مقامات پرتوحید کی گفتگو کرتے ہوئے، آیات نازل فرمائی ہیں؛ وہیں پوری ایک سورت” سورہٴ اخلاص“ کے نام سے اتاری ہے۔

                 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:”قُلْ ہُوَ اللّہُ أَحَد اَللَّٰهُ ألصَََّمَدُ لَمْ یَلِد  وَلَمْ یُولَد وَلَمْ یَکُنْ لََّهُ کُفُوًا أَحَدُ(۵)َ “( سورہٴ اخلاص )

                ”کہہ دو ! بات یہ ہے کہ اللہ ہرلحاظ سے ایک ہے، اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سب محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اوراس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔“(آسان ترجمہ قرآن)

                بعض کافروں نے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ آپ جس خدا کی عبادت کرتے ہیں، وہ کیسا ہے ؟ اس کا حسب و نسب بیان کر کے اس کا تعارف کرائیں، اس کے جواب میں یہ سورة نازل ہوئی۔( روح المعانی ،بحوالہ بیہقی طبرانی وغیرہ)

                حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ لکھتے ہیں کہ:

                ” ” اَحَدٌ“کا ترجمہ ایک پورے معنی کوظاہرنہیں کرتا، بل کہ ہرلحاظ سے اللہ رب العزت ایک ہے اوراس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات اس طرح ایک ہے کہ اس کے نہ اجزاء ہیں، نہ حصے ہیں، نہ اس کی صفات کسی اور میں پائی جاتی ہے، وہ اپنی ذات میں بھی ایک ہے اوراپنی صفات میں بھی“۔

                اسی لیے اللہ رب العزت کی ذات کو جیسے لامتناہی اورلا محدود مانتے ہیں؛ ایسے ہی اللہ رب العزت کی تمام صفات کوبھی لامحدود اور لامتناہی مانا جائے گا۔ ”اللہ اکبر“ کے معنی اللہ سب سے بڑا ہے، تو” اللہ“ کی ذات جیسے لامحدود ہے، اسی طرح” اکبر“ جو خدا کی ایک صفت سے وہ لامحدود ہے، اس طرح نہیں کہہ سکتے کہ خدا کی بڑائی فلاں مقام سے شروع ہوتی ہے اورفلاں مقام تک پہنچتی ہے، ایسا کہنا ہرگز جائز نہیں۔ اللہ کی ذات اوراس کی صفات کی کوئی ابتدا نہیں ،اسی طرح خدا کی ذات کی حد مقررکرنا اور اس کی صفات کے حدود بنا لینا ناجائز ہے۔ اللہ کی ذات و صفات دونوں انتہا میں بھی لا محدود ہے، ہرشیٴ کی ذات کو بھی خدا کی ذات نے احاطہ کررکھا ہے، اور اللہ کی صفات نے بھی ہرشیٴ کا احاطہ کررکھا ہے، خداوندِ قدوس اپنی ذات و صفات سے محیط ہے۔

                اب یہ بات انسان کی محدود طاقت سے باہر ہے کہ وہ لامحدود کی تشریح و تفصیل کرے، محدود ذہن، محدود طاقت اور محدود صلاحیت کے ساتھ لامحدود خدا کی ذات و صفات کیسے احاطہٴ تعریف و تشریح میں لا سکتا ہے، آخر کم محدود زیادہ محدود کو اپنے احاطہ و قدرت میں نہیں لا سکتا، ایک گلاس پانی ایک لیٹر پانی کو اپنے اندر نہیں سمو سکتا، ایک پاؤ کا گلاس ایک لیٹر پانی کواپنی حد میں جب نہیں لا سکتا، توایک محدود ذہن لامحدود خدا کی ذات و صفات کو اپنے ذہن اور دوسرے کے ذہن میں کیسے لا سکتا ہے، اسی لیے شاعرکہتا ہے؎

تو دل میں تو آتا ہے ،سمجھ میں نہیں آتا

بس جان گیا میں، تیری پہچان ہی ہے

 (اکبر الہ آبادی)

                مشرکینِ مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا نکاح جنات کے سرداروں کی بیٹیوں سے ہوا ہے، جنات اللہ کے داماد ہیں،﴿وَجَعَلُوْ بَیْنَه وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَّ صِہْرًا﴾فرما کراللہ رب العزت نے اسی کو بیان فرمایا، آگے انہوں نے یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے پھر اولاد ہوگی اولاد بھی ایسی کہ سب لڑکیاں ہی پیدا ہوئی لڑکے ایک بھی نہ ہوئے اوریہ سارے فرشتے خدا تعالیٰ کی لڑکیاں ہیں۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

                ﴿ أَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِینَ،مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُون ﴾۔(سورہ الصّافات )

                ”کیا اللہ نے لڑکیوں کولڑکوں پرترجیح دی ہے، تمہیں کیا ہوا ہے، کیسا بودا فیصلہ کرتے ہو؟!“

                اس پرتعجب خیز امر یہ ہے کہ انہوں نے اس پرنہ کوئی دلیل دی، نہ اس کی دلیل ان کے پاس فی الواقع موجود ہے۔ اللہ رب العزت نے اسی بات کی تردید فرمائی ہے کہ اللہ کے لیے کوئی اولاد نہیں، یہ جو تم کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو فرشتے موجود ہیں یہ سب اللہ کی بیٹیاں ہیں، یہ بے دلیل بات ہے کسی دعویٰ کے ثبوت اوراستحکام کے لیے دلیل ہوا کرتی ہے، تمہارے پاس تمہارے دعوے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے 

نہ کرو بحث ہار جاوٴگے

حسن اتنی بڑی دلیل نہیں

                کفار بڑے زور و شور سے یہ دعویٰ کیا کرتے تھے،طاقت وقوت ظاہری طورپران کے پاس تھی، مسلمان کم تعداد میں تھے، مسلمانوں کو دبنا پڑتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو دبنے اور صبرکرنے کی تلقین فرماتے تھے، جو بظاہر ناکامی معلوم ہوتی تھی،لیکن 

 کامیابی کی ہوا کرتی ہے ناکامی دلیل

 رنج آئے ہیں تجھے، راحت دلانے کے لیے

                اللہ رب العزت کا اعلان بھی آتا تھا: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ﴾(سورہ انشراح)

                حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ یہ ارشاد دوبارہ لانا تاکید ہے اور”العسر“ میں الف لام عہدِ خارجی کے لیے ہے، مطلب یہ ہوگا کہ کفار مکہ کا دعویٰ کہ خدا کے لیے اولاد ثابت ہے ، اورلات و عزّی سفارش کریں گے، یہ دعویٰ بلا دلیل ہے اوران کا انکار کرنے پرآپ کو تکلیف دینا یہ ابھی مکہ مکرمہ میں ہے، اس ”عُسر“اور مکی تکلیف کے بعد ہجرت مدینہ کے وقت آپ کو” یُسر“ اورآسانی ملنے والی ہے۔ اس بات کو تاکیدًا فرمایا کہ یقینا عسراورتکلیف کے ساتھ فورًا بعد آسانی آنے والی ہے۔

                چناں چہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت ہوئی، صحابہ مکہ چھوڑ کر مدینہ پہنچے، جنگ بدر، جنگ اُحد، غزوہٴ خندق، غزوہٴ خیبر وغیرہ غزوات ہوئے، آسانیاں آتی گئیں، مال و دولت، مالِ غنیمت کی شکل میں ضروریات پوری کرنے، راحت دینے اورآسانی کی خوش خبری سنانے کے لیے آتے رہے اور صحابہ اسی طرح اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے، توحید کا پرچم لہراتے ہوئے توحید کی دعوت دیتے اوراس اللہ کی طرف بلاتے، جس نے اپنی توحید کا اعلان سورہٴ اخلاص کی اس آیت میں اس طرح سے کیا ہے کہ

                 ﴿لَمْ یَلِد ط وَلَمْ یُولَد﴾(سورہٴ اخلاص)

                ”اس کے لیے کوئی اولاد نہیں ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔“

                اہلِ کتاب میں سے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام  روحُ القدس اور حضرت مریمؑ کو ملا کر تین افراد کے مجموعہٴ وحدت کو خدا مانتے ہیں۔ اس طرح خود کو موحد قراردیتے ہیں، یعنی ان کا خدا مرکب ہے ،تین عناصر سے، ایک عنصر کوایک ”اُقنوم“ کہتے ہیں، اور تینوں عناصر کو ”اقانیم ثلاثه “ کہتے ہیں۔ اس طرح عیسائیوں نے اللہ کو تین چیزوں میں ایک اور شیٴ اور جز و مرکب قراردیا، اور خود کو موحد کہتے رہے، اللہ رب العزت نے اسی توحید کو واشگاف فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللَّہَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ﴾(سورہ المائدہ)

                 ”یقینا وہ لوگ کافرہیں، جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے ۔“

                اس نصِ قرآنی کی صریح دلالت سے ان عیسائی کا کفر قطعی طورپرثابت ہو جاتا ہے اوران کی توحید کا صراحتًا بطلان ہو جاتا ہے، اسی طرح خیر کے خالق اہرمن اور شر کے خالق یزدان کے ماننے والوں کا کفر بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے توحید کوترک کر کے ثنائی عقیدہ خلقِ خدا کے بارے میں تجویز کیا ہے، اسی طرح توحید کے حسین محل پربجلیاں گرانے والے وہ لوگ بھی ہیں، جوتین اوردوخدا کے قائل ہونے والوں سے مختلف ہیں، ان کے یہاں لاتعداد خدا ہیں، وہ جتنے کنکراتنے شنکر کے قائل ہیں، ان سب عقائدِ باطلہ کے باوجود اسلام کی توحید کا مہکتا پھول مہکتا ہی رہے گا، کفر وطغیان اورعقائدِ باطلہ کی آندھیاں چاہے کتنی ہی تیزچلیں، کفر و فسق کی بجلی خرمنِ توحید کو جلاتے اور اجاڑنے کے لیے چاہے جتنا بھی کوشاں رہے،خرمن توحید محفوظ و باقی رہے گا۔ ساحر لدھیانوی کہتے ہیں؎ 

ہزاربرق گرے، لاکھ آندھیاں اُٹھیں

 وہ پھول کھل کے رہے گا جو کھلنے والا ہے

                زمانہ بھر میں ثنائیت، تثلیث اورتکثریت کی صدائیں بلند ہونے لگیں، ہرطرف عقائد حقہ کے خلاف، عقائد توحید کے خلاف عقائد باطلہ کا زمانہ اپنے جوہر دکھانے لگے،اورتوحید کے محل کواجاڑنے، بدلنے، گرانے اور مٹانے کے در پے ہوجائے تواللہ کی حفاظت میں رہنے والا عقیدہ توحید، عقیدہ قرآن کو زمانہ مٹا نہیں سکتا ۔اس لیے کہ زمانہ کی تقدیر کوعقیدہ توحید نے ہی بنایا اورسنوارا ہے، زمانے کی تعریف وثنا خواہی عقیدہٴ توحید کے دم خم سے قائم ہے، جگرمراد آبادی فرماتے ہیں:

ہم کو مٹا سکے، یہ زمانے میں دم نہیں

 ہم سے زمانہ خود ہے، زمانہ سے ہم نہیں

                 اے توحید کے علمبردارو! تم شاہین ہو، پروازمیں رہو، یہی تمہارا فرضِ منصبی ہے حکم خداوندی کا ڈنکا بجاتے رہو،نغمہٴ توحید سناتے رہو، تمہارے سامنے ترقی کے بے شمار مقامات ہیں 

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اوربھی ہیں

                اللہ رب العزت جسم اور جسمانیات سے پاک ہے، دنیا کی کوئی شیٴ اللہ کے مشابہ نہیں:﴿ لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ ﴾(سورہ الشوری)

                دوسری جگہ پچیسویں پارے میں ارشاد ہے اور یہاں سورہٴ اخلاص میں اللہ تعالیٰ نے﴿ وَلَمْ یَکُنْ لََّهُ کُفُوًا ﴾ تشبیہ تجسیم اوراس عقیدے کے ماننے والے تمام فرقوں کی تردید کردی ہے، یہ فرقے اگرچہ خدا کو مانتے ہیں، لیکن ان کی توحید درست نہیں ہے، اللہ رب العزت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیں گے۔

                 بلا نہایة ولاحد ،بلا ابتداء کا عقیدہ خدا تعالیٰ کے بارے میں علم کلام اورعقائد کی کتابوں میں مذکور ہے، ﴿وَإِلَٰہُکُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ط لَّا إِلَٰهَ إِلَّا ہُوَ (سورہ بقرہ)،مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ﴾۔(سورہ الفتح)

                تمہارا معبود ایک معبود ہے،اس کی توحید کے قائل بنو۔ یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کرآئے ہیں، جواللہ کے آخری رسول ہیں،رسالت کا سلسلہ آپ پرختم ہے، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ ئے گا، ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیائے کرام توحید کا پیغام لےکردنیا میں آچکے ہیں اورتین سو پندرہ رسول نئی شریعت لے کردنیا میں خدا کے بندوں کے پاس تشریف لا چکے ہیں،اب ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیائے کرام اورتین سو پندرہ رسولوں کے اختتام پرہمارے نبی حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا کراللہ کے حکم سے نبیوں اوررسولوں کا سلسلہ ختم کرچکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب نبی ورسول کی آمد دنیا میں نہ ہوگی، اگر کوئی اس کا دعوی کرتا ہے تو وہ کاذب ہے۔

رسالت : قرآن کا بنیادی موضوع :

                قرآن کریم انسان وجنات کی ہدایت کے لئے نازل ہونے والی آخری کتاب ہے، انسانوں کے ساتھ جنات بھی احکامِ خداوندی یعنی عقائد واعمال کے مکلف ہیں :﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلّالِیَعْبُدُوْنَِ﴾ سے یہ بات منصوص ومستحکم معلوم ہوتی ہے ،ہاں دوسری بہت ساری جگہوں پرجنات کا ذکر اس لیے نہیں ہے کہ وہ مکلف ہونے میں انسان کے تابع ہیں،اسی لیے جتنے انبیائے کرام اوررسولوں کی تشریف آوری ہوئی ہے، سب انسانوں میں ہوئی ہے،وہ انسانوں کے ہادی اصلاًواُصولاًرہے ہیں اورجناتوں کی ہدایت کے لیے بھی یہی انسانی شکل میں آنے والے پیغام پرنبی ورسول کافی مانے گئے،یہی جنات کی ہدایت کے لیے بھی بھیجے گئے: ﴿اِنَّاعَرَضْنَا الْاَمَانَةَعَلَی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبِالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا اْلِانْسَانُ، اِنَّه کَانَ ظَلُوْماً جَہُوْلًا﴾اس آیت میں بھی امانت کو آسمان وزمین اورپہاڑوں پرپیش کرنے اوران کے انکار کرنے کے بعد انسانوں پرپیش کرنے کا ذکر اصلاًواُصولاًہے تبعاًجنات بھی مراد ہیں ۔

