خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں،میں قرآن میں کہاں ہوں؟

                ایک جلیل القدرتابعی اورعرب سرداراحنف بن قیس ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے یہ آیت پڑھی:﴿لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیه ذِکْرُکُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾۔ (سورة انبیاء :10)

                ترجمہ: ”ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے، کیا تم نہیں سمجھتے ہو“۔

                 وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجید تولاؤ۔ اس میں، میں اپنا تذکرہ تلاش کروں اوردیکھوں کہ میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟

                 انہوں نے قرآن مجید کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعریف یہ کی گئی تھی:

                ﴿کَانُوا قَلِیلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ  وَفِی أَمْوَالِھمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ﴾ (الذریات-۱۹،۱۸،۱۷)

                ترجمہ: ”رات کے تھوڑے حصے میں سوتے تھے اوراوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے اوران کے مال میں مانگنے والے اورنہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔

 کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال یہ تھا:

                ﴿تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ﴾۔(السجدہ۔ 16)

                ترجمہ: ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کوخوف اوراُمید سے پکارتے ہیں۔ اورجو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔

 کچھ اورلوگ نظر آئے جن کا حال یہ تھا:

                ﴿وَالََّذِینَ یَبِیتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَقِیَامًا ﴾(الفرقان۔ 64)

                ”اورجو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں“۔

 اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ میں ہے:

                ﴿الَّذِینَ یُنفِقُونَ فِی السَّرَّّاء وَالضَّرَّاء وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ﴾ (اٰل عمران۔ 134)

                ترجمہ: ”جو آسودگی اورتنگی میں (اپنا مال اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اورغصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اوراللہ نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔

 اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت یہ تھی:

                ﴿وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن یُوقَ شُحَّ نَفْسِه فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾(الحشر۔ 9)

                ترجمہ: ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اورجو شخص حرصِ نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہیں“۔

 اور کچھ لوگوں کی زیارت ہوئی جن کے اخلاق یہ تھے:

                ﴿وَالَّذِینَ یَجْتَنِبُونَ کَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہمْ یَغْفِرُونَ ﴾(الشوری 37)

                ترجمہ: ”اورجوبڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اورجب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں“۔

 اور کچھ کا ذکر یوں تھا:

                ﴿وَالَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّہمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُہمْ شُورَی بَیْنَہمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاہمْ یُنفِقُونَ﴾ (الشوری 38)

                ترجمہ: ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اورنمازپڑھتے ہیں اوراپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں اورجو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔

                 وہ یہاں پہنچ کرٹھٹک کررہ گئے، اورکہا: اے اللہ میں اپنے حال سے واقف ہوں، میں توان لوگوں میں کہیں نظر نہیں آتا!پھر انہوں نے ایک دوسرا راستہ لیا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال یہ تھا:

                ﴿إِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّہُ یَسْتَکْبِرُونَ  وَیَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِکُوا آلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ ﴾۔(سورہ صافات۔ 36،35)

                ترجمہ: ”ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں؟

 پھراُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت یہ تھی:

                ﴿وَإِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَحْدَہُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِینَ مِن دُونِهِ إِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴾۔(الزمر۔45)

                ترجمہ: ”اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ،تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل منقبض ہو جاتے ہیں اورجب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے، تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہیں“۔

 کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزرہوا ان سے جب پوچھا گیا:

                ﴿مَا سَلَکَکُمْ فِی سَقَر قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِین وَکُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِینَ  وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّینِ  حَتَّی أَتَانَا الْیَقِینُ﴾ (المدثر۔ ۴۲-۴۷)

                ترجمہ: ”کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتیں بنانے والوں کے ساتھ باتیں بنایا کرتے اورروزِ جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا“۔

          یہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تیری پناہ! میں ان لوگوں سے بری ہوں۔

                اب وہ قرآن مجید کے اوراق کو الٹ رہے تھے اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، یہاں تک کہ اس آیت پرجا کر ٹھہرے:

                ﴿وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِہِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا عَسَی اللّہُ أَن یَتُوبَ عَلَیْہِمْ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیمٌ﴾ (التوبه۔ 102)

                ترجمہ: ”اور کچھ اورلوگ ہیں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا، قریب ہے کہ اللہ ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے“۔

                اس موقع پراُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! یہ بے شک میرا حال ہے!! تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟ سوچیے گا!!