ملفوظا ت وستا نوی
عزیز طلبہٴ کرام ! میرے استاذ حضرت مولانا سید ذوالفقار صاحب نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا :”کہ بیٹا جب کوئی مشکل معاملہ پیش آئے تو سورہٴ قلم کی تلاوت کرو، پھراس کے بعد دعا کرو، اللہ معاملہ آسان کردے گا“ یہ حضرت نے مجھ کو وظیفہ بتایا اورالحمدللہ !میں اس پرعامل ہوں، اور اسی سورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق فرمایا گیا: ” وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ “ قرآن کریم نے آپ کو ایک سرٹیفکٹ دیدیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بلند مرتبہ پرفائزہیں ۔بخاری شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے وقت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو دبوچا اور فرمایا :” اقرأ “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ماانا بقارئ “ پھر فرمایا کہو ” اقرأ “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ما أنا بقارئ “ ، پھر تیسری مرتبہ دبوچاپھر کہا : ﴿اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ، خَلَقَ الِْانْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴾توآپ کی زبانِ مبارک پر یہ آیت جاری ہوگئی اور اس نبیٔ اُمّی نے اللہ کے حکم سے ”اقرأ“ کی آیت پڑھنی شروع کردی ؛ اور آپ پر کپکپی طاری ہوگئی ، کیوں کہ جبرئیل امین ایک بڑی ہیئت میں ظاہر ہوئے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم بشرتو آپ سے اس تقاضہٴ بشری کا ظہور ہونا ہی تھا ۔ آپ پر کپکپی طاری ہوگئی اورآپ غارِ حراسے سیدھے گھر آگئے ، آتے ہی حضرت خدیجہ سے کہا: ”زملونی زملونی “ مجھے کمبل اڑھاوٴ، مجھے کمبل اڑھاوٴ؛پھر حضرت خدیجة الکبریٰؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ آپ نہ گھبرائیں ، آپ کا رب آپ کو نقصان نہیں دے سکتا ۔
با اخلاق رسوا نہیں ہوتا:
” فواللّٰہ لا یخزیک ابداً ؛ انک لتصل الرحم ، وتصدق الحدیث، وتحمل الکل،وتکسب المعدوم وتقری الضیف ، وتعین علی نوائب الحق “کیوں کہ آپ صلی رحمی کرتے ہیں،آپ سچ بولتے ہیں،آپ مجبوروں کمزوروں کی مدد کرتے ہیں،آپ مہمان نوازی کرتے ہیں ، اور حق کے ماروں کا حق دلاتے ہیں،اللہ آپ کو کیسے نقصان پہنچ سکتے ہیں ۔
آپ اماں خدیجة الکبریؓ کے اس تصلی آمیز کلمات میں غور کریں! کہ اماں نے آقاﷺ کے اخلاق کے تعلق سے کیا کلمات کہے یہ پوری حدیث صحیحین میں موجود ہے اسے یاد کرلیں ،اپنی زندگی میں لائیں ، دوسروں تک پہنچائیں۔