                اسی لیے ائمہ کرام اورفقہائے عظام انسانوں کے ساتھ جنات کے بھی جنت و دوزخ میں جانے کے قائل ہیں ،امام ابو حنیفہ سے جنات کے جنت میں دخول کا قول منقول نہیں ہے،آپ نے سکوت فرمایا ہے،توسکوت کا قول غلط منقول ہوکریوں ہوگیا کہ لوگ کہنے لگے کہ امام صاحب جناتوں کے عدمِ دخولِ جنت کے قائل ہیں حالاں کہ امام ابوحنیفہ نے شدتِ احتیاط کے پیشِ نظرصراحتاًدخولِ جنت کی دلیل نہ پائے جانے کی وجہ سے، جناتوں کے لیے دخولِ جنت کے قول سے سکوت فرمایا ہے ،یہی سکوت عدم دخول جنت کے قول سے مشہورہوگیا ۔

                بہرحال قرآن کریم کا بنیادی موضوع توحید کے ساتھ دوسرے نمبرپررسالت ہے، ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا نورتواس وقت تخلیق کے مرحلے سے گزرکرنبوت کی دولت سے سرفراز ہوچکا ہے جب آدم علیہ السلام کی تعمیروتخلیق کے مراحل چل رہے تھے،حدیث ہے (کنت نبیاًو آدم بین الماء والطین )میں نبی بن چکا تھا جب کہ ابھی حضرت آدم علیہ السلام پانی اورگارے کے مرحلے میں تھے ۔

                وجوداًہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقدم ہیں اوربعثت کے اعتبار سے سب سے آخرمیں دنیا میں آخری رسول بن کر تشریف لائے،قرآن مجید میں اللہ تعالی ٰنے ارشاد فرمایا ہے :﴿مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلکِنْ رَّسُوْلَ اللہ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَ کَانَ اللّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا﴾(احزاب):حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں،لیکن اللہ کے رسول اورآخری نبی ہیں،اللہ تعالیٰ ہرشئ کوجاننے والے ہیں ۔﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَه اَشِدَّاءُ﴾والی آیت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بتلارہی ہے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب نے خاتم النبیین نام سے پوری کتاب لکھی ہے جس میں ہمارے نبی کے آخری رسول اورخاتم الانبیاء ہونے کی قرآن کریم سے بے شمار آیات ختم نبوت ورسالت پر جمع کی ہیں۔بے شمار احادیث بھی جمع کی ہیں،جن سے صاف واضح اورقطعی طورپرثابت ہوجاتا ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ”لوکان بعدی نبی لکان عمر“کا ارشاد بھی یہ بتلاتا ہے کہ اگراللہ کے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی کا آنا مقدرومقررہوتا تو حضرت عمراس لائق تھے کہ آپ کو نبی بنا دیاجاتا،لیکن علم الٰہی میں پہلے سے طے ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی،خاتم المرسلین اور دانائے سبل اورفخررسل طے ہو چکے ہیں، اس لیے حضرت عمرنبی نہیں بنائے گئے ،بہ دیگراں چہ رسد ،معلوم ہوا کہ آپ کے بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا وہ سب جھوٹا دعویٰ ہے ۔

جھوٹے نبی کاجھوٹا دعوی:

                اسود عنسی،مسیلمہ کذاب، مغیرہ بن سعید،حارث کذاب دمشقی،سجاح بنت حارث ،صالح بن طریف، اسحاق اخرس ، استاذ سیس خراسانی،علی بن محمد خارجی،مختاربن ابوعبیداللہ ثقفی،حمدان بن اشعث قرمطی،علی بن محمد فضل خارجی یمنی ،حامیم بن من اللہ،عبد العزیز باسندی ،ابو طیب احمد بن حسین متنبی ،ابوالقاسم احمد بن مشی ،عبد الحق بن سبعین حرسی،بایزید روشن جالندھری،میرمحمد حسین منہدی المعروف نمود،مرزا غلام احمد قادیانی؛یہ سارے جھوٹے نبی ماضی میں گزرچکے ہیں جنہوں نے دولت ومنصب کے لالچ اورنفس وشیطان کی شرارت کی وجہ سے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے منکر ہوکر واصل جہنم ہونے کا تمغہ حاصل کیا ۔

                ان لوگوں نے اپنے نبی ہونے کی دلیلیں بھی دیں، لیکن ظاہر ہے کہ سورج کی روشنی کے سامنے ظلمت ٹھہرتی نہیں ،اورجھوٹے نبی سراپا ظلمت اورظلمت کدہ ہیں۔ سچے نبی کی روشنی اور روشن پیغام کے سامنے ان کی تاریکی اورتاریک دلیلوں کا ٹھہرنا ممکن نہیں ۔حقیقة النبوة کے مصنف نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے تیس سے زائد عبارتیں درج کی ہیں، جن سے مرزا نے اپنی جھوٹی نبوت ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے، کچھ آپ بھی پڑھ لیں ۔

مرزا کہتا ہے :

                (۱)… ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول و نبی ہیں۔ (بدر ۵،مارچ ۱۹۰۸ء)

                (۲)…سچا خدا وہی ہے، جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا ۔(دانع البلد ،ص۱۱)

                (۳)… میں اس خدا کی قسم کھاکرکہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے، اسی نے میرا نام رکھا ہے ۔(تتمہ حقیقةالوحی ،ص۶۸)

                (۴)…خدا تعالیٰ قادیان کواس طاعون کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا،کیوں کہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے ۔(دافع البلد ،ص۱۰)

                بایزید نامی جھوٹے نبی نے تواکبر بادشاہ کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا اورباقاعدہ بادشاہ کے بالمقابل آکر لشکرجرار سے مقابلہ کیا، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اکبر بادشاہ کو شکست ہوگئی ،اس سے تو بایزید جھوٹے نبی کا حوصلہ اوربڑھ گیا، آخر کار اکبر بادشاہ نے پورے اعتماد کے ساتھ ایک لشکر بایزید کے مقابلے میں بھیجا،جس میں بادشاہ کو کامیابی ملی اورکاذب نبی اپنے کیفرِ کردار تک پہنچا ۔

سچے انبیاء اور رسل :

                تقریباً حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیشتر جتنے انبیا ا وررسل تشریف لائے ہیں، سب سچے انبیا اوررسول ہیں ۔ قرآن کہتا ہے: ﴿مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَ مِنْہُمْ مَّنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ﴾،ان انبیاورسل میں سے پچیس نبیوں کا اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ذکرکیا ہے، اوربقیہ کا ذکرنہیں کیا ۔سارے انبیائے کرام کی دعوت میں یکسا نیت تھی کہ قوم شرک سے توبہ کرلے اوراپنی آخرت سنوار لے، جنت میں داخل ہونے کے لائق ہوجا ئے اور جہنم میں جانے سے بچ جائے۔

                فروعات و شرائع انبیائے کرام کے زمانے کے لحاظ اورقوموں کے مزاج کے اعتبار سے مختلف رہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اعتقاد و احکام میں تکمیل کا اعلان کردیا گیا،اب یہ شریعت اپنے اصول واحکام کے اعتبار سے منصوص و محکم رہے گی ،اس کے بعد نہ کوئی عقیدہ بدلے گا نہ حکم ،نہ اصول میں تبدیلی ہوگی نہ فروع میں، ہاں احکام مستنبط ہوتے رہیں گے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :﴿وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ اْلِاسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ﴾ پسندیدہ دین اللہ کی نظر میں اسلام ہے جوشخص اسلام کو چھوڑکرکوئی دوسرا دین اختیارکرے گا وہ قبول نہ کیا جائے گا۔ہرنبی کے زمانے میں قوم نے اپنے نبی کی مخالفت کی،ایذائیں دیں ،سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا پیغام لے کر مکہ کی سنگلاخ وادی میں جب رب کا حکم سنانے لگے تولوگ الصادق الامین کہنے والے آپ کے دشمن بن گئے اورآپ کی باتیں ماننے کے بجائے آپ کو ایذائیں دینے لگے ۔

                تمام انبیا ورسل سچے تھے ،اولو العزم تھے ،پانچ انبیائے کرام حضرت نوح علیہ السلام ،ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اولو العزم پیغمبروں میں مشہورہیں، تو یہ نام غلبے کی وجہ سے ہے ،اس کا مطلب یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ دیگر انبیا ورسل اولو العزم نہ تھے ، یہ عقیدہ باطل ہے ۔

                تمام نبیوں اوررسولوں نے اپنی قوم کو نبوت ورسالت اوراللہ کے پیغام کو بحسن خوبی پہنچادیا، کوئی کمی کوتاہی نہیں کی،نبی کا فرض منصبی ہے کہ وہ خدا کا حکم بندوں تک پہنچائے،اگرکوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نبی بندوں تک پیغامِ خداوندی پہنچانے میں کوتاہی کی ہے تو تھوڑی کوتاہی کا بھی عقیدہ رکھنا توہینِ رسالت کا ارتکاب اورموجب کفرہے۔خدا کا پیغام پہنچانے میں انبیائے کرام علیہ السلام نے تکلیفیں بھی جھیلیں،قوم کی کڑوی کسیلی سنی،ہزارمصائب و آلام کے باوجود انہوں نے اپنا فریضہ ادا کیا ۔حضرت نوح علیہ السلام تو ساڑھے نو سو سال تک فریضہ نبوت ورسالت کی ادائیگی کرتے رہے ۔اس سلسلے میں آپ نے بے حد وحساب تکلیفیں جھیلیں ۔حدیث میں ہے کہ قوم کے بچے آپ کو عینِ تبلیغ رسالت کے وقت مارتے،آپ پرپتھرپھینکتے،ایذائیں پہنچاتے،پورا بدن خون سے لت پت ہوجاتا،تب بھی آپ مسلسل قوم کو سمجھا تے رہے ۔قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سورہٴ نوح میں فرماتے ہیں :﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَہَارًا  فَلَمْ یَزِدْہُمْ دُعَآئِیْ اِلَّا فِرَارًا  وَ اِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوْا اَصَابِعَہُمْ فِیْ اٰذَانِہِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا  ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُہُمْ جِہَارًا  ثُمَّ اِنِّیْ اَعْلَنْتُ لَہُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَہُمْ اِسْرَارًا  فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّه کَانَ غَفَّارًا  یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا  وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْہٰرًا  مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّہِ وَقَارًا وَ قَدْ خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا  ﴾

                نوح علیہ السلام نے فرمایا: ”اے رب! میں نے اپنی قوم کوشب و روز تیری طرف دعوت دی ،میری دعوت سے وہ اور بھاگنے لگے ،جب بھی میں نے ان کو بلایا کہ آپ ان کی مغفرت کردیں، تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں ،کپڑے لپیٹ کر چھپ گئے ،کفر پر اصرار کیا ،تکبر کرتے رہے ،پھر میں نے علی الاعلان دعوت دی،بآواز بلند دعوت دی ،خفیہ دعوت دی، میں نے کہا: مغفرت مانگو رب سے وہ مغفرت کرے گا ،موسلا دھار بارش برسائے گا ۔مال و اولاد میں برکت دے گا ،باغات اور نہریں عطا کرے گا ،تم کو ہوا ہے کیا کہ خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے ،اسی نے تو تمہیں مرحلہ وار پیدا کیا ۔“

                ساڑھے نو سو سال تک اسی طرح اندر باہر ،خفیہ علانیہ ہر طرح قوم کو سمجھاتے رہے ، خود لہولہان ہوتے رہے پھر بھی قوم نہ مانی، تو اللہ کی طرف سے اعلان آیا کہ

                ﴿لَنْ یُّوْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّامَنْ قَدْ آمَنْ﴾

                اے نوح! اب آپ کی قوم میں سے کوئی اورایمان نہیں لائے گا ،جتنے ایمان لاچکے ہیں وہی رہیں گے۔

                اس اطلاعِ خداوندی کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے ایمان والوں پر شفقت فرماتے ہوئے دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ کفارجو اب ایمان نہیں لائیں گے ،یہ اگر زندہ رہے، تو تیرے مومن بندوں کو بہکا کر کہیں ان کو بھی کافر نہ بنادیں ،کہیں وہ بھی کفر قبول کرلیں اور ہمیشہ کے لیے جہنمی بن جائیں، اس لیے ﴿رَبِّ لَا َتذَرْ َعلیَ الْاَرْضِ ِمنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا﴾ رب ذوالجلال! ان کافروں میں سے ایک کو بھی زمین پر زندہ نہ چھوڑ ،یہ تو سب آپ کی خبر صادق کے مطابق ایمان لانے والے نہیں، یہ دوسرں کو بہکا کر اپنی طرح کافر نہ بنالیں۔

                یہ خطرہ ہے، ایمان والوں کے حق میں، یہی بہتر ہے کہ ان ابدی کافروں کو اس روئے زمین سے ہٹا دے، ختم کردے ، اگر آپ نے ان کو چھوڑ ا، تو تیر ے ایمان والے بندوں کو گمراہ کریں گی۔

                ﴿ إِنَّکَ إِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْا إِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا ﴾ (نوح)

                اور خود ان سے جو اولاد پیدا ہوگی چوں کہ یہ ابدی کافر ہیں، تو ان کی کوکھ سے نکلنے والی نسل بھی کافر ہی ہوگی، اس لیے اب ان کفار و فجار کو ہلاک کرنا ہی خیر خواہی ہے #

سمجھ رہا تھا جسے خیر خواہ میں اپنا

وہی ہے دشمنِ جاں میرا سب سے بڑھ کر آج

ایک غلط فہمی:

                سید ابو الاعلیٰ موددی نے حضرت نوح علیہ السلام کی بد دعا کو غلط کہا ہے، پورااوپر کا درج شدہ مضمون پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ کس قدر صابر و شاکر اور مصائب میں الجھ کر مسکرانے والے نبی تھے حضرت نوح علیہ السلام، کہ ساڑھے نو سو سال تک تبلیغِ رسالت میں خون آشام ہوکر بھی فریضہٴ تبلیغ نہ چھوڑا، اور جب اللہ رب العزت نے خود بتلایا کہ اب موجودہ کفار میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا ، تب بھی اہل ایمان پر شفقت و مہربانی کی خاطر وہ جملے فرمائے جس کو بد دعا سے تعبیر کر کے علامہ سید ابو الاعلیٰ مودودی حضرت نوح علیہ السلام کے لیے توہینِ رسالت کی وادی میں قدم رکھنے والے بن جارہے ہیں ، اللہ حضرت علامہ کی لغزش خامہ کو معاف فرمائے، آمین۔

ایک اہم بات:

                امام احمد بن محمد حنبل  نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ ” اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاء ًاا َلْاَنْبِیَاء ُ ، ثُمَّ الصَّالَحُوْن،ثُمَّ الْامْثَل فَالْاَمْثَلْ“ سب سے زیادہ آزمائش انبیائے کرام کی ہوئی، پھرصالحین امت کی، پھر جو لوگ صلاح و تقویٰ میں ان کے زیادہ مشابہ و مماثل ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ”لقد أُخِفتُ فی اللّٰہِ وما یخافُ أحدٌ ولقد أُوذیتُ فی اللہِ وما یؤذَی أحدٌ “ ۔(رواہ الترمذی و ابن ماجہ )

                اللہ کے راستے میں مجھے جتنا ڈرایا گیا، کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کے راستے میں جتنا مجھے اذیت و تکلیف پہنچائی گئی، اتنی کسی اور کو نہیں پہنچائی گئی۔

                آپ سید الانبیاء اور سید الانس و الجن ہیں آپ کی نبوت اصل اور دوسرے انبیاء کی نبوت آپ کے تابع ہے، اصل کا درجہ تابع سے بڑھا ہوا ہوتا ہے ، اس لیے بھی ہمارے نبی کا درجہ انبیائے کرم سے بڑھا ہوا ہے ﴿تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَابَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ﴾(سورة البقرہ)

                خود قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ البتہ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے راستے میں جتنا مجھے ستایا گیا کسی اور کو نہیں ستایا گیا۔ حالاں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی مدتِ تبلیغ ساڑھے نو سو سال ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی مدتِ تبلیغ ۲۳/سال ہے ۔ اس مدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں۱۳/ سال تک اور مدینے میں دس سال تک تبلیغِ رسالت کے سلسلے میں تکلیفیں جھیلنی پڑیں، مکہ میں طائف کا سفر اور وہاں کے لوگوں کا آپ کو ایذا پہنچانا، یہ ساری داستانیں آپ کی ایذا رسانی کی دل خراش اور جاں گسل ہیں ، لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے سامنے تو ۲۳/ سال کی مدت بہت کم ہے، تو کیسے یہ کہنا درست ہوگا کہ مجھے تمام انبیاء سے زیادہ ایذائیں دی گئیں، جب کہ حضرت نوح علیہ السلام جیسا جگر ! کہ آپ اپنی تقریر بند نہ کرتے بل کہ لہولہان ہونے کی حالت میں ہی قوم کو سمجھاناجاری رکھتے ۔

                تو اس خدشے کا جواب یہ ہے کہ مقدار کے اعتبار سے تو بیشک حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہے، لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لطافتِ طبع اور نزاکتِ مزاج بہت زیادہ تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ ایک آدمی کھیت میں کام کرتے کرتے ایسا ہوجاتا ہے کہ اس کے پاوٴں ہر طرح کی تکلیف برداشت کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں، ایڑی کا چمڑا اتنا موٹا ہوجاتا ہے کہ بہت سارے کانٹے چبھنے کے باوجود کچھ احساس نہیں ہوتا۔ لیکن ایک آدمی نازک طبع ہے ، لطیف المزاج ہے ،اس کو ذرا سا بھی کانٹا چبھتا ہے تو تکلیف بہت زیادہ محسو س ہوتی ہے ، تو کیفیتِ احساس میں ہمارے نبی حضرت نوح علیہ السلام سے بڑھے ہوئے تھے جیسے کسان اور دوسرا شخص دونوں میں کیفیتِ احساس کا فرق نمایاں ہوتا ہے ،اس لیے ہمارے نبی کی مقدار مدتِ تبلیغ اگر چہ کم ہے لیکن کیفیت احساس بڑھی ہوئی ہے ، اس لیے ”لقد أُوذیتُ فی اللّٰہِ وما یؤذَی أحد “ کہنا بالکل درست اور قرینِ عقل و خرد ہے۔

                اس بات کو مزید وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے ماضی میں ہمارے اسلاف میں حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں  کی ذاتِ گرامی ہے ، آپ کے اندر لطافتِ طبع اور نزاکتِ مزاج بہت زیادہ تھی ۔ کسی طرح کی بے تربیتی ، عدم نظم و ضبط اور عدم توافقِ مزاج برداشت نہیں کر سکتے تھے، احساس کی کیفیت بہت زیادہ تھی ۔ ایک مرید آپ کے یہاں کچھ زیادہ ہی کھانا کھاتے تھے ، ان کو جب حضرت مرزا صاحب دیکھ لیتے تو طبیعت خراب ہو جاتی ۔ قبض کی حالت ہوجاتی ، مسہل دوا لینا پڑتی۔ایک رات کسی خاتون نے آپ کے لیے عزت و تکریم میں اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا بستر برائے برکت اوڑھنے کے لیے دیا۔ تو رات بھر نیند ہی نہیں آئی، صبح آنکھیں سرخ سرخ نظر آئیں، تو پوچھنے پر معلوم ہوا کہ رات بھر حضرت مرزا سوئے ہی نہیں، وجہ یہ تھی کہ بستر میں دھاگے بے ترتیب اور ٹیڑھے میڑھے ڈالے گئے تھے، جو حضرت مرزا صاحب کی نازک طبع کے خلاف تھے ، اس لیے آپ کو نیند ہی نہیں آئی۔

                معلوم ہوا کہ کیفیتِ احساس بہت بڑھی ہوئی تھی ، اس لیے تکلیف شدید ہوتی تھی، اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی میں احساس کی کیفیت اتنی شدت کے ساتھ پائی جا رہی ہے تو چودہ سو سال پہلے (تقریباً) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نزاکتِ طبع اور لطافتِ افتاد مزاج کتنی شدید رہی ہوگی اور آپ کو لوگو ں کی ایذارسانی سے کتنی تکلیف محسوس ہوتی رہی ہوگی ، اور اسی کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر کا پیمانہ کتنا بڑا ہوگا اور اسی اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجر بھی کتنا زیادہ ملتا ہوگا۔

(مستفاد خطبات حکیم الامت)

معاد اور آخرت:

                اسی اجر و ثواب کے لیے اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجا کہ خدا کے دین کو بندگانِ خدا کو بتلائیں، توحید کا نغمہ سنائیں، رسالت کی عملی تصویر کشی فرمائیں اور مرنے کے بعد والی زندگی یعنی معاد اور آخرت میں اجرِ جزیل دلوائیں، یہی قرآن کریم کا توحید ورسالت کے بعد تیسرا بنیادی مضمون ہے، جس کی خاطر قرآن اترا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ﴿وَلَلْآخِرَةُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْأوْلی﴾آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دنیا سے بہتر آخرت ہے۔ آخرت میں تمام عمال وعقائد، توحید ورسالت کے حقائق کا اجر ملے گا۔ اہلِ جنت ، جنت میں داخل ہوں گے، توحید ورسالت اور آخرت کے منکر کا ٹھکانہ ابدی جہنم ہے، اسی میں داخل ہونا پڑے گا، جس میں ہر طرح کی کلفت ، ہر نوع کا عذاب اور ہر قسم کی سزائیں اور ایذائیں ہوں گے۔

ایک بات اور پتے کی بتاوٴں تجھ کو

آخرت بنتی جائے گی دنیا نہ بنا

ہمیں آخرت میں عامر وہی عمر کام آئی

جسے کہہ رہی تھی دنیا غم عشق میں گنوادی

                اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿بَلْ تُوٴْ ثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا ، وَالْاٰٴخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقیٰ﴾ بل کہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالاں کہ آخرت بدر جہا بہتر اور پائیدار ہے۔ دنیا کی زندگی، اور دنیا کی لذتیں فانی ہیں، آخر ت اور آخرت کی نعمتیں دائمی اور باقی ہیں۔ دنیا کی زندگی بس چار دن کی ہے، اگر اچھے سے نہ گزری تو اندھیری رات میں اندھیرا ہی اندھیرا نظر آئے گا۔ 

عمرِ دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دور آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دنیا کی زندگی کچھ ایسی بے وفا ہے کہ

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

(ساحر لدھیانوی)

                آخرت کی زندگی شروع ہوتے ہی فرشتے آئیں گے، میدان محشر میں جمع ہونے کے وقت ساتھ میں لے کر چلیں گے اور کہیں گے:

                 ﴿نَحْنُ اَوْلِیَاءُ کُمْ فِی الْحَیوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ﴾

                ” ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اوراب آخرت میں بھی تمہارے دوست ہیں۔“

                ﴿تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلاَئکَِةُ اَنْ لَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ ﴾

                ” فرشتے آ آکے کہیں گے ، خوف نہ کرو، غم بھی نہ کرو، جنت کی تمہارے لیے خوش خبری ہے۔“

                قرآنِ کریم کے یہی تینوں مضامین ”توحید،رسالت اور آخرت “ کلیدی مضامین ہیں، جن کی خاطر قرآن اترا ہے، کہ تیرے در پر توحید کے لیے حاضری ہو، میرا دل رسالت محمدی پر فدا ہو اور آخرت کے گھر میں دائمی خوشیاں جاکر میسر ہوں۔ 

ترا در ہو، مرا سر ہو، مرا دل ہو ترا گھر ہو

تمنا مختصر سی ہے، مگر تمہید طولانی